12:48 pm
 سیدھے راستے کی تلاش

سیدھے راستے کی تلاش

12:48 pm

طبہ جمعہ بنیادی طور پر تعلیم القرآن کا ایک فورم ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کا خطبہ جمعہ کے حوالے سے جو معمول تھا اُس کو احادیث میں ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے :آپ ﷺ قرآن کی تلاوت فرماتے تھے اور اس کے ذریعے لوگوں کی تذکیر فرماتے تھے ۔ چنانچہ تذکیر کے لحاظ سے سورۃ الفاتحہ بھی ایک بہت اہم سورت ہے جو نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ اس کا مفہوم ہمارے ذہنوں میں ہونا چاہیے ۔ کیونکہ انسان جب تلاوت کر رہا ہو تو ساتھ اگر اس کا مفہوم بھی ذہن میں واضح ہور ہا ہو تو اس کی افادیت دو چند ہو جاتی ہے ۔ یہ سورت قرآن مجید کی دوسری سورتوں سے ایک مفرد مقام کی حامل سورت ہے ۔ 
 
’’کل شکر اور کل ثنا  اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے۔‘‘
اصلاً یہ دعا ہے۔ اسی لیے سورت کے اختتام پر آمین کا لفظ آیا ہے۔ اسے ہم قرآن مجید کی تمہید کی سورت بھی قرار دے سکتے ہیں۔ جیسے ایک کتاب کے شروع میں پیش لفظ یعنی دیباچہ ہوتا ہے اور اس کے بعد پھر اصل کتاب شروع ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی پہلی سورت سورۃالفاتحہ ہے لیکن پہلا پارہ سورۃ البقرہ سے شروع ہوتا ہے ۔اس لیے کہ سورۃ الفاتحہ قرآن کا جزو ضرور ہے لیکن درحقیقت یہ قرآن کا پیش لفظ ہے۔جو کہ اصل میں ایک دعا ہے جس کے جواب میں پورا قرآن نازل ہوا ۔ یہ دعا ایک سلیم الفطرت انسان کے دل کی پکار ہے ۔
 ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ علم اپنے رسولوں کے ذریعے دیا ۔چنانچہ جو لوگ رسولوں کو ماننے والے ہیں اور ان کی لائی ہوئی شریعت پر اُن کا ایمان ہے تو وہ جانتے ہیں کہ دنیا کے اس امتحان کے بعد اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ۔ لیکن اس سے پہلے سخت حساب کتاب ہوگا اور جو دنیا کے اس امتحان میں پاس ہو جائے گا ، حتمی اورآخرت کی دائمی کامیابی اُسی کو نصیب ہو گی ۔ مگر یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک رسولوںکا پیغام نہیں پہنچا ،ان کا امتحان کس بنیاد پر ہوگا۔ کیونکہ محاسبہ تو سب کا ہونا ہے۔
دنیا سب کے لیے دارالامتحان ہے ۔چنانچہ جن لوگوں تک پیغمبروں کا پیغام اور شریعت کا علم نہیں پہنچا اُن کا امتحان اُن کی اُس فطرت کی بنیاد پر ہوگا جس پر ہر شخص کو پیدا کیا گیا ہے۔ہر شخص کو فطری طور پر اللہ کی معرفت حاصل ہے ۔ اس لیے کہ اللہ نے ہر انسان سے روزازل میں ایک عہد لیا ہے :’’اور یاد کرو جب نکالا آپ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو اور ان کو گواہ بنایا خود ان کے اوپر‘ (اور سوال کیا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔‘‘(الاعراف172:)
اس عہد کی بناء پر ہر شخص کی فطرت میں رب کی پہچان موجود ہے ۔ہر شخص اندر سے جانتا ہے کہ اس کائنات کا ایک رب ہے ، مالک ہے ۔ تبھی جو سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں وہ سوچ بچار کررہے ہوتے ہیں ۔ گوتم بدھ ، جس کے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود تھی مگر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک حقیقت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔وہ حقیقت اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی رب کائنات ہے ۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک اور چیز بھی رکھ دی ہے جو ہمارے محاسبے کی بنیاد ہے اور وہ ایک اخلاقی حس ہے کہ یہ جائز ہے ، یہ ناجائز ہے ۔ یہ حلال ہے ، یہ حرام ہے ۔ کسی کی مدد کرنا ، کسی بھوکے کو کھانا کھلانا نیکی ہے اور کسی کے ساتھ ظلم کرنا ، کسی کی حق تلفی کرنا برائی ہے۔ سچ بولنا اچھی بات ہے جبکہ جھوٹ بولنا غلط ہے ۔اسی طرح اندر ایک ضمیر بیٹھا ہوا ہے جو بتا رہا ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے ۔کسی کا مال ہڑپ کر لیا ، مال تو آگیا مگر اندر سے کوئی کوس رہا ہے کہ یہ تم نے غلط کیا ہے ۔جھوٹ بول کر کوئی فائدہ حاصل کر لیا ،  مگر اندر سے ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ یہ شعور ، تمیز اور پہچان انسان کے اندر رکھنے والا کون ہے ؟اس کا ایک لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی رب ہے جس نے ہمارے ذہن میں اخلاقیات کا ایک تصور بھی ڈالا ہوا ہے اور اسی اخلاقی تصور کے حوالے سے نتائج بھی نکلنے چاہئیں ۔نیکی کرنے والوں کو ان کی نیکی کی جزا ملنی چاہیے اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا ملنی چاہیے ۔
آج کل کس طریقے سے دوسروں کے حقوق غصب کرنے اور ملکی دولت کو ہڑپ کرنے کے لیے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ ہر لیول پر ظلم ہو رہا ہے۔ عدالت میں آپ کو انصاف نہیں ملتا ۔ اگرکوئی مظلوم شخص عدالت میں چلا جائے تو اس کو دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ساری زندگی اُسے رُلنا پڑتا ہے ۔وہ استحصالی طبقہ جو ہمارے اوپر مسلط ہے جس نے ہر طرف ظلم و استحصال کا بازار گرم کر رکھا ہے ، ان کو بھی کوئی پوچھنے والا ہونا چاہیے یا نہیں ؟اسی طرح عالمی سطح پر جو ظلم ہو رہاہے ، ہٹلر نے کتنے بندے مروا دیے اور ابھی امریکہ نے نائن الیون کا ڈرامارچا کر کتنے لاکھ مسلمان مروا دیے اور کتنے بے گناہوں کو گوانتاناموبے کی جیلوں میں اذیتیں دے کر مار دیا ۔ اسی طرح امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر کتنے لاکھ مسلمان عراق میں شہید کردیے اور عراق کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا اور آخر میں صرف Sorryکہہ دیاکہ جس کی وجہ سے ہم نے عرق پر حملہ کیا تھا وہ کیمیائی ہتھیار نہیں ملے ۔ اب جو لاکھوں مسلمان شہید ہوئے ان کا حساب کون لے گا ؟ چنانچہ عقل کہتی ہے کہ محاسبہ ہو ناچاہیے ۔ اندر سے آواز آتی ہے کہ ان ظالموں کو ، ان غاصبوں کو ان کے کیے کی سزا مل کر رہے گی ۔انہیں ایک دن پائی پائی کا حساب دینا پڑے گا ۔اسی طرح کسی شخص نے اگر اصولی زندگی گزاری ہے، بھلائی کے کام کیے ہیں،  خدمت خلق کی ہے تو اندر سے یقین ہے کہ اس کو ان نیک کاموں کی جزاء مل کر رہے گی ۔چنانچہ ایک سلیم الفطرت انسان اپنے غوروفکر سے اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے ۔ ایک تو وہ اللہ کو پہچان لیتا ہے کہ وہ ایک ہی رب ہے، اسی کی قدرت کے نمونے پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اندر سے بھی جانتا ہے کیونکہ باطن میں الست بربکم کی یاد موجو دہے ۔ لیکن اب زندگی کیسے گزارنی ہے اس کی تفصیلی راہنمائی چاہیے۔اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جنہوں نے شریعت کا علم سکھایا ۔قریش مکہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھے،  لیکن چونکہ اڑھائی ہزار سال تک وہاں کوئی نبی نہیں آیا تھا اس لیے پورا معاشرہ جہالت اور گمراہی میں ڈوبا ہوا تھا یہاں تک کہ بیت اللہ میں 360بت رکھے ہوئے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہاں کچھ سلیم الفطرت لوگ موجود تھے جو اپنے حقیقی رب کو پہچانتے تھے اور اس کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے تھے ۔    ( جاری ہے)

تازہ ترین خبریں