12:49 pm
وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

12:49 pm

قدرت جب کسی قوم پر مہربانی کا ارادہ کرتی ہے تو اسے اچھے رہنما عطا کرتی ہے۔ کسی قوم کو ''دیدہ ور'' کا برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو عرصہ دراز کے بعد ایک ایسا رہنما نصیب ہوا ہے جس کی اپنی سوچ' اپنی اپروچ' اپنا ویژن اور اپنا مشن ہے۔ عمران خان وہ رہنما ہیں جو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں۔ وہ مشورہ دینے والوں کے پیچھے چلنے والے نہیں ہیں۔ مشورہ یقینا وہ کرتے ہیں لیکن اپنی سوچ اور اپنے ویژن کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکمرانی کا واضح نصب العین رکھتے ہیں۔ جب وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو بعض نام نہاد مذہبی سیاستدانوں کی طرح جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے یہ بات نہیں کہتے بلکہ ان پر واضح ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نصب العین کیا تھا۔ بروز بدھ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں غربت کے خاتمے کے پروگرام’’احساس‘‘کی تقریب کے دوران انہوں نے اس ضمن میں جو کچھ کہا وہ بہت سے دلوں کو چھو گیا۔ انہوں نے ریاست مدینہ کے حوالے سے اپنی انسپائریشن بیان کی اور کہاکہ  اصل تبدیلی یہ ہے کہ تمام نظام کو اس طرح ڈھالا جائے کہ یہ معاشرے کے غریب اور کمزور افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں مساوی مواقع دے کر اوپر اٹھانے کیلئے بروئے کار آئے۔ یہ ہے ریاستِ مدینہ کی اصل روح۔ 
 
ریاستِ مدینہ کی بات کرتے ہوئے اکثر لوگ دائیں بائیں بھٹک جاتے ہیں اور معروضات چند ظاہری معاملات تک محدود ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت سمجھنے والی بات اور اصل چیز وہ ہے جس کا ذکر وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کیا۔ مدینہ کی ریاست نے معاشرے کے کمزور افراد کو تحفظ فراہم کیا۔ معاشرتی مساوات' یکساں معاشی مواقع' انصاف کی فراہمی' سوشل سیکورٹی اور انسانی حقوق سمیت جو مرضی اصطلاح استعمال کر لیں ان سب کا مجموعی ماحصل یہ ہے کہ ریاست نے ظلم اور جبر کی ہر شکل کا خاتمہ کیا اور مدین النبیﷺ نے پہلی فلاحی ریاست کا نقشہ دنیا میں پیش کیا۔ اسلام کا پیغام بڑا واضح تھا، کسی امیر کو کسی غریب پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ رسولﷺخدا نے فرمایا:’’اللہ قیامت کے دن تم سے تمہارا حسب نسب نہیں پوچھے گا۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے۔‘‘ اسلام نے معاشرے کے کمزور افراد کو ظلم سے نجات دلائی اور ایک عادلانہ معاشرے کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ تھی کہ اسلام کا پیغام دنیا کے جس خطے میں بھی پہنچا' وہاں کے باشندے اس انتظار میں بیٹھ گئے کہ مسلمان ان تک کب پہنچیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جہاں پہنچے انہیں خوش آمدید کہا گیا کیونکہ انہوں نے وقت کے ظالم بادشاہوں' راجوں' مہاراجوں اور سرداروں سے کمزوروں کو نجات دلائی اور ظلم کا خاتمہ کیا تھا۔ آج جو معاشرے عدم مساوات اور ناانصافی پر مبنی ہیں انہیں مسلمان معاشرہ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اسلام تو دین ہی خیرخواہی' مساوات' انصاف اور رحمدلی کا ہے۔ افسوس ہمارے مذہبی پیشوائوں نے قوم کو چند ظاہری معاملات میں الجھا دیا اور ہم اپنی اصل کو بھلا بیٹھے۔ آج کے پاکستان میں جس رہنما نے اسلام کے بنیادی اصولوں کی بابت بات کی ہے اور سوچا ہے وہ صرف عمران خان ہے۔ وہ’’رحمدلی‘‘ کی بات کرتا ہے‘ اس کے پیشِ نظر پاکستان کے پسے ہوئے طبقات ہیں‘وہ سڑکوں پر رات بسرکرنے والوںکو دیکھ کر پریشان ہوتا ہے اور شیلٹر ہوم کا انتظام کرنے کیلئے بے چین ہو جاتا ہے۔ وہ بے گھر افراد کو اپنا گھر دینے کے بارے میں فکرمند ہے' وہ معاشرے کے غریب افراد کو معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے تڑپ رکھتا ہے اور اس کی یہ فکرمندی  ہمیں ’’احساس‘‘ پروگرام کی وجہ بنتی دکھائی دی ہے۔
120ارب روپے سوشل پروٹیکشن کی مد میں رکھنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اپنی گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ (GDP)کا ایک فیصد معاشرے کے غریب اور کمزور افراد کی مدد اور انہیں مساوی مواقع دینے کیلئے استعمال کرے گا تاکہ وہ اوپر اٹھ سکیں۔ وزیراعظم کے سامنے چین کا ماڈل ہے اور وہ اس بارے میں ذکر بھی کرتے ہیں کہ کس طرح عوامی جمہوریہ چین نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھایا اور اس کی بدولت چین میں معاشی انقلاب نے جنم لیا۔
اپنے پیش رو حکمرانوں کے برعکس وزیراعظم عمران خان مسائل کو دلیری کیساتھ ایڈریس کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غربت کے خاتمے کیلئے نمائشی اقدامات کی بجائے انہوں نے باقاعدہ غربت کے خاتمے کی وزارت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئین کے آرٹیکل38(d) کو بنیادی حقوق کے باب میں شامل کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ’’احساس‘‘  پروگرام کے تحت وفاقی حکومت اگلے 4سال میں بیت المال کے ذریعے 10لاکھ بچیوں کی مدد کرے گی اور بی آئی ایس پی کے تحت 57لاکھ خواتین کو سیونگ اکانٹس کے ذریعے مالی مدد فراہم کرے گی جو قابلِ تحسین بات ہے۔ بزرگ شہریوں کیلئے احساس گھروں کا قیام' مزدوروں اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے' ٹیکنیکل ایجوکیشن کی فراہمی' 10ہزار یتیم بچوں کی کفالت' تعلیم اور صحت کیلئے احساس ہومز' مزدوروں کی پنشن میں اضافہ اور لیبرویلفیئر کمیشن کے قیام جیسے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قائم حکومت معاشرے کے کمزور طبقات کی پریشانیوں سے نہ صرف مکمل آگاہ ہے بلکہ ان کے مسائل کے حل کیلئے پوری دردمندی کے ساتھ کوشاں بھی ہے۔ 
ایک صاحب بصیرت رہنما کی حیثیت سے وزیراعظم عمران خان کی اس پہلو پر بھی خاص نگاہ ہے کہ ہمارے بچے متوازن غذا سے محروم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق41 فیصد بچے غذائیت سے محرومی کی وجہ سے مناسب نشوونما نہیں پاسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 50  سالوں میں پاکستانیوں یک قد میں اوسطاً کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ بات ہمارے ماضی کے حکمرانوں کیلئے باعث تشویش کبھی نہیں رہی ہے۔ آج عمران خان یہ بات کہتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ویژنری لیڈر اور ڈنگ ٹپائو لیڈر شپ کی سوچوں میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ وقتی مشکلات کے باوجود عمران خان پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی اولوالعزمی کی بدولت انہوں نے ہمیشہ مسائل اور مشکلات کو شکست دی ہے او ر یقینا وہ اب بھی کامیاب و کامران ہوں گے۔


 

تازہ ترین خبریں