12:50 pm
اقبال اور قرآن

اقبال اور قرآن

12:50 pm

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی رائے میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی رضا سے انسان کو عقل و فہم کی ایسی طاقت بخش کر اسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ نیکی اور بدی، روشنی اور اندھیرے میں تمیزکر کے ان میں جس کو چاہے اختیار کرے ۔انسان کی آزادی خود اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے ۔قرآن حکیم جس زمانہ میں نازل ہوا اس کا خطاب اہل کتاب ہی سے ہو سکتا تھا ۔دیکھ لیجئے اس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کس دعوے سے کہا (مصدقالما معکم)جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کا مصدق۔یہ اس لئے بھی کہ قرآن حکیم نہ صرف حقائق کا جامع ہے بلکہ ان کی تصدیق کا بھی واحد ذریعہ ۔کبھی ایک حقیقت زرتشت کو ملی ،دوسری بدھ کو ۔ایسے ہی اور بھی حقائق ہیں ،وہ انسان کے فہم و ادراک میںذہن انسانی کاگزر ہو رہا تھا ۔لہٰذا جیسے کسی قوم نے کسی حقیقت کو مانا ویسے ہی کوئی افسانہ بھی قبول کر لیا ۔لیکن افسانوں کو تو افسانہ ہی سمجھنا چاہیے ۔انہیں حقیقت پر محمول کرنا غلطی ہے ،افسانے ہمارے دل و دماغ کی اختراع ہیں ۔ان کو وضع کیا گیا تو کسی مطلب کے لئے ۔
 
یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں حقائق کی تصدیق کی وہاں افسانوں کو نظر انداز کر دیا اور اگر نہیں بھی کیا تو اس حد تک ترمیم اور قطع اور برید کے ساتھ کہ ان سے اُن حقائق کی ترجمانی  مقصود ہے ان کی طرف واضح طور پر اشارہ ہو جائے ۔مثال کے طور پر حضرت آدم اورحضرت حوا کا قصہ ہے ۔قرآن حکیم نے اس کے بیان میں ایک نیا انداز اختیار کیا ۔قصہ حضرت آدم جیسا کہ قرآن حکیم میں دو حصوں میں بیان ہوا ہے ،علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ان دو بیانوں کو سامنے رکھ کر جو نتیجہ اخذ کیاہے ا س میں نافرمانی ،گناہ اور سب کے نتیجے میں مایوسی اور زوال کے عناصر کم ہیں ۔اُن کے بر عکس انسان کی آزادی اور اپنے افعال کے نتائج کو بھگتنے اور قبول کرنے کے پہلو نمایاں ہیں ۔اس قصہ میں جس میں جنت کا ذکر ہے ،وہ اُس کااحساس فراغت ہے جو اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے انسان کو نصیب تھی ۔حضرت آدم کا وہ فعل جو ایک طرح سے نافرمانی تصور ہوتا ہے ،اپنے اندر مستقبل کے لئے بے پناہ امکانات رکھتا ہے ۔یہ فعل نافرمانی کے جذبے سے نہیں بلکہ علم او رتجربے کے شوق میں حضرت آدم سے سرزد ہوا ۔قرآن حکیم میں حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ بالعموم اس تمہید سے شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ’’اسماء‘‘ کا علم دیا جو فرشتوں کو حاصل نہ تھا اور آدم اپنے علم کی برتری کی بناء پر مسجودِ ملائک ٹھہرے ۔علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے درخت کا پھل کھانے کو مزید علم حاصل کرنے یا حصول علم میں بے تابی سے تعبیر کیا ہے ۔چنانچہ ابلیس نے انسان کو جس لازوال بادشاہی کی طرف متوجہ کیا ،وہ بھی در اصل انسان کے باطن کا فہم ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اس بے ارادہ سرتابی سے ایک تو اس پر آزادی اور علم کے امکانات منکشف ہوتے ہیں اور دوسرے نسل کی افزائش و استقاء کا دروازہ کھلتا ہے ۔جنس کے بے داغ عمل سے انسان گویا موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے ۔تم مجھے ختم کرنا چاہتی ہو؟ میں تمہارے مقابلے میں اگلی نسل کا لشکر لے کر آئو ںگا۔مگر لطف کی بات یہ ہے کہ اگر قرآن حکیم کسی افسانے کا ذکر نہ کرے تب بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اشارہ کس افسانے کی طرف ہے ۔
علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ یہ نہیں کہتے کہ اے مجاز حقیقت کی شکل اختیار کر کے ظاہر ہو ۔اسلام اور عیسائیت میں یہی بنیادی فرق ہے اگر چہ دونوں انسان کی خودی کی آخری منزل روحانیت میں ڈھونڈتے ہیں ،اسلام مادی دنیا سے گریز نہیں کرتا بلکہ اس کی تسخیر کر کے گوئی بنیاد تلاش کرتا ہے جس پر زندگی کی عمارت بادلوں میں نہیں بلکہ زمین پر کھڑی کی جا سکے ۔ہر کتاب کا ایک موضوع ہوتا ہے ۔قرآن حکیم کا بھی ایک موضوع ہے ’’انسان‘‘ جس کا احاطہ اس نے ہر پہلو سے بحسن خوبی کر لیا ہے ۔مگر پھر لفظ کتاب کے اور بھی توکئی معنی ہیں ۔مثلاً فرض ،قانون ،حکم ۔ان کا لحاظ رکھ لیجئے تو بطور ایک کتاب قرآن حکیم کے اور بھی کئی لطیف پہلو ہمارے سامنے آجائیں گے۔شعور انسانی کی تکمیل کے ساتھ ساتھ بالا ٓخر وہ مرحلہ بھی آگیا ہے کہ زندگی اپنے مقصود کو پالے تو ذات امجدیہ بھی اپنی پوری شان سے جلوہ گر ہو گی ۔حضور رسالت مآب ﷺ تشریف لائے ،باب نبوت بند ہوا ،انسانیت اپنی معراج کمال کو پہنچی اور حضور ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہی ہر اعتبار سے ہمارے لئے حجت ،مثا ل اور نمونہ ٹھہرا ۔اب جتنا بھی کوئی اس رنگ میں رنگتا چلا جائے گا اتنا ہی قرآن حکیم کو سمجھے گا۔ علامہ نیاز الدین خان کو ایک خط میںعلامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :’’ قرآن حکیم کو کثرت سے پڑھنا چاہیے تاکہ قلب محمدی ﷺ سے نسبت پیدا کرے ۔اس نسبت محمدی ﷺ کی تولید کے لئے یہ ضروری نہیں کہ قرآن کے معنی بھی آتے ہوں ۔خلوصِ دل کے ساتھ محض قرأت بھی کافی ہے ۔‘‘علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ مشہور جرمن شاعت گوئٹے کے متعلق  ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ جب اس نے جرمن زبان میں قرآن حکیم کا ترجمہ پڑھا تو اس نے اپنے بعض دوستوں سے کہا کہ ’’جب میں یہ کتاب پڑھتا ہوں تو میری روح میرے جسم میں کانپنے لگتی ہے ۔‘‘ عشق رسول ﷺ اور قرآن حکیم سے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے شخصی عناصر کی تعمیر ہوئی ہے اور اس اجمال کی تفصیل ان اقوال و احوال میں پیش کی جاتی ہے جو مختلف کتابوں میں بکھرے پڑے ہیں ۔لہٰذا ایسی کتاب جس کے فلسفیانہ طرز تکلم کو علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ جیسے صاحبِ حضوری مفکر نے اپنے علم و فن سے اجاگر کیا ۔اس کے نذریعہ امن و محبت کو پروان چڑھایا اور اس سے بڑ ھ کر کسی کتاب کو قابل عمل قرار نہ دیا ۔مغرب کی طرف سے اس کتاب لاریب کی توہین ،چرچوں میں اسے جلایا جانا اور شدت و دہشت سے تعبیر کیا جانا کہاں کا انصاف ہے ؟قرآن حکیم تو معرفتِ ربی کا ذریعہ ہے جبکہ شدت و دہشت تاریکی ۔کاش کبھی مغربی دنیا اللہ تعالیٰ کی اس آخری الہامی کتاب قرآن حکیم کو نظر اقبال سے پڑھتی تو یقینا جھوم جاتی اور عمل کیلئے تیار ہو جاتی۔






 

تازہ ترین خبریں