12:51 pm
بلوچستان و کراچی کیلئے وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج!

بلوچستان و کراچی کیلئے وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج!

12:51 pm

٭بلوچستان اور کراچی کے لئے وزیراعظم کے خصوصی پیکیج، کراچی کا پیکیج گورنر کے حوالےO نئے وفاقی وزیر بریگیڈیئر (ر) اعجاز حسین پر پیپلزپارٹی کے شدید اعتراضات O سمجھوتہ ایکسپریس کا فیصلہ غلط تھا مگر میں مجبور تھا۔ جج جگ ویپ سنگھ O نیوزی لینڈ، شہداء کے لئے دُعائیہ تقریب، 20 ہزار افرادشریک O وفاق نے 44 ماہ میں کسی اجلاس میں نہیں بلایا: وزیراعلیٰ سندھO نوازشریف کے طبی معائنے جاری O مسلم لیگ، پیپلزپارٹی اکٹھے نہیں ہونگے:اعتزاز احسنO وفاقی وزیر خسروبختیار کے خلاف نیب کی تحقیقات O ڈالر 143 روپے پر پہنچ گیا۔
 
٭وزیراعظم نے بلوچستان اور کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں کے پیکیج کا اعلان کیا ۔ان میں گوادر کا ملک کا سب سے بڑا نیا ہوائی اڈا بھی شامل ہے۔ اس ایئرپورٹ کی خاص بات یہ ہو گی کہ آئندہ جنوبی ایشیا اور مشرق بعید سے آنے والے طیاروں کی پروازوں کو مغرب کی طرف جانے کے لئے دبئی کے بجائے گوادر ایئرپورٹ زیادہ موزوں اور سستا پڑے گا۔ بلوچستان کے ترقیاتی کام وفاقی حکومت خود انجام دے گی۔ کراچی میں سرکلر روڈ، روڈ ٹرانسپورٹ اور پانی وغیرہ کی سہولتوں کے لئے بھی اربوں کی امداد دی جائے گی۔ یہ امداد سندھ حکومت کی بجائے گورنر کے ذریعے زیر عمل لائی جائے گی۔ عمران خان نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بھی کراچی میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کے ایک ماسٹر پلان کے لئے اربوں کی امداد کا اعلان کیاتھا۔ یہ ماسٹر پلان بھی وزیراعلیٰ کے بجائے گورنر کے حوالے کر دیا گیا۔ ایسے منصوبوں پر عمل کے لئے بہت سے محکمے اور عملہ درکار ہوتا ہے، گورنر کے پاس صرف گورنر ہائوس چلانے کے لئے چند افسر ہوتے ہیں۔ ان کی مدد سے بڑے منصوبے کیسے چل سکتے ہیں جب کہ صوبائی حکومت کا تعاون بھی شامل نہ ہو بلکہ رکاوٹیں سامنے آتی رہیں، سو انجام یہ ہوا کہ وہ ماسٹر پلان ادھر ادھر غائب ہو گیا۔ اب پھر وہی معاملہ ہے۔ پھر اربوں کے 10 بڑے پروگرام گورنر کے حوالے کئے جائیں گے اور ماسٹر پلان منہ دیکھتا رہ جائے گا۔
٭سندھ کے عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ پانچ چھ سال سے سندھ میں پیپلزپارٹی اور وفاق میں اس کی سخت مخالف ن لیگ اور اب تحریک انصاف کی حکومتیں چل رہی ہیں۔ ان میں کبھی آپس میں کسی مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوا۔ سندھ حکومت کو مسلسل وفاق کی عدم دلچسپی بلکہ مزاحمت کی شکایت رہی ہے۔ گزشتہ روز عین اس موقع پر جب گورنر ہائوس میں وزیراعظم کراچی کے لئے بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کر رہے تھے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ایک ٹیلی ویژن پر خصوصی انٹرویو میں سندھ کے بارے میں وفاق کی ناانصافیوں کی فہرست جاری کر رہے تھے۔ مجھے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی یہ شکائت وزنی اور درست دکھائی دی ہے کہ پچھلے چار ماہ میں وفاقی حکومت کے کسی ایک اجلاس میں انہیں نہیں بلایا گیا، وفاقی حکومت کو اس کا جواب دینا ہو گا۔ بدقسمتی کہ وفاقی حکومت میں سندھ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے وزیر اور دوسرے ارکان سندھ یا کراچی کی خیرخواہی کا کوئی پلان لے کر نہیں آتے بلکہ سندھ کی حکومت کو ناکام بنانے کے منصوبے لے کر آتے ہیں اور پھر سارا وقت اسی طرح گزار دیتے ہیں۔ سندھ میں گورنر بھی حکومت کی کسی مخالف پارٹی کا ہوتا ہے جو حکوومت کے ترقیاتی اور فلاحی کاموں میں تعاون کی بجائے اسے ہرممکن زک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔ عشرت العباد نام کا ایک گورنر 14 برس تک اس عہدہ پر قابض رہا۔ وہ قتل کے ایک کیس میں ملوث تھا، اب بھی ہے۔ گورنر کی حیثیت سے پولیس یا عدالت میں حاضری سے بچا رہا۔ ایک روز رات کے وقت گورنری سے فارغ ہوا تو گورنر ہائوس سے ہی اسی وقت اہل خانہ سمیت دبئی بھاگ گیا۔ اب بھی وہیں روپوش ہے۔ اس کے بعد محمد زبیر نام کا مسلم لیگ ن کا گورنر آیا۔ اس نے گورنر ہائوس میں پیپلزپارٹی کی مخالف پارٹیوں کے اجلاس اور ضیافتیں شروع کر دیں۔ یہ بات اس نے آصف زرداری سے سیکھی تھی جنہوں نے صدر کا عہدہ سنبھال کر ایوان صدر کو پیپلزپارٹی کا صدر دفتر بنا دیا اور وہاں آصف زرداری کی زیر قیادت پیپلزپارٹی کے اجلاس میں اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف منصوبے تیار ہوتے تھے! پنجاب میں بھی کچھ ایسی صورت حال تھی۔ یہاں حکومت ن لیگ کی اور گورنر پیپلزپارٹی کا ہوتا تھا جو حکومت کو چلنے نہیں دیتا تھا! اس غریب ملک کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا ہے!
٭چودھری اعتزاز احسن پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ وفاقی وزیر اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر رہے۔ بعض اوقات ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو خود پیپلزپارٹی کے بعض بزر جمہروں کو پسند نہیں آتی۔ ایک بار صاف کہہ دیا کہ آصف زرداری کو اب سیاست سے الگ ہو کر پارٹی بیٹے بلاول زرداری کے حوالے کر دینی چاہئے۔ یہ بات آصف زرداری کو کیسے ہضم ہو سکتی تھی سو انہوں نے خاموشی سے اعتزاز احسن کو ’’کائونٹر‘‘ کر دیا۔ اب پارٹی کی عملی سیاست میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا جاتا۔ وہ کبھی کبھی پارٹی کے بارے میں اپنی دانش وری کا اظہار کر دیتے ہیں۔ کچھ عرصے سے پہلے پیپلزپارٹی اور ن لیگ بغل گیر ہو گئیں۔ بلاول کو نوازشریف کی بیماری پر سخت تشویش تھی، جیل جا کر عیادت کے ساتھ کچھ معاملات بھی طے کئے، مگر چودھری اعتزاز احسن نے دو ٹوک بات کہہ دی ہے کہ آگ پانی کا ملاپ کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسری طرف ن لیگ کے بزرگ رہنما راجہ ظفر الحق اور احسن اقبال نے پیپلزپارٹی کے ساتھ پِک نِک کی مخالفت شروع کر دی۔ بلاول زرداری کچھ عرصہ پہلے نوازشریف کو صحیح نظریاتی رہنما قرار دے رہا تھا، ن لیگ والوں کی باتیں سنیں تو سیدھے سیدھے کہا کہ نوازشریف کا نظریاتی ہونے سے کیا تعلق ہے؟ نظریاتی تو ہم لوگ ہیں (جس جرنیل نے ذوالفقار بھٹو کا تختہ الٹنے میں ضیاء الحق کی مدد کی اسے اپنے اقتدار کے دور میں جرمنی میں اپنا سفیر بنا دیا، ایک اور جرنیل پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کی ساز باز کرلی)۔ آیئے دوسری باتیں کرتے ہیں۔
٭ایک خبر، مجھے پہلے بھی آ چکی ہے کہ پاکستان چین کو سالانہ 50 لاکھ گدھے برآمد کرے گا۔ چینی لوگ گدھوں کا کیا کریں گے یہ سب لوگ جانتے ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ اس کاروبار سے پاکستان کو تقریباً 50 ارب روپے کا زرمبادلہ حاصل ہو گا جو 100 ارب تک بھی جا سکتا ہے۔ اس خبر کی تفصیل دلچسپ ہے۔ تھڑا سیاست دان علم دین ایسے موقع پر انوکھی دانش بگھارا کرتا ہے، پوچھ رہا ہے کہ جناب کون سے گدھے برآمد ہوں گے، اصلی والے یا…!
٭گزشتہ کالم میں ایک وفاقی وزیر کا ذکر تھا جو سیاست میں آنے سے پہلے چند کروڑ کا عام زمیندار تھا مگر سیاست میں آنے اور دوبار وزیر بننے کے بعد ارب پتی ہو چکا ہے۔ اب میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ خسروبختیار کا نام سامنے آ گیا ہے۔ نیب نے لاہور کے پاس اربوں کے اثاثوں کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ خسروبختیار کے بھی بخت شاہ جہاں پنجاب کے وزیرخزانہ ہیں، وہ بھی نیب کی تحقیقات کی زد میں آ گئے ہیں۔
٭بھارت کے جس جج جگ دیپ سنگھ نے سمجھوتہ ایکسپریس کو آگ لگانے والے ملزموں کو بری کیا ہے، اس نے ایک بیان میں کہا کہ مجھے نہائت دکھ، غم اور رنج کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ اس لئے کہ سرکاری وکلاء نے استغاثہ کا نہائت کمزور کیس پیش کیا جس میں کوئی سزا نہیں ہو سکتی تھی، میں ملزموں کو بری کرنے پر مجبور تھا!
٭بجلی، گیس، گھی، چینی، سبزیوں، دالوں کی ہوش ربا مہنگائی کے ساتھ اب پٹرولیم کی قیمتوں میں لرزہ خیز اصافہ! بے چارے پسے ہوئے عوام اس حالت تک پہنچ گئے ہیں کہ کہاوت کے مطابق بعض اوقات اونٹ پر بوجھ میں ایک تنکے کا اضافہ بھی اس کی کمر توڑ دیتا ہے۔!
 

تازہ ترین خبریں