08:34 am
امریکہ اور افغانوں کا کاندھا :بھارت کی بندوق !

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا :بھارت کی بندوق !

08:34 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب ابتدائی طور پر امریکہ نے افغانستان میں شمالی اتحاد کی حکومت تشکیل دی تو بھارت نے بالخصوص(اور کم ازکم ابتدائی طور پر) شمالی اتحاد کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات بحال کیے۔ بھارت نے جنگی محاذ پر امریکہ اور آئی ایس اے ایف کو مصروف رہنے دیا اور خود افغان انٹیلی جینس انفرااسٹرکچر سے روابط پیدا کیے،’’ادارتی تعاون‘‘ کی آڑ میں افغان بیورکریسی میں سرمایہ کاری کی جس کا موازنہ امریکیوں کے کیے گئے اخراجات سے کیا جاسکتا ہے۔ اداروں کی تعمیر کے پردے میں بھارتی ’را‘ نے افغان انٹیلی جنس ادارے خود کو اپنے قابو میں کر لیا۔ یہ پاکستان مخالف پالیسی کو فروغ دینے کا بہتری موقع تھا۔ اس کے نتیجے میں 1)پاکستان کے خلاف جعلی انٹیلی جنس رپورٹ پھیلائی گئیں2) ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پناہ دی گئی 3) جب پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو ٹی ٹی پی کو ہتھیار، سرمایہ اور بارود فراہم کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ مزید یہ کہ کراچی اور پشاور میں ہونے والے حملوں میں بھارت پوری طرح ٹی ٹی پی کے ساتھ ملوث رہا۔ یہ نوے کی دہائی میں کراچی میں خاد اور را کی مشترکہ سازش سے ہونے والے دھماکوں کا تسلسل ہی تھا۔ 
 
اس افراتفری میں جو فوائد افغان طالبان کو حاصل ہوسکتے تھے وہ افغان طالبان یا ٹی ٹی پی تک منتقل ہونے لگے۔ پشاور میں سکول  اور کراچی میں مہران بیس حملے اس کی بڑی مثالیں ہیں اور ان دونوں کارروائیوں کے ڈانڈے افغانستان سے ملتے ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ہائیبرڈ وار کے ان ہتھکنڈوں کو سادہ لفظوں میں یہ کہہ کر بیان کردیا تھا کہ یہ ’’کانٹے سے کانٹا نکالنا‘‘ ہے۔ جس کا مفہوم تھا دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے دہشت گردوں کا استعمال۔ اس سلسلے میں غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹی ٹی پی کے سربراہ حکیم اﷲ کے نائب لطیف اﷲ آفریدی کو افغان انٹیلی جنس کے ساتھ صدر کرزئی سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے امریکی اسپیشل فورس نے گرفتار کیا۔ ٹی ٹی پی کا یہ اہم لیڈر پاکستان کے ساتھ کیوں لڑ رہا تھا، اس کا کرزئی سے بات کرنا ضروری کیوں تھا؟ پھر لیفٹیننٹ کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے لیے افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کس نے دے رکھی تھی؟ 
افغانستان میں جنگ کے دوران ہزاروں افغان، سیکڑوں امریکی اور مغربی ممالک کے فوجی جان سے گئے، اس کے علاوہ غیر معمولی معاشی بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔ بھارت نے اس صورت حال میں جنگ سے علیحدہ رہتے ہوئے اپنے مقاصد کے لیے ان حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا جب کہ  سب سے زیادہ افغانوں اور امریکیوں کا خون بہا۔ مزید برآں بھارت طالبان کے ساتھ کشمیری مزاحمت کو بھی دہشت گردی کے ایک ہی دائرے میں دکھانے میں کامیاب ہوا، اس سے بھارتی فوج کے کشمیر میں جاری مظالم کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان کے سر منڈھ دیا۔ یہ ہائیبرڈ وار فیئر کی بڑی واضح مثال ہے، اس کے دوران دہائیوں تک کائنٹک اور نان کائنٹک ذرائع سے بالواسطہ اور بلاواسطہ مداخلت کے ذریعے اثر و رسوخ کا دائرہ بھی وسیع کیا گیا اور کوئی نقصان بھی نہیں اٹھانا پڑا۔ 
بھارت کے اچھے دن ختم ہونے والے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد امریکہ کی پالیسی میں آنے والی تبدیلی اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے حالیہ فیصلے کے بعد پورا منظر نامہ تبدیل ہونے جارہا ہے۔ افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کے براہ راست امن مذاکرات نے یکسر نئی صورت حال پیدا کردی اور بھارت کی افغان پالیسی دھری کی دھری رہ گئی۔ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جسے افغانستان کے امن سے کوئی دلچسپی نہیں، اس کے برعکس وہ وہاں کشیدگی کا تسلسل چاہتا ہے کیوں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں قائم ہونے والے امن کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا موقع نہیں ملے گا اور افغانستان میں طالبان سے بڑے سیاسی قوت تسلیم کرلیے جائیں گے۔ افغانستان میں اپنے کردار پر اصرار کرنے کی روس کی تبدیل شدہ پالیسی بھارت کی نظر میں ایک اور بڑا خطرہ ہے کیونکہ روس اب خطے میں امریکی رسوخ محدود کرنے کی ٹھان چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور روس کی قربت بڑھی اور روس نے افواج کے انخلا کے لیے امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات کی بھرپور حمایت کی۔ اس تبدیلی نے افغانستان میں بھارتی عزائم کو بری طرح ناکام بنا دیا۔ اور اگر کہانی کو انجام تک پہنچانا ہوتو یہ تذکرہ کرنا پڑے گا کہ ایران بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی لے کر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر حالات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوں گے۔ بھارت کو امن مذاکرات سے دور رکھا گیا ہے کیوں کہ اس کے خود غرضانہ عزائم اب دوسروں پر بھی واضح ہوچکے ہیں۔ اس میں ایک اور اہم نقطہ قابل غور ہے کہ امریکی انخلا کے بعد قائم ہونے والی حکومت کو یہ ضمانت دینا ہوگی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کا براہ راست اثر بھارت کی افغان پالیسی پر ہوگا۔ 
ان تبدیلیوں کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ خطے میں ہائیبرڈ جنگ کا خاتمہ ہونے جارہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو مستقبل میں بھارتی اقدامات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سلامتی کے لیے روایتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عالمی تبدیلیوں اور خطے میں طاقت کے توازن میں ہونے والے تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے جدید تصورات اور خطوط پر مبنی خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ عالم گیریت کی ڈور میں بندھی اور جوہری ہتھیاروں سے لیس دنیا میں ، چاہے علاقائی ہو یا عالمی، کسی بھی تنازعے کا حل آخرکار سیاست ہی سے نکلتا ہے۔ کائنٹک اور نان کائنٹک ذرائع سے خطے میں ہائیبرڈ وار کے کئی محاذ کھولے جاسکتے ہیں، ماضی میں بھارت نے  جس طرح پاکستان کو نشانہ بنایا گیا لیکن افغانوں کی زمین اور امریکیوں کا جان و مال استعمال ہوا۔ اب بھی اگر بھارت کو براہ راست کوئی جانی و مالی نقصان اٹھائے بغیر پاکستان کے خلاف کوئی پراکسی جنگ چھیڑنے کا موقعہ ملا تو وہ ایک لمحہ انتظار نہیں کرے گا۔ (فاضل کالم نگاری سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 


 

تازہ ترین خبریں