08:38 am
پشاور بس سروس!ایک اور المناک کہانی!

پشاور بس سروس!ایک اور المناک کہانی!

08:38 am

٭پشاور تیز بس سروس: تجوریاں بھر گئیں، بس نہ چلی، اذیت ناک سکینڈل،O آصف زرداری کے 9 ساتھیوں کے خلاف ریفرنس، ایک نے 60 کروڑ کا پلاٹ واپس کر دیا O اسلام آباد کا نیا ہوائی اڈہ، غیر معیاری ہے۔ سیکرٹری ہوا بازی O آزاد کشمیر کے لئے خوش خبری، پیدا ہونے والی بجلی پرایک روپیہ 10 پیسے فی یونٹ رائلٹی کا اعلان، اربوں کی آمدنی O سونا 73 ہزار تولہ O پنجاب: وزراء کی 77 نئی گاڑیاں مسترد O نوازشریف: رہائی کے 9 دن، کوئی علاج نہیں O پنجاب میں ستمبر اکتوبر میں نئے انتخابات۔
 
٭الزامات! پشاور شہر میں وسیع پیمانہ پر اس بہیمانہ لوٹ کھسوٹ کے بارے میں بہت کچھ چھپ رہا ہے۔ چند مختصر باتیں پڑھئے: پختونخوا حکومت نے 17 ماہ پہلے پشاور میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی کی طرز پر شہر کے مختلف حصوں کے درمیان 27 کلو میٹر طویل بس روٹ پر 255 جدید بسیں چلانے کا منصوبہ بنایا۔ اخراجات کا تخمینہ 41 ارب روپے تھا۔ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا۔ 88 فیصد سرمایہ ایشیا ئی ترقیاتی بنک نے دینا تھا۔ اور اب 17 ماہ کے بعد، سارا منصوبہ ادھورا پڑا ہے۔ لاگت 41 ارب سے 56 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، 255 میں سے 220 بسیں 11 ماہ پہلے سڑک پر آ جانی چاہئے تھیں، مگر اب، 17 ماہ کے بعد بھی صرف 20بسیں آ سکی ہیں، 27 کلو میٹر روٹ پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہیں، سیوریج مکمل نہیں۔ ناقص تعمیر کردہ بیشتر سٹیشن اجڑے پڑے ہیں،بجلی کا نظام ادھورا ہے۔روٹ پر ایک کسی باقاعدہ منظم تعمیر کی بجائے ایک ڈھانچہ دکھائی دے رہا ہے۔ ایشیا ئی بنک والے چیخ رہے ہیں کہ ان کا اربوں کا سرمایہ ڈوب رہا ہے۔ ابھی تک ٹکٹوں کا کوئی نظام قائم ہو سکا۔ 56 ارب روپے کہاں گئے؟ ۔کوئی ریکارڈ بھی نہیں۔ میڈیا والے شور مچاتے مچاتے تھک گئے۔ اسمبلی کی قراردادیں بھی  آ گئیں، غریب عوام کا سرمایہ ضائع ہو گیا البتہ بہت سی تجوریاں بھر گئیں! یہ تجوریاں پنجاب، بلوچستان، سندھ میں ہوں یا پختونخوا میں! سب کا سائز ایک جیسا ہے۔ ایک بات یہ بھی کہ پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اس اذیت ناک سکینڈل کا جوازپیش کرتے ہیں کہ بینک نے ساری تاخیر کی ہے، وہ بار بار اس منصوبے میں ترمیم کر دیتا تھا، اور بنک کہہ رہا ہے کہ یہ الزام بالکل غلط ہے، بنک نے بالکل کوئی ترمیم نہیں کی، بلکہ خود وزیراعلیٰ (پختونخوا تاریخ کے امیر ترین وزیراعلیٰ) نے دوبار ترامیم بھیج دیں، ایک یہ تھی کہ اتنے بڑے منصوبے میں سیوریج کا کوئی ذکر ہی نہیں اور یہ کہ بعض مقامات تنگ ہیں، ٹریفک پھنستی رہے گی۔ ان ترامیم کے باعث بار بار منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا چلا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پہلے یہ سب کچھ کیوں نہ دیکھا؟ ستم یہ کہ یہ اب بھی ادھورا اور ناقابل استعمال ہے! پشاور کے 30 لاکھ عوام کی آمدورفت اور ٹریفک میں سخت رکاوٹ بنا ہوا ہے! روز نوحے لکھتا لکھتا تھک گیا ہوں، کوئی حد بھی ہوتی ہے!
٭قارئین کرام! مجھے یاد نہیں رہا، شائد آپ کو یاد ہو کہ ملک میں اس وقت کتنی درجن یا کتنے سو مختلف چھوٹے بڑے افراد کرپشن کی زد میں عدالتوں میں نیب کے ریفرنسوں کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ ان میں دو بڑے نام، آصف زرداری اورنواز شریف، نمایاں ہیں۔ آصف زرداری کے کسی نہ کسی فرنٹ مین، کسی معاون، کسی کنجی بردار کے نیب کے ہتھے چڑھنے کی خبر آ جاتی ہے۔ کیسے کیسے نام سامنے آ چکے ہیں، عاصم حسین، عزیر احمد کا، بابا لاڈلا، رائو انوار، ایان علی، اومنی گروپ کا چیف فنانس افسر محمد اسلم، گروپ کا سربراہ انور مجید، اس کے بیٹے! اور بہت سے دوسرے افراد! اور اب اک دم 9 افراد کے خلاف کرپشن کے ریفرنس! ان میں سے آصف زرداری کے ایک ’’کارخاص‘‘ قسم کے پارٹنر یونس کو ڈوادی نے 60 کروڑ روپے کا ایک مقبوضہ پلاٹ واپس کر دیا ہے! دبئی میں ایک فرنٹ مین عارف حسین بھی پکڑا گیا ہے۔ آصف زرداری کی تو اب بھی ہنستے رہنے کی خبریں آتی رہتی ہیں، پتہ نہیں اپنے والد کے بارے میں ہر روز ایسی خبروں پر بیٹے بلاول کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟
٭اب دوسرا نام! میاں نوازشریف! میاں صاحب جیل میں تھے تو ہر روز بیٹی مریم نواز کا بیان چلتا تھا کہ والد کی حالت تشویشناک ہو گئی ہے، ان کا علاج نہیں ہو رہا۔ پانچ میڈیکل بورڈ بنے، ایک جیسی رپورٹیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ مریم نواز مطمئن نہیں ہوتی تھی۔ بالآخر والد 6 ہفتے کے لئے رہا ہو کر گھرآ گئے۔ اب 9 دن گزر چکے ہیں، دو تین رسمی معائنے ہوئے ہیں، علاج کوئی نہیں۔ خدا کرے کوئی بیماری دریافت نہ ہو! مگر یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی 22 کروڑ کی پوری آبادی میں صرف ایک شخص بیمار ہے!
٭قارئین کرام! آصف زرداری اور نواز شریف کی بے حد و حساب دولت کے بارے میں بہت سے حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ دہرانے کا وقت نہیں۔ مجھے ایسے ہی 1830ء میں پیدا ہونے والا ایک عجیب و غریب شاعر، نظیر اکبر آبادی یاد آ گیا ہے۔ ایسے زمانے میں جب ہمارے تمام شاعر صرف گل و بلبل اور محبوب کی آنکھوں اور زلفوں میں قید تھے، نظیر اکبر آبادی عام انسانوں کے جیتے جاگتے قصے سنا رہا تھا۔ اسے اس کی انسان شناسی پر اس وقت کے شاعروں نے شاعر تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ یہ داستان دلچسپ مگر لمبی ہے۔ نظیر اکبر آبادی کسی سے مخاطب ہوتا ہے تو اسے ’میاں‘ کہ کر بات کرتا ہے۔ اس کی ایک مشہور نظم ’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد چلے گا بنجارا!‘‘ کا صرف ایک بند پڑھئے:
’’ٹُک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے، دن رات بجا کر نقّارا
کچھ کام تیرے نہ آوے گا یہ لعل و زمرد، سیم و زر
جو پونجی ہاتھ سے بکھرے گی پھر آن بنے گی جاں اوپر
نقارے، نوبت، بان، نشان، دولت حشمت، فوجیں، لشکر
کیا مَسند، تکیہ، مُلک، مکاں؟ کیا کُرسی چوکی، تخت، چھپر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارا
٭میں نہائت دل سوزی کے ساتھ ایک پرانے ساتھی کا ذکر کر رہا ہوں۔ اعلیٰ عہدوں پر عوام کی طویل معاشرتی اور فلاحی خدمات انجام دینے والا یہ نہائت دیانت دار اور نیک نام شخص اس وقت لاہور کے ایک بڑے ہسپتال میں کس مپرسی کے عالم میں آکسیجن، ڈرپوں وغیرہ کے ساتھ نیم بیہوش پڑا ہے۔ انتہائی دیانت دارانہ ملازمت اور خدمت کا اجر تو کچھ نہ ملا گھر میں شدید غربت نے ڈیرے ڈال لئے۔ انتہائی پریشانی اور اذیت کے عالم میں دل اور گردوں کی اذیت ناک بیماریوں نے لپیٹ میں لے لیا۔ گھر میں مسلسل فاقے، ایک روز وہ ہسپتال میں پہنچ گیا۔ بے ہوشی سے پہلے ایک لرزہ خیز جملہ کہا کہ ’’مفلسی توبہت دیکھ لی اور موت کو دیکھنے جا رہا ہوں!‘‘ اس نیک نام نامور شخص کا نام اور گھر وغیرہ کا پتہ نہیں بتا سکتا۔ اس کا علاج تو ہو رہا ہے، اس کے گھریلو ناگفتہ بہ حالات کی اگر کوئی مدد کرنا چاہے تو میرے ساتھ ہسپتال چلے چلیں، میرے نمبر 0333-4148962 پر رابطہ کر لیں۔ 
٭ہوا بازی کے سیکرٹری نے بیان دیا ہے کہ اسلام آباد کا نیا ہوائی اڈا واقعی بین الاقوامی معیار کا نہیں۔ اس میں بہت سے نقائص باقی رہ گئے ہیں۔ غسل خانوں کی تعداد بہت کم ہے، دوسرے انتظامات بھی نامکمل ہیں۔ اس ہوائی اڈے کی تعمیر پرجان بوجھ کر کئی برس کی تاخیر کی گئی اور اربوں کمائے گئے پھر بھی یہ حال کہ پہلی بارش پر ہی چھتیں ٹپک پڑیں۔ ایک اور ماتم ایک اور نوحہ!
وزیرخزانہ کا بیان ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور پنجاب اسمبلی کی عیاشیاں! پہلے اپنے ارکان (372) کے لئے خود ہی تقریباً 48کروڑروپے کی اضافی تنخواہیں منظور کر لیں۔ اب وزراء (تقریباً 42) کے لئے77 نئی قیمتی گاڑیوں کا مطالبہ آ گیا! (20 کروڑ روپے)اس پر فی الحال عملدرآمد رک گیا ہے مگرمغل بادشاہوں کے یہ وارث یہ لوگ کب باز آئیں گے! مال مفت دل بے رحم!
 

تازہ ترین خبریں