09:11 am
قوموں کی زندگی اور موت کا الٰہی قانون

قوموں کی زندگی اور موت کا الٰہی قانون

09:11 am

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور دارالجزاء آخرت ہے۔یہاں ہر شخص کو بھی اور ہر قوم بھی مہلت دے دی گئی ہے۔یہاں امتحان یہ ہے کہ یہاں آنے والے حالات میں کوئی انسان یا قوم کیا روش اختیار کرتی ہے،اللہ کی فرمانبرداری یا نافرمانی کی۔جو کچھ بھی وہ کریں گے
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور دارالجزاء آخرت ہے۔یہاں ہر شخص کو بھی اور ہر قوم بھی مہلت دے دی گئی ہے۔یہاں امتحان یہ ہے کہ یہاں آنے والے حالات میں کوئی انسان یا قوم کیا روش اختیار کرتی ہے،اللہ کی فرمانبرداری یا نافرمانی کی۔جو کچھ بھی وہ کریں گے اس کا نتیجہ آخرت میں نکلے گا۔لیکن افراد کے معاملے میں کبھی کبھی مکافات عمل اس دنیا میںبھی سامنے آجاتا ہے۔ یہ دنیا اصلاً دارالجزا نہیں ہے۔یہ دارالعمل اور دارالامتحان ہے۔
اصل جزا و سزا آخرت میں ہوگی۔البتہ مسلمان قوم کے ساتھ اللہ کا ایک خاص معاملہ ہے۔مسلمان دنیا میں اگر اللہ، رسول ، کتاب اور اس کے دی کے ساتھ وفاداری اور خلوص واخلاص کامعاملہ کریں تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انہیں سربلندی اور فراوانی عطا فرمائے گا۔’’تم ہی غالب رہوگے بشرطیکہ مومن ہو۔‘‘(آل عمران)۔لیکن اگر مسلمان قوم بحیثیت مجموعی اللہ کے دین سے بیوفائی کرے تو ایک عذاب کا سایہ اسی دنیا میں ان پر مسلط کردیا جاتا ہے۔وہ ذلت ومسکنت کا عذاب ہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن حکیم) کی بدولت کئی قوموں کو عروج و سربلندی عطا فرمائے  گا اور اس کو چھوڑ دینے کی پاداش میں کچھ دوسری قوموں کو ذلیل و رسوا کرے گا۔‘‘ اصل میں ہر فرد کا حساب تو آخرت میں ہونا ہے لیکن پوری قوم کو نافرمانی کی سزادنیا میں بھی ملتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ اسی طرح غیر مسلم اقوام کو دنیا میں چھوٹ زیادہ ملتی ہے۔لیکن جب وہ فتنہ و فساد کی آخری انتہاتک پہنچ جائیں تو اللہ تعالیٰ اہل حق کے ذریعے شر کی قوتوں کا قلع قمع کردیتا ہے۔یہ بھی اس کی سنت ہے۔فرمایا ’’اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے ذریعے بعض کو دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔(سورہ بقرہ۔۲۵۱) ۔اسی طرح سے تمام تہذیبیں قوم عاد و ثمود، آل فرعون و قوم لوط وغیرہ تباہ ہوئیں۔اس کے بعد بھی اللہ کے عذاب کی جھلکیاں نظر آتی رہی ہیں۔دنیا کی تاریخ کا آخری حصہ جس سے ہم گزررہے ہیں ، اس میں شیطانی قوتیں بھی کلائمکس پر پہنچ جائیں گی اور فتنہ و فساد بھی انتہا درجے کو پہنچ جائے گا اور یہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ گلوبل ہوگا۔لیکن متذکرہ بالا آیات میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ان کا بھی ایک انجام ہے۔جب فساد کی انتہا ہوجائے تو پھر اللہ کی طرف سے عذاب کا کوڑا آتا ہے۔یہ کیفیت ہمیشہ نہیں رہے گی۔اللہ تعالیٰ کا اپنا ضابطہ ہے جو بالکل صاف نظر آرہا ہے۔
     خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
جن لوگوں نے دین کی الف ب تک کامطالعہ نہیں کیا ‘وہ آج قرآن پاک کی آیات کی تاویلات کررہے ہیں۔لہٰذا سزا تو ملنی ہے۔وہ دین حق جس کی ہم گن گاتے ہیں ،عادلانہ و منصفانہ نظام جس میں انسانوں کو اپنے حقوق بہترین شکل میں ملتے ہیں ، ہم نے طے کرلیا ہے کہ ہم خود اس سے محروم رہیں گے۔اس دین کو اپنے ہاں نافذ نہیں کریں گے۔یہ دین سے غداری نہیں تو اورکیا ہے۔اس کی سزا ہے جو ہمیں مل رہی ہے۔لیکن ان شاء اللہ وقت بدلے گا۔
آج بھی گر ہو براہیم کا ایماں پیدا    
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
آج بھی اگر ہم یہ ایمان حاصل کرلیں کہ دنیا کی کسی طاقت کی کوئی اہمیت نہیں ہے،قوت و اختیار کا مالک اللہ ہے تو اس کا وعدہ ہے کہ تم ہی غالب رہوگے اگر تم نے ایمان کے تقاضے پورے کئے۔
قوم عاد کے بارے میں لگتا تھا کہ اس تہذیب پر تو کبھی زوال آئے گا ہی نہیں۔قوم ثمود اور آل فرعون کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا اس میں تمہارے لئے عبرت نہیں۔آج تم سمجھے بیٹھے ہو کہ امریکہ ہی داتا ہے۔اس کے آگے سجدہ ریز ہونے میں حکمت و مصلحت ہے۔تم نے اس کو رب مان لیا۔لیکن ہمارا ایمان ہے کہ حالات بدلیں گے اور بالآخر اہل حق کی اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔اسلا م کا خورشید پورے روئے ارضی پر طلوع ہوگا ۔ اس وقت کے آنے سے پہلے جن حالات سے ہم گزررہے ہیں ،ان میں ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارا رول کیا ہو کیونکہ دنیا کے جوحالات جارہے ہیں ، جو انتشار ، بدامنی ، قحط و زلزلے ہیں ، ان کے پیچھے انسان کے اعمال کا دخل ہونا ہے ۔’’بر و بحر میں فساد رونما ہوگیا ہے لوگوں کی کرتوتوں کے باعث۔‘‘(سورہ روم۔۴۱)
اس سلسلے میں سنن ابن ماجہ (کتاب الفتن ،باب العقوبات ) کی آنکھیں کھول دینے والی حدیث مبارکہ ہے۔حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ مہاجرین سے خطاب کرتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ پانچ گناہ ایسے ہیں کہ اگر تم ان کو میں مبتلا ہوگئے اور ساتھ ہی حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہولیکن اگرمبتلا ہوگئے تو کیا ہوگا فرمایا کہ جب کسی قوم میں کھلم کھلا بے حیائی کا ارتکاب ہونے لگے تو پھر ان میں طاعون اور وہ نئی نئی بیماریاں پھیل جاتی ہیں کہ جن کا انہوں نے نام بھی نہیں سنا ہوتا۔جن کا ذکر اسلاف میں اور سابقہ کتب میں نہیں ملتا۔اور اگر ناپ تول میں کمی ہونے لگے ، ملاوٹ وغیرہ ہو تو وہاں اللہ تعالیٰ قحط کے ذریعے اس قوم کو پکڑ لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں سخت حالات سے دو چار کردیتا ہے اور جابر سلطان کو ان پر مسلط کردیتا ہے۔ایک دعا میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ پروردگا ر ہم پر ایسے جابر و ظالم حکمراں نہ مسلط کردیجیو جو انصاف سے کام نہ لیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی قوم میں کرپشن آجائے۔ اس حدیث کو پڑھیں اور اس کے حوالے سے اپنی قومی زندگی کا جائزہ لیں۔آگے فرمایا ’’جب کوئی قوم زکوٰۃ دینا چھوڑ دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش روک لیتا ہے یعنی اس صورت میں خشک سالی کا عذاب آتا ہے۔اور اگر جانور اور چوپایوں کا خیا ل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بارش بالکل ہی نہ برسائے۔اس کی وجہ سے تمہیں کچھ نہ کچھ حصہ مل جاتا ہے اور اگر کوئی قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑدے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر بیرونی دشمن مسلط کردیتا ہے جو ان سے سب کچھ چھین لیتا ہے۔عہد شکنی کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مسلمان قوم شریعت نافذ نہ کرے۔خاص طور پر پاکستان کے مسلمانوں نے ایک عہد شکنی کی ہے کہ اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اے پروردگار! اگر تو ہمیں ایک الگ خطۂ زمین عطا فرمادے تو ہم وہاں حقیقی اسلام نافذ کریں گے۔ ایک نمونے کی فلاحی اور اسلامی ریاست قائم کرکے دنیا کو دکھادیں گے کہ یہ ہے اصل اسلام۔اس عہد کو توڑنے کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر دشمن مسلط کردیا ہے۔ان چیزوں سے اللہ کے رسول ﷺ نے چودہ سو سال پہلے خبردار فرمادیا تھا۔
اس آئینے میں ہم اپنی تصویر دیکھیں۔فرمایا ‘’اگر مسلماں حکمرا ں اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کو اختیار نہ کریں تو اللہ ان کے مابین جنگ ڈال دے گا۔‘‘ اس کی بیشمار شکلیں ہیں ۔وہ فرقہ وارانہ ہوں، علاقائی ہوں یا لسانی عصبیتیں ہون ۔ان جھگڑوں میں ہم آج پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ اللہ کی شریعت کو نافذنہ کرنے کی سزا ہے۔اپنے اعمال کے نتائج ہم دنیا میں بھی بھگت رہے ہیں اور اصل پکڑ تو اللہ کے ہاں ہونی ہے۔
سورۃ البقرہ میں یہ تنبیہ موجود ہے کہ اگر دین کے حصے بخرے کئے تو دُنیا میں بھی رسوائی مقدر بنے گی اور آخرت میں بھی شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یعنی کچھ باتوں پر تو عمل ہے اور کچھ کے بارے میں طے کرلیا کہ ان پر تو عمل ہو ہی نہیں سکتا ۔حضور ﷺ نے اس ذلّت اور رسوائی کی پانچ شکلیں بیا ن فرما دی ہیں ۔لیکن یہ اصل سز ا نہیں ہے۔ بلکہ ارشاد ہے:’’اور قیامت کے دن ایسے لوگوں کو شدید ترین عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ان حالات کو دیکھ کر اپنا جائزہ لو۔اگر آخرت کو ، اللہ کو ، اس کے رسول ﷺ کو اور اس کی کتاب کو مانتے ہو تو اپنا قبلہ دُرست کو لو۔دُنیا میں بھی اللہ کی رحمت شاملِ حال ہو گی اور اخروی کامیابی بھی اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا۔    



 

تازہ ترین خبریں