09:14 am
جنگ تھمی ہے‘ رکی نہیں!

جنگ تھمی ہے‘ رکی نہیں!

09:14 am

قصہ یوں ہے کہ نائن الیون کے بعدبھارت نے امریکہ کی گودمیں بیٹھ کرافغانستان کوٹارگٹ بنا کرجو سرمایہ کاری کی تھی‘اس کاایک مقصدبھارتی ہندوؤں کی مکاری کی علامت چانکیہ سیاست کے اصول کے مطابق دشمن کے پڑوسیوں کوبھی دشمن
قصہ یوں ہے کہ نائن الیون کے بعدبھارت نے امریکہ کی گودمیں بیٹھ کرافغانستان کوٹارگٹ بنا کرجو سرمایہ کاری کی تھی‘اس کاایک مقصدبھارتی ہندوؤں کی مکاری کی علامت چانکیہ سیاست کے اصول کے مطابق دشمن کے پڑوسیوں کوبھی دشمن بنانا ،پھراس کونیست ونابودکرناہے۔جنرل محمدضیاء الحق نے روس کی افغانستان میں جارحیت کے مرحلہ میں یہ پلان ترتیب دیاتھاکہ روس کی جوشکست یقینی تھی‘ کے بعدافغانستان اورپاکستان مسلم رشتہ سے جڑے ہونے کے ناطے یک قلب دوجان ہوں گے اورایساہوتابھی مگرمحمدخان جونیجو نے جلدبازی میں ضیاء الحق کی بات نہ مان کرافغانستان کوبھی ہاتھوں سے نکال دیااوراپنی وزارتِ عظمیٰ سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے اورپھرکچھ ہی عرصے بعدفضائی تخریب کاری نے جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے ساتھ  اس منصوبے کوبھی ختم کردیا۔
راقم 1989ء میں جب تورابورا افغانستان کے ایک مقامی اہم کمانڈرسے تبادلہ خیال کررہاتھاتواس مقامی کمانڈرنے بتایاکہ روس کوماربھگانے کے بعدہم ان شاء اللہ پاکستان کے ساتھ مل کرمقبوضہ کشمیرکوبھی آزادکروانے کے پابندہیں ۔ یہ منصوبہ ضیاء الحق کی شہادت کے بعدنامکمل رہ گیااورکشمیرکی آزادی کا خواب بھی شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکا۔ضیاء الحق نے کشمیر کے رہنماؤں سے حرم پاک میں بیٹھ کر’’جہاد کشمیر‘‘کی منصوبہ بندی کی تھی اوراس میں مقبوضہ کشمیرکے رہنماء بھی شریک تھے اوراس پلان کے تحت سکھوں سے بھی رابطہ کیاگیااورمذہبی وسیاسی جماعت کے ایک رہنماء نے بیک ڈورپالیسی کے ساتھ رابطہ کاکام سرانجام دیااورننکانہ میں آنے والوں سے نشستیں بھی ہوئی تھیں‘ پھرسانحہ (بہارلپور) کا خوب فائدہ بھارت نے سمیٹا اورافغانستان کی خانہ جنگی کافائدہ اٹھاتے ہوئے قدم جمانے شروع کیے۔ جب امریکہ اپنے حواریوں کے ساتھ افغانستان میں داخل ہواتوبھارت کے مزے آگئے اور امریکہ کے لاڈلے بھارت نے افغانستان میں جس سے اس کی نہ سرحدیں ملتی ہیں نہ کوئی مذہبی رشتہ وناطہ ہے،اس ملک میں بھاری سرمایہ کاری ہی نہیں کی بلکہ تخریب کاری کے اڈے قائم کرکے پاکستان میں دہشتگردی کو پروان چڑھایااور پاکستان میں بم دھماکوں ،فوجی تنصیبات پر حملے، قاتلانہ خودکش حملوں کی ایسی لہراٹھائی کہ پاکستان کی معیشت لرزکررہ گئی۔
افسوس اوردکھ کامقام تویہ ہے کہ اس مرحلہ میں ایران نے بھی بھارت کاخوب ساتھ دیا۔بھارت کا حاضرسروس فوجی افسرکلبھوشن ایران میں بیٹھاپاکستان میں تخریب کاری کراتارہا اور بھارتی سرمایہ تخریب کاری کے ذریعے پاکستان کودوپاٹوں میں پیس کرکے رکھ دینے کے مذموم منصوبے پرسرگرم رہا۔1988ء میں شہادت ضیاء الحق سے 2018ء یعنی 30سال تک بھارت افغانستان میں اپناکھیل کھیلتا رہااور پاکستاان کے سیاسی حکمرانوں کوتجارتی لولی پاپ سے بہلاتارہا،اس نے انہیں یہاں تک رام کرلیا کہ نوازشریف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری  ایک لفظ بھی اس کی مذمت میں نہ کہا۔تف ہواس سیاست کی سیاہ کاری پر جو کاروکاری جیسی رہی۔اب 2018ء میں پاکستان میں جب سی پیک کے ساتھ سعودی عرب ،قطراورعرب امارات کی سرمایہ کاری کاسلسلہ ہائے درازہے توبھارت کے پیٹ میں مروڑاورایران کے قلب میں حسدنے سر ابھاراہے ۔ دونوں نے پاکستان کواس ترقی سے روکنے کیلئے جنگی ماحول اورجھوٹی جنگ کاوہی طریقہ اپنانے کافیصلہ کیاجو 1965ء کی جنگ کی صورت بھارت نے کیاتھا۔
اس زمانے میں پاکستان کی صنعتی ترقی جواپنے ایسے عروج پرتھی جس پرنہ صرف کئی ایشیائی ممالک بلکہ چین جیسا ہمسایہ ملک بھی رشک کرتاتھا مگر1965ء کی جنگ نے ہماری معاشی ترقی کورول بیک کرناشروع کردیااوراس جنگ کے ساتھ ہی پاکستان کے اندر جمہوری  جنگ کابیج بھی عالمی منصوبہ سازوں نے بودیاکہ پھرجمہوری حکمرانوں نے پاکستان کوبری طرح نوچ ڈالالیکن اب ایک عرصے کے بعدپاکستان کی معاشی صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہورہی ہے اورسی پیک کامنصوبہ بھی نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی طورپرایک بڑی تبدیلی کی نویدہے ،پاکستان کواس منصوبے کوختم کرنے کیلئے شدید دباؤ میں لانے کیلئے امریکہ،اسرائیل اپنے لے پالک بھارت کواستعمال کررہاہے لیکن افغانستان میں امریکہ کی پسپائی کے بعدانخلاء کیلئے امن کی بھیک کے نام پرجاری مذاکرات نے موجودہ صورتحال کا نقشہ ہی تبدیل کردیاہے ۔
 امریکہ افغانستان سے پاکستان کی مددسے راہِ فراراختیارکی تیاریوں میں مصروف ہے جس نے جہاں بھارت کی راتوں کی نیندحرام کردی ہے وہاں ایران بھی پریشان ہے کیونکہ ان کی 30سالہ محنت دریابردہونے جارہی ہے اوریوں یہ جنگ کاماحول بھارت کاپیداکردہ ،اس ہی خوف کاکانتیجہ ہے ۔چاہ بہارمنصوبہ بھی کسی خزاں رسیدہ پتوں کی مانندلرزنا شروع ہوگیاہے جس پرایران اوربھارت نے حال ہی میں کافی سرمایہ کاری کاآغازبھی کیاہے۔ افغانستان میں توبھارتی خزانہ لٹنا ٹھہر ہی گیاتھالیکن اب چاہ بہارکی سرمایہ کاری کوڈوبنے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ دیوارپرلکھابھارت کو نظر آرہا ہے۔ جنگ تھمی ہے رکی نہیں ،معرکہ ہندتوہوناہی ہے جس میں بھارت اوراسرائیل کی تباہی لکھی ہوئی ہے مگرپڑوسی ایران کیوں بھارتی ’’چتا ‘‘ جلتا دیکھنا چاہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بھارت ،اسرائیل اورامریکہ  تو اسلام  کے دشمن ہیں اورحال ہی میں قصرسفیدکے فرعون ٹرمپ نے امریکہ کے مشہورٹی وی اینکر کو اپنے ایک انٹرویو میں مسلمانوں سے اپنی شدیدنفرت کا برملا اظہار کیاہے لیکن ایران پھربھی اس کاساتھی کیوں؟ پاسدارانِ انقلاب کے ایرانی سپہ سالارکیوں زہراگل رہے ہیں ؟ کیا  انہیں بھی خطرہ ہے کہ پاکستان ، ایران سے وہ علاقہ مانگ لے گاجوقیام پاکستان کے بعدایران میں شامل کرلیاگیاتھااورجہاں کے تیل نے ایران کوخوشحال کیا‘بات بڑھی توپھر شاید ایسابھی ہوگا۔ ایرانی انقلاب کاجواں ہمت اور وفادارسپاہی ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف جس نے 2015ء میں ایران کے جوہری پروگرام کے مذاکرات میں اپنی بہترین سفارت کاری سے کامیابی حاصل کرکے ایک تاریخ رقم کی تھی ،اس نے بالآخر 25فروری 2018ء کواپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ میں اپنے استعفیٰ کااعلان کردیا‘ انہوں نے اپنی حکومت کوخطے میں موجودہ پالیسیوں سے یکسر علیحدگی کامشورہ دیاتھا۔



 

تازہ ترین خبریں