06:53 am
بات میں چھپی بات!

بات میں چھپی بات!

06:53 am

کچھ دلچسپ خبریں تشویش میں مبتلا کردیتی ہیں۔ بظاہر مثبت دکھائی دینے والی خبر کے دامن میں سنگین خدشات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کوئی اچھا دعوی بسا اوقات دل دہلا دیتا ہے۔ ہمارے یارِ خاص تبریز میاں سیاست دانوں کے بیانات اور وعدوں
کچھ دلچسپ خبریں تشویش میں مبتلا کردیتی ہیں۔ بظاہر مثبت دکھائی دینے والی خبر کے دامن میں سنگین خدشات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کوئی اچھا دعوی بسا اوقات دل دہلا دیتا ہے۔ ہمارے یارِ خاص تبریز میاں سیاست دانوں کے بیانات اور وعدوں کا پوسٹ مارٹم کرنے میں یدِ طولی رکھتے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ ان کی بیان کردہ تشریح آج تک کبھی غلط ثابت نہیں ہوئی  تاہم اس شاندار ریکارڈ کا زیادہ کریڈٹ تبریز میاں سے زیادہ سیاستدانوں کی وعدہ خلافی اور بلند بانگ دعوے کرنے کی عادت کو دیا جانا چاہیے۔ تبریز میاں نے سیاستدانوں کے بیانات کو پرکھنے کا ایک اصول بنا رکھا ہے۔ اگر حکمران جماعت کسی اچھے کام کا دعوی کرے تو کبھی اس پر یقین نہ کیا جائے اور اگر حزبِ اختلاف کا کوئی لیڈر یا جماعت مستقبل میں کسی اچھے کام کا وعدہ کرے تو اس کے سیاسی مخالفین کی رائے کو بنیاد بنا کے نتیجہ اخذ کیا جائے۔
کمال یہ ہے کہ ہر دو صورتوں میں نتیجہ ایک جیسا ہی بر آمد ہوتا ہے یعنی کہ سیاسی قیادت جو کہتی ہے وہ کبھی بھی کر تی نہیں۔ کم و بیش یہی معاملہ بھارت اور امریکہ سے آنے والے بیانات کا ہے۔ چھ ماہ قبل نئی حکومت نے جب یہ دعوی کیا کہ ملکی معیشت کو پیروں پر کھڑا کیا جائے گا اور کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب کر کے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لا کے قومی خزانہ بھرا جائے گا تو تبریز میاں نے برملا ان دعوں کو رد کیا تھا ۔ بعینہ یہی رائے حزب اختلاف کی بھی تھی ۔ موجودہ ملکی صورتحال نے ثابت کیا کہ حکومتی دعوی یا وعدے غلط ثابت ہوئے۔ ملکی معیشت پیروں پر تو کھڑی نہ ہوسکی البتہ گھٹنوں پہ آنے کے بعد عنقریب لیٹنے والی ہے ۔ دوست ممالک سے ملنے والی مالی امداد کی ڈرپ لگانے کے باوجود کمزور معیشت پر کپکپی طاری ہے۔ وزیر خزانہ کا یہ حکمت بھرا بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ آئی ایم ایف کے دوا خانے کا تیار کردہ طاقت کا انجکشن لگوائے بنا چارہ نہیں ۔ مریض کے قریبی اہلِ خانہ یعنی عوام کا آئی ایم ایف کے دواخانے پہ یقین اٹھ چکا ہے ۔ اسی دواخانے کے انجکشنوں کی بدولت محترمہ معیشت کی حالت پولیو کے مریض جیسی ہو چکی ہے جو کہ کھا پی تو سب کچھ سکتا ہے لیکن ضرورت پڑنے پہ مناسب رفتا ر سے بھاگ دوڑ نہیں کر سکتا ۔
وزیر خزانہ کا دعوی ہے کہ آئی ایم ایف کے جادو بھرے انجکشن کے ساتھ ان کی ذاتی نگرانی میں تیار کردہ کشتہ جات کے استعمال سے پولیو زدہ معیشت بھلی چنگی ہو کے خوشحالی کی شاہراہ پر ہرن کی طرح قلانچیں بھر کے دوڑنے لگے گی ۔ تبریز میاں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ قرض کی مے پینے والوں کی فاقہ مستی خلاف معمول اس مرتبہ رنگ لے آئے گی۔ رہی بات احتساب اور ملکی دولت کی واپسی کی تو وہ بھی محض زبانی دعوے ہی ثابت ہوئے ہیں۔
 دولت تو کیا واپس آنی تھی الٹا ملزمان اور سزا یافتہ مجرموں نے حکومت اور عدلیہ کی ناک میں دم کر کے رکھ دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کی جیل میں تیزی سے بگڑتی صحت سے پیدا ہونے والی صورتحال نے حکومت کے ہاتھ پاں پھلا دیئے ۔ اس وقت سابق وزیراعظم عدلیہ کی جانب سے دی گئی ضمانت کے نتیجے میں اپنی پسند کا علاج کروانے کے لیے محدود مدت کی رہائی پا چکے ہیں ۔ سابق وزیر اعلی پنجاب ضمانت کے ساتھ ساتھ ملک سے باہر سفر کی اجازت بھی لے چکے ہیں ۔ پی پی پی کی مرکزی قیادت کی عدالتوں میں پیشیاں اگرچہ زور و شور سے جاری ہیں لیکن نون لیگی قیادت کو قانونی محاذ پر ملنے والی چند کامیابیوں میں پی پی پی کو بھی روشنی کی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ نیب نے نون لیگی رہنما اور سابق وزیر اعلی پنجاب کے صاحبزادے کی گرفتاری کے لیے دو مرتبہ رہائشگاہ پر تا حال دو ناکام چھاپے مار کے منہ کی کھائی ۔دستیاب اطلاعات کے مطابق رہائشگاہ پہ تعینات ذاتی محافظین اور بعض جذباتی کا رکنوں نے دورانِ مزاحمت گھر آئے نیب اہلکاروں کی ایسی والہانہ خاطر مدارت کی کہ معزز مہمانوں کے کپڑے تک پھٹ گئے ۔ دنیا میں حکومت کی رٹ قائم ہوتی ہے ۔ وطن عزیز میں حکومتی اداروں پر زیر تفتیش ملزمان کی رٹ قائم ہو چکی ہے ۔ تبریز میاں نے درست کہا ہے کہ اس دن کا انتظار کریں جس دن با اثر ملزمان نیب چیئرمین سمیت ان کے ماتحت اہلکاروں اور عدلیہ کے ججوں کو گرفتار کر کے اپنی نجی جیلوں میں قید کر دیں اور عوامی عدالت میں فوری سماعت کے بعد مجرم قرار دے کے پھانسی پر ٹانگ دیں ۔ پی پی پی کے شہزادے نے فرمایا ہے کہ جب چاہوں لات مار کے حکومت گرا دوں ! حکومت نہ ہوئی ڈارئنگ روم میں رکھا گلدان ہو ا کہ جسے شہزادے میاں آن واحد میں لات مار کے گرا دیں گے ۔ جمہوری اقدار ، عوامی مینڈیٹ اور آئین کی بالا دستی کے راگ پاٹ سنانے والوں کی اصل سوچ اس بیان سے عیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ البتہ تبریز میاں کی رائے اس بیان کے متعلق بھی انوکھی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ پی پی پی کا شہزادہ حکومت کو لات مارنے کی حماقت کبھی نہیں کرے گا۔
قبلہ وزیراعظم نے بالآخر اپنی کابینہ کے نفیس ترین وزرا دریافت کر لیے ہیں ۔ اس دریافت پر لندن میں تشریف فرما مفرور قائد تحریک خوشی سے تلملا اٹھے ہوں گے ۔ خود نفیس قرار دیے جانے والے وزرا کو بھی اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا ۔ یہ بیان اس نوعیت کا ہے کہ جس پہ پڑھنے ، سننے اور خود دینے والا بھی یقین نہیں کرتا ۔ ایسا ہی بیان یوم پاکستان کے موقع پر بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی نے جاری کیا تھا جس میں شریمان جی نے پاکستان کے لیے نیک جذبات کا اظہار تو کیا تھا لیکن اس بیان پر پڑھنے اور سننے والوں نے یقین نہیں کیا ۔ تبریز میاں کی فراست کو سلام ! وہ ہمیشہ اہل سیاست کے رنگ برنگے بیانات اور دعوں میں چھپی اصل بات بے نقاب کر کے ہماری راہنمائی فرماتے ہیں!





 

تازہ ترین خبریں