06:54 am
 مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت بناتے بھارتی اقدامات

مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت بناتے بھارتی اقدامات

06:54 am

جموں میں مسلمانوں اور ہندوئوں کا آبادی تناسب بہت زیادہ فرق نہیں رکھتا تھا بلکہ مسلمان ہی آبادی کے اعتبار سے زیادہ تھے۔ نہرو نے گورنر جنرل مائونٹ بیٹن کی حمایت سے کشمیر کو ہتھیانے کا طریقہ سوچ رکھا تھا۔ ضلع گرداسپور فطری
جموں میں مسلمانوں اور ہندوئوں کا آبادی تناسب بہت زیادہ فرق نہیں رکھتا تھا بلکہ مسلمان ہی آبادی کے اعتبار سے زیادہ تھے۔ نہرو نے گورنر جنرل مائونٹ بیٹن کی حمایت سے کشمیر کو ہتھیانے کا طریقہ سوچ رکھا تھا۔ ضلع گرداسپور فطری طور پر اور ساتھ ہی تحصیل فیروز پور پانی وسائل کے ساتھ پاکستان میں آرہی تھی۔ ریڈکلف بائونڈری کمیشن کے سربراہ تھے۔ انہوں نے ارکان کمیشن کے ہمراہ خود ضلع گرداسپور تحصیل فیروز پور کو پاکستانی جغرافیہ بنایا تھا۔
تین چار دن تک ضلع گرداسپور پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا تھا۔ مگر ائیرپورٹ پر اچانک سرریڈکلف نے نقشہ میں ترمیم کرکے ضلع گرداسپور اور تحصیل فیروز پور بھارت کے جغرافیے کا حصہ بنا دیا۔ کیا اس بددیانتی کے عمل میں مالی رشوت دی گئی ؟ جی ہاں! ائیرپورٹ پر مالی رشوت دی گئی اور ساتھ ہی گورنر جنرل مائونٹ بیٹن نے قائداعظم سے بدلہ لے لیا کہ انہیں بھارت کی طرح پاکستان کا گورنر جنرل جو  نہیں بنایا گیا تھا۔ اس سارے قضیے میں نہرو کا نہایت سفاک اور شاطر رویہ کشمیر کو ہڑپ کر رہا تھا۔
اگر گرداسپور کا ضلع بدستور پاکستان کا جغرافیہ بنا رہتا تو جموں اور کشمیر کو ہڑپ کر رہا تھا۔ اگر گرداسپور کا ضلع بدستور پاکستان کا جغرافیہ بنا رہتا تو جموں وکشمیر کو جاتا کوئی زمینی راستہ موجود ہی نہیں تھا۔ زمینی راستے کے حصول کے لئے مائونٹ بیٹن کا قائداعظم سے انتقام۔ نہرو کی ذہانت اور شاطرانہ چاہیں‘ ریڈکلف کو دی گئی رشوت ائیرپورٹ پر۔
ان تمام عوامل نے جموں وکشمیر کو پاکستان سے کاٹ کر بھارت کا حصہ بنانے میں کردار ادا کیا تھا۔ اس عمل کے ہوتے ہی جموں میں مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑی۔ جموں میں سرکاری اعلانات ہوئے کہ پاکستان جانے کے  خواہش مند  فلاں دن فلاں جگہ اکٹھے ہو جائیں۔ انہیں فراہم شدہ بسوں میں سرحد پار پاکستان حفاظت سے بھیجا جائے گا۔ سادہ لوح مسلمان اس بات کو خوش قستمی سمجھتے کہ ہندو اور سکھ خود مسلمانوں کو محبت سے روانہ کر رہے ہیں۔ مگر ان تمام مہاجرین کو بیابان جگہ پر اکٹھا کرکے پہلے سے تیار ہندو بلوائیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ جنہوں نے پاکستان آنے مہاجرین کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عورتیں عزت و ناموس سے محروم کر دی گئیں اور بہت سے مسلمان عورتیں اغواء ہوگئیں۔
یوں نہرو اور پٹیل کے بھارت نے مائونٹ بیٹن کی گورنری اور ریڈکلف کی بے ایمانی سے میسر فرصت کو مسلمان کشی کے لئے دل کھول کر استعمال کیا۔ جو معمولی تناسب جموں میں مسلمانوں کو برتری کا حاصل تھا وہ ختم کرکے ہندوئوں کی اکثریت کا راستہ اپنالیا گیا اورمزید ہندوئوں کو لاکر جموں میں آباد کیا جاتا رہا تاکہ آنے والے برسوں میں جموں ہندو اکثریت کا علاقہ  ثابت ہوتا رہے۔ سری نگر والے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا تھا؟ اس کو سمجھنے کے لئے 3اپریل1969ء کو شیخ عبداللہ کی تقریر کا اقتباس  پڑھیے۔
انڈین میڈیا رپورٹ کے مطابق سری نگر کی مجاہد منزل میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے شیخ عبداللہ نے کہا کہ میں یہ بات نہایت ذمہ داری سے کہتا ہوں اور سری نگر اسمبلی میں انڈیا کے عمل کو دیکھتے ہوئے دو ٹوک کہتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت اور اس کے ایجنٹ سن لیں۔ سمجھ لیں اگر انہوں نے مسلمانوں کی جائیدادوں کو ہندوئوں کو الاٹ کرکے ہندو اکثریت بنانے کا عمل کیا تو ایسے عمل سے اچانک عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔
اس عوامی ناراضی کو کنٹرول کرنا حکومت کے بس میں نہ ہوگا۔ شیخ عبداللہ نے مزید کہا خود ہم بدامنی اور عدم استحکام نہیں چاہتے لیکن اگر مسلمانوں کی جائیدادوں کو ہندوئوں کو الاٹ کرکے ہندو اکثریت بنانے کا عمل کیا گیا اور ہمارے ہاتھ پائوں بھی باندھ دئیے گئے تو ایسی صورت میں ہم مسلمان میدان میں بہادری سے موت کو گلے لگائیں گے۔ انہوں نے کہا یہ بات ہنسی مذاق نہ سمجھی جائے اور ہر قسم کا مغالطہ ختم کیا جائے کیونکہ  مسلمان شکست قبول کرنے اور سرنڈر کرنے سے کہیں زیادہ موت کو گلے لگانا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف یہ ہے کہ منصفانہ طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ اس کا انصاف پسند حل یہ نہیں کہ مسلمانوں سے جائیدادیں چھین کر ہندوئوں کو الاٹ کر دی جائیں اور اس مقصد کے  حصول کے لئے عقبی دروازہ استعمال کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا مسلمانوں کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر اسمبلی میں پیش ہونے والا بل اصل میں مسلمان آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے ہندوئوں کو اکثریت دتیا عمل ہے جس سے مسلمانو وادی کشمیر میں اقلیت بنا دئیے جائیں گے۔
نامور کشمیری رہنما نے دو ٹوک الزام لگایا کہ بھارتی سیاست دان اور بھارتی میڈیا مسلمانوں کے مسئلے پر انصاف پسندی کی بجائے ہندو اور مسلمان کے طور پر سوچتے ہیں اور جب ہندو مفادات کا معاملہ ہوتا ہے تو بھارتی میڈیا ہندو مفادات کے تحفظ کے لئے  شوروغل مچاتا ہے۔ مگر جب مسلمان مفادات کا معاملہ ہوتا ہے تو یہی میڈیا پریشان ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ معروف پاکستانی انگریزی اخبارنے مذکورہ بالا تقریر کا اقتباس اپنی 4اپریل کی اشاعت میں پیش کیا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں