06:56 am
مقبوضہ بیت المقدس اور گولان ہائٹس کے بعد

مقبوضہ بیت المقدس اور گولان ہائٹس کے بعد

06:56 am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کا جائز و قانونی حصہ قرار دینا اور اب امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ کی مہم جوئی حالات کی سنگینی کا پتہ دیتی ہے۔ وائٹ ہائوس میں امریکہ کی یہودی کمیونٹی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کا جائز و قانونی حصہ قرار دینا اور اب امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ کی مہم جوئی حالات کی سنگینی کا پتہ دیتی ہے۔ وائٹ ہائوس میں امریکہ کی یہودی کمیونٹی سے مخاطب ہوتے وقت صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’’آپ کا وزیراعظم‘‘  پکارنا خود امریکیوں کے لئے باعث تشویش ہونا چاہیئے۔ابھی تک اس پر ہلکی   تنقید ہو رہی ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو امریکیوں کا وزیراعظم کیسے قرار دے دیا۔گولان کی ہائٹس شام کا  علاقہ ہے، جسے  اسرائیل نے 1967ء کی عربوں کے ساتھ جنگ میں ہتھیا لیا۔ دنیا میں اِسے مقبوضہ علاقہ مانا جاتا ہے۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس پر خوب تبصرہ کیا ہے ۔ ان کے مطابق گزشتہ  52سال سے عالمی نظریہ یہی رہا ہے کہ گولان کی بلندیاں شام کا جائز علاقہ ہے جو اسرائیل کے نا جائز قبضے میں ہے۔ عربوں کے حقوق پامال کرنے کی مذموم امریکی کوششیں مغربی دنیا کی اُس سازش کا حصہ ہیں جو آج سے کم و بیش سو سال قبل شروع ہوئیں۔ پہلے پہل اِن سازشوں کا سرغنہ برطانیہ تھا ۔ د وسری جنگ عظیم کے بعد مغرب کی سرپرستی امریکہ کے ہاتھ میں آئی۔مغرب کا اولاد نا خلف اسرائیل امریکہ کا لے پالک بن گیا۔د وسری جنگ عظیم کے بعدسے  امریکہ اسرائیل کو اِس لئے پال رہا ہے تاکہ مغربی ایشیا پہ اپنا تسلط جمائے رکھے۔اسرائیل کو امریکہ کی پراکسی مانا جا تا ہے یعنی در پردہ اسرائیل امریکہ کے تحفظات کا نگہباں ہے۔
 گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کا جائز و قانونی حصہ قراردینا اُن مغربی سازشوں کا حصہ ہے جو کہ عالم اسلام کو دبائے رکھنے کے لئے بیسویں صدی کے آغاز میں شروع کی گئیں۔ اِس سازش کی پہلی کڑی عربی دنیا کو خلافت عثمانیہ سے متنفر کرنا تھااور اِسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے عرب نیشنلزم  یا قوم پرستی کو اُبھارا گیا۔ شریف حسین آف مکہ اس سازش کا حصہ بنے ۔ جس کی پاداش میں عرا ق اور اُردن کے ممالک میں اُن کی آل و اولاد کو بادشاہی نصیب ہوئی۔شریف حسین نے برطانیہ کی عنایتوں کے عوض میں صیہونیوں کے فلسطین میں خود ساختہ حقوق کو تسلیم کیا اور دوسری جانب جنگ عظیم اول میں ہزیمت اٹھانے کے بعد عثمانی خلافت کے وزیر طلعت نے برطانیہ کو فلسطین کا منڈیٹ عطا کیا۔ 1917ء میں برطانوی وزیر بالفور نے صیہونیوں کو فلسطین کی دھرتی میں بستیاں بسانے کی اجازت دے دی۔شروع میں برطانوی وزیر کا یہ عندیہ اِس شرط کے ساتھ منسلک تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے گا لیکن یہ محض ایک سیاسی پینترا تھا ۔ جس کی بعد میں دھجیاں اڑا لی گئیں۔ صیہونی دہشت گردوں نے فلسطینیوں کا جینا حرام کیا اور انجام کار فلسطینی اپنے وطن عزیز سے بے دخل کئے گئے۔
عربوں کے ساتھ جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں 1947/48ء 1967ء اور 1973ء کی جنگوں کو گردانا جا سکتا ہے۔ 1967ء کی جنگ میں جہاں مصر سے صحرائے سینائی کے علاقے چھینے گئے وہیں شام سے گولان کی بلندیاں اور اُردن سے یروشلم اور رود اُردن کا مغربی کنارہ چھینا گیا۔ انورالسادات نے 1973ء کی جنگ میں جو پایا تھا وہ صیہونیوںکی دہلیز پہ ماتھا رگڑ کے کھو دیا۔عربوں کے اجتماعی حقوق سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک علیحدہ امن معاہدے میں مصر کو کھوئے ہوئے علاقے تو مل گئے لیکن یروشلم،رود اُردن کا مغربی کنارہ اور گولان کی بلندیاں اسرائیلی قبضے میں ہی رہتے ہوئے لائنحل رہ گئے۔ آج تک یہ موضوع جوں کا توں پڑا ہوا ہے، گرچہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اُسے اب نئے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ہے۔
گولان کی بلندیاں پہاڑی چٹانوں کا 1,800 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایک سلسلہ ہے۔یہ تاریخی نوعیت کا مقام ہے۔ازمنہ قدیم کے اسرائیل میں وہاں کے شاہان اور دمشق کے اطراف میں رہنے والے آرمینیوں کے مابین ہمیشہ ہی گولان کی بلندیوں پہ قبضے کیلئے تصادم رہتا تھا جس کے تذکرے سے قوم یہود کی مذہبی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ جب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میںمدینہ طیبہ کی اسلامی مملکت میں شام بھی شامل ہوا تو گولان کی بلندیوں پر یہودی بستیاں تھیں۔دفاعی اہمیت سے یہ مقام ہمیشہ ہی اہم رہا ہے، چناںچہ یہ مقام مسلمانوں کے زیر تصرف آیا۔ 16  ویں صدی میں گولان کی بلندیاں خلافت عثمانی کے کنٹرول میں آگئیں۔ 1918 ء میں جنگ عظیم اول میں ہزیمت اٹھانے کے بعد شام کا منڈیٹ فرانس کو حاصل ہوا۔اِس منڈیٹ میں گولان کی بلندیاںشامل رہیں۔ 1946 ء میںفرانسیسی مینڈیٹ کا خاتمہ ہوا اور شامی جمہوریہ  کاکے قیام عمل میں آیا۔ شامی افواج کی گولان پر تعیناتی اسرائیل کے لئے ایک عذاب بنی ہوئی تھی۔ 1967ء کی جنگ میں گولان کی بلندیوں کا حصول اسرئیل کے اہم ترین جنگی اہداف میں شامل تھا۔ 1967ء تک امریکہ اور مغربی ممالک نے اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کیا ہوا تھا تاکہ وہ عربوں  پر بھاری پڑ جائے ۔ جہاں اعراب نے صحرائے سینائی،یروشلم اور رود اُردن کا مغربی کنارہ کھویا وہی گولان کی بلندیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ۔البتہ آج تک اقوام عالم اِن علاقوں کو مقبوضہ قرار دے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی ایسا ہی مانتی ہے۔اِن قراردادوں کو اب ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کی طرح مسترد کرنے پر  تلا ہوا نظر آتا ہے جیسا کہ حالیہ اقدامات سے صاف نظر آتا ہے۔
اسرائیل نے جب اپنی انتظامیہ کو گولان کی بلندیوں تک بڑھانا چاہا اور صیہونی فلسفے میں ڈوبے ہوئے اپنے قوانین کو شام سے چھینے ہوئے علاقے میں لاگو کرنا چاہا تو اقوام متحدہ نے قرار داد برقم 497منظور  کی۔ اِس قرار داد کے مطابق اسرائیلی اقدامات کو رد کر کے کالعدم قرار دیا گیا۔ثانیاََ یہ اقدامات قرار داد برقم 242  کے منافی قرار پائے۔ مذکورہ قرار داد میں جنگ کے ذریعے حاصل کی گئی اراضی کو قبولیت دینے کی ممانعت ہے۔انڈیا کی طرح اسرائیل البتہ اِس قدر ڈھیٹ و فریبی ہے کہ  وہ  اِسی قرارداد میں شامل ایک عبارت کو اپنے ضدی موقف کی حمایت میں بروئے کار لایا۔ اِس عبارت میں ایسی نوعیت کے محفوظ و تسلیم شدہ سرحدوں کی ضمانت دی گئی ہے جو دھمکیوں  اور طاقت کے استعمال سے مبرا ہوں۔ اسرائیل ان ہی سرحدوں کو تسلیم کرتا ہے  جو اُس کی نظر میں اُسکے لئے محفوظ ہوں بھلے ہی وہ زور و جبر اور زبردستی سے حاصل کی گئی ہوں۔ اسرائیل کی اِس بے تکی دلیل کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے ہمسایہ ممالک کی اراضی پر  طاقت کے بل بوتے پہ قابض ہو کے یہ دلیل پیش کرنے میں حق بجانب ہو گا کہ یہ اقدام اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے کیا گیا۔جیسے کے حالات بتا رہے ہیں کہ  نریندر مودی بھی بالاکوٹ حملے یا نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس سے ایسا چاہتے ہیں۔اِس دلیل کو منطقی مانا جائے تو اِس سے ہر طاقتور ملک کو اپنے کمزور ہمسایوں پہ چڑھائی کرنے کی چھوٹ مل سکتی ہے۔ اسرائیل در اصل صیہونیت کے تعین کردہ نقشے پہ عمل پیرا ہے جس میں قوم یہود کا یہ ماننا ہے کہ  اپنے گناہوں کی پاداش میں وہ جہاں جہاں بھی ازمنہ قدیم میں بھاگ بھاگ کے پہنچی ہے، اُن مقامات کو اپنے تصرف میں لائے۔ازمنہ قدیم میں اسرائیلی بابل بھی پہنچے جہاں سے ایرانی بادشاہ بخت نصر نے اُنہیں بیدخل کیا۔
(جاری ہے)
طلوع اسلام پر یہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقوں اور خیبر میں مقیم تھے۔ آنحضورﷺ نے میثاق مدینہ میں اُنہیں تمام حقوق کے ساتھ مسلمین کے ساتھ مل جل کے رہنے کے شرف سے نوازا لیکن یہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آئے چنانچہ بیدخل کئے گئے اور عصر حاضر میں اپنی دیرینہ رنجشوں کا بدلہ لینے پہ کمر بستہ ہیں۔
 خیبر پر بھی یہودیوں کی نظر ہو گی۔ قوم یہود کا دیرینہ بغض عصر حاضرمیں صیہونیت کا رنگ لئے مغربی دنیا کی مسیحی برادری کو اپنا حلیف بنائے ہوئے ہے حالانکہ یہ یروشلم میں ہیکل سلیمانی کے یہودی کاہن ہی تھے جنہوں نے حضرت عیسی ؑ کا مقدمہ فلسطین کے رومی گورنر پونٹیس پیلیٹ کی عدالت میں پیش کر کے صلیب پر لٹکانے کا مطالبہ کیا ۔ جہاں مسیح برادری کا دعویٰ ہے کہ  وہ صلیب پر لٹکائے گئے وہیں قران کریم میں یہ واضح ذکر ہے کہ ایسا ہونے سے پہلے ہی آسمانوں سے بلاوا آیا۔ قبل ازطلوع اسلام رومی سلطنت میں مسیح برادری نے یہودیوں کاقافیہ تنگ کر کے رکھا تھا۔ مسیح برادری کے مذہبی پیشوا سینٹ پال اُنکے بد ترین مخالفوں میں سے تھے حالانکہ کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی پیدا ہوئے بعد میں عیسائی بن گئے۔سینٹ پال فلسفہ تثلیث و کفارہ کے موجد مانے جاتے ہیں۔رومی (بازنطینی) سلطنت میں بد ترین مظالم سہنے کے بعد جب یہ سلطنت اسلام کے پیغام حق کے سامنے سرنگوں ہوئی تو یہودیوں نے اطمینان کا سانس لیا۔کہتے ہیں جب جنگی مصلحت میں کچھ دیر اسلامی افواج کو دمشق چھوڑنا پڑاتو قوم یہود پرانے مظالم یاد کر کے رو پڑی لیکن عصر حاضر میں جودیو کرسچن(Judeo-Christian)  تہذیب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی ملی جلی تہذیب کا راگ الاپا جا رہا ہے اور اِس تہذیب کو اسلام ومسلمین سے محفوظ رکھنے کا نعرہ نوک زباں پہ لئے سازشوں کے پل باندھے جا رہے ہیں۔  
صیہونی سازشوں کو رو بعمل لانے کیلئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں ایک من پسند حلیف ملا ہے۔ امریکہ کا کوئی بھی صدر اسرائیل کے حق میں اِس حد تک جانے کیلئے تیار نہیں جتنا کہ ڈونالڈ ٹرمپ ہیں حالانکہ کوئی بھی امریکی صدر اسرائیل کے خلاف نہیں جا سکتا۔ چونکہ امریکی سیاست پر صیہونیوں کی چھاپ ہے۔ اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی معاشرت و تجارت، بینک کاری اورمیڈیا کو صیہونی اپنی گرفت میں جکڑے ہوئے ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے حالانکہ امریکہ سمیت مغربی دنیا میں یہودیوں کے خلاف کئی تحریکیں کار فرما ہیں لیکن صیہونیوں کا جال اتنا وسیع ہے کہ خاصی حمایت کے باوجود یہودیوں کے خلاف تحریکیں دم توڑ جاتی ہیں۔یہ عصر حا ضر تک محدود نہیں بلکہ صدیوں پہ محیط روایت ہے۔ مغربی دنیا میں اتنا دم ہی نہیں کہ صیہونیوںکے خلاف عملی اقدام کا حصہ بنیں باوجود اس کے کہ اسرائیل کی دست درازی عالمی سیاست کی ایک حقیقت ہے۔ جہاں امریکہ اسرائیل کی حمایت پر کمر بستہ رہتا ہے وہیں کئی مغربی حلقے دبی زبان سے اسرائیلی اقدامات کی تردید بھی کرتے ہیں لیکن یہ زبانی جمع خرچ تک محدود ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد عملی اقدامات تک نہیں پہنچ پاتی۔ صدر ٹرمپ ہر حد سے گذ ر گئے جہاں کل وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا جائز دارلخلافہ ماننے کے حق میں سامنے آئے وہیں آج گولان کی بلندیوں پہ اسرائیل کے قبضے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم کو اسرائیلی سیاست کی داخلی یلغار سے بچانا چاہتے ہیں۔اسرائیل میںجلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو پر رشوت خوری و کرپشن کے الزامات عائد ہیں جن کی تحقیقات جاری ہے۔ اِن الزامات کی شدت کم کرنے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو کی جھولی میں گولان کی بلندیوں کا تحفہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کی اکثریت مطلق گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کے تحفظ کیلئے ناگزیر مانتی ہے اور ایسے میں امریکی صدر کی کھلی حمایت نیتن یاہو کی جیت کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے جبکہ ظاہراََ وہ خطروں سے دو چار ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ گولان کی بلندیوں کے بارے میں اُنکے فیصلے میں نہ ہی اسرائیلی انتخابات مد نظر رہے نہ ہی یہ فیصلہ عجلت میں لیا ۔
گولان کا عنوان  بدلنے کی اِس سازش کے جواب میں شامی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو واپس لینے کیلئے ہر ممکنہ اقدام کریں گے۔شامی حلیفوں روس و ایران نے شام کی کھل کے حمایت کی ہے جبکہ امریکہ کے مغربی اتحادیوں یورپین یونین میں شامل ممالک نے امریکی اقدام کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ترکی نے بھی سختی سے مخالفت کی ہے۔ اقوام عرب نے جن میں خلیجی ممالک بھی شامل ہیں امریکی اقدام کی مذمت کی ہے حالانکہ خلیجی ممالک کو امریکہ کا حلیف مانا جاتا ہے مگر امریکی وزیر خارجہ میک پومپیو دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ کے اِس اقدام سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے امکانات کو فروغ ملے گا۔جب کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے درست تجزیہ کیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو عربوں کے سینے میں کیل کی طرح ٹھونک دیا ہے اور وہ جنوبی ایشیا میں انڈیا کو بھی یہی کردار دینا چاہتا ہے جس کے لئے پاکستان سفارتی میدان میں تیز مہم چلانے میں دلچسپی لے سکتا ہے۔



 

تازہ ترین خبریں