08:01 am
  بے دانشی  کا  روگ!  

  بے دانشی  کا  روگ!  

08:01 am

سیاسی جماعتوں کے ترجمان حسب معمول توپیں بن کہ اپنے مخالفین پر دھنا دھن گولے برسا رہے ہیں۔ لفظی گولہ باری کے کبھی نہ رکنے والے زبانی فساد میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی کوئی تخصیص نہیں ! بعض حکومتی وزراء تو توپ نہیں بلکہ لڑاکا طیارہ بنے اُڑتے پھر رہے ہیں ۔ جہاں موقع ملا اپوزیشن پر بمباری کر ڈالی۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے حلقے تسلسل سے حکومت کو مشورہ دیتے آرہے ہیں کہ اپوزیشن کی تنقید کا جواب لفظی گولہ باری کے بجائے کار کردگی سے دے۔ کارکردگی کے میدان میں فی الحال حکومت کی حالت پتلی ہے۔ بسترِمرگ سے لگی معیشت کو علاج کے بجائے قرضوں کی جھاڑ پھونک سے تندرست کرنے کی تگ و دو میں وفاقی حکومت نے اپنی ساکھ بری طرح دائو پر لگوا لی ہے۔ مہنگائی کی آندھی میں تبدیلی کے دعوئوں کی باریک پوشاک تار تار ہوتی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے حزب اختلاف کی قیادت آٹھ ماہ پر محیط حکومتی ناقص کارکردگی کو بنیاد بنا کے اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ ڈالتی دکھائی دے رہی ہے ۔ سندھ پر حکمرانی کرنے والی پی پی پی کی قیادت نے جن خامیوں کی بنیاد پر وفاقی حکومت کو لات مار کر گرانے کی بچگانہ دھمکیاں دیں‘ وہ سب برائیاں سندھ کی صوبائی حکومت میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں تاہم صوبہ سندھ کی بات ہو تو پی پی پی کی عینک کا نمبر اور کارکردگی تولنے والے ترازو کے باٹ بدل جاتے ہیں ۔ بات یوں کی جاتی ہے کہ وفاقی حکومت کرپٹ اور احمق ہے لیکن سندھ کی صوبائی حکومت میں تو گویا نیلسن منڈیلا ، ابراہام لنکن اور چرچل جیسی حکمت و دانش کے حامل رجال کار عوام کی خدمت پر مامور ہیں۔ سندھ کی صوبائی پارلیمان اور کابینہ سے قابلیت و فرض شناسی کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ ٹوپیاں سی کے ، مزدوری کر کے ، چھوٹی موٹی دکانداری کرکے حق حلال کی روزی کمانے والے ایسے ایسے درویش سندھ حکومت کا حصہ ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں! یہی نامعقولیت اور دوغلا پن اصحابِ نون پر بھی طاری ہے ! تاہم یہاں شدت کئی گنا زیادہ ہے۔ نون لیگی توپیں گولہ باری کرتے ہوئے معیشت کی بدحالی‘ مہنگائی میں اضافے اور شفا خانوں کی زبوں حالی کو تو نشانہ بنا رہی ہیں لیکن یہ بتانے پر تیار نہیں کہ اپنے سابقہ زریں عہد اقتدار کے خاتمے پر خزانے میں کیا چھوڑا تھا ؟ آئی ایم ایف سمیت کس کس سے قرضے لیے ، کتنے لیے اور کہاں کھپا دیئے ؟ آج اگر سرکاری شفا خانوں کی حالت خراب ہے تو نون لیگی عہد میں مریضوں کو کون سا کرشماتی دستِ مسیحا دستیاب تھا ؟ سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ریاست سے وفاداری کی پابند نوکر شاہی ذاتی ملازموں کی طرح اس تسلسل سے برتی گئی کہ اب ملکی مفاد کے کسی منصوبے پر آزادنہ طور پر کام کرنے کے قابل ہی نہیں رہی ؟ نون لیگی قصیدہ خواں اپنے مفرور وزیر خزانہ کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں گویا تمام عالمی مالیاتی ادارے جناب سے مشورہ فرما کر اپنی حکمت عملی طے کرتے رہے ہوں ! زمینی حقائق یہ ہیں کہ معیشت کی بربادی کا سفر نون لیگ اور پی پی پی کے سابقہ ادوار میں تیز رفتاری سے جاری رہا ۔
 ڈھلوان پر بربادی کی کھائی کی جانب لڑھکتی معیشت کو روکنے کے لیے موجودہ حکومت نے نہ کوئی تیاری کی اور نہ ہی ابھی تک کسی اہلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا ہی معاملہ دیگر شعبوں میں بھی ہے ۔ بلاشبہ گذشتہ آٹھ ماہ کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ دس برس عوام پر آسیب کی طرح مسلط رہنے والی نون لیگ اور پی پی پی کے سیاہ کارناموں کا کھاتہ صاف ہو چکا ہے۔ ان دونوں جماعتوں سے ملک چلایا نہیں گیا اور پی ٹی آئی سے اب ملک سنبھالا نہیں جا رہا ۔ اگر عوام کی امیدیں ٹوٹیں اورما ضی میں سیاست سے لاتعلق رہنے والا وہ طبقہ مایوسی کا شکار ہوگیا جو کہ گذشتہ دو الیکشنوں میں لمبی قطاروں میں لگ کے تبدیلی کی آس میں ووٹ ڈالنے آیا تھا تو یہ قومی المیہ ہو گا ۔ 
گولہ باری میں مصروف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں اور یہ اعتراف جرم کرنے میں تاخیر نہ کریں کہ عوام سے جھوٹے وعدے کرنے اور اُن کے حقوق پر مسلسل ڈاکے ڈالنے والے خود اُن کی اپنی ہی صفوں میں مو جود ہیں ۔ بھٹو کے نام پر سردی گرمی میں سڑکوں پر نعرے لگانے والے جیالوں ، مجھے کیوں نکالا کی قوالی پر سر دھننے والے شیر پرستوں اور تبدیلی کی آس پر گلی کوچوں میں ترانے گاتے انقلابیوں کو دھوکہ دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ اُن کے اپنے قائدین ہی ہیں ۔ سیاسی بد زبانی کا ایک الم ناک پہلو یہ بھی ہے کہ نام نہاد قائدین اور ترجمان اپنی اپنی راگنی سناتے ہوئے یہ بھی بھول گئے ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے پار درندہ صفت بھارتی افواج مظلوم کشمیریوں پر کیا مظالم ڈھا رہی ہیں اور نئی دلی میں اقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہندوتوا کے شدت پسند پجاری پاکستان کے خلاف کیسے کیسے خوفناک منصوبے تیار کر رہے ہیں۔ انور مسعود صاحب کے بقول:
جو یوں غافل رہے ہم دشمنوںسے 
مسائل رونما ہوتے رہیں گے
اگر بے دانشی باقی رہے گی
تو پھر فتنے بپا ہوتے رہیں گے