08:02 am
 صفوی عہد سے پاسداران انقلاب کے ایران تک

 صفوی عہد سے پاسداران انقلاب کے ایران تک

08:02 am

یہ ایرانی تہذیب و تمدن کی کشش تھی یا فارسی زبان کی جاشنی علامہ محمد اقبال نے جب یورپ میں فلسفے کی تعلیم پائی تو پی ایچ ڈی مقالہ فلسفہ ایران پر لکھا جو فلسفہ عجم کے نام سے کتابی صورت میں  طلوع ہوا۔ علامہ اقبال اور محمد اسد میں جو تعلق خاطر قائم ہوا اسی کے سبب چین جاتے ہوئے محمد اسد لاہور میں رک گئے اور احادیث کا انگریزی میں ترجمہ کا عمل علامہ اقبال کے مشورے سے شروع کیا پاکستان بننے کے بعد اسی محمد اسد کو قائداعظم اور وزیراعظم لیاقت علی خان نے بہت پسند کیا اور آئین پاکستان کی اسلامی تشکیل کیلئے انہیں وزارت خارجہ میں منصب دیا مگر بعدازاں لیاقت علی خان نے انہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم مشن سونپ دیا۔ پاکستان چھوڑنے کے  کچھ عرصہ بعد انہوں نے ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ لکھی جس میں اپنے سفر نامے کے تجربات لکھے جن میں ایران کے دو سفر بھی  شامل ہیں۔  
 
موجودہ انقلابی ایران کے مطالعے سے پہلے ضروری ہے کہ صفوی عہد کے ایران کی شناخت حاصل کی جائے مغل شاہ ہمایوں کے پاس ہندوستان کا اقتدار کامل صورت میں تھا کہ شیر شاہ سوری نے ان سے اقتدار چھین لیا۔ مجبوراً ہمایوں کو ہندوستان چھوڑ کر ایران میں پناہ لینا پڑی جہاں اسماعیل صفوی شاہ ایران تھے۔ صفوی عہد کا اقتدار بھی مسلک اور سیاست کے امتزاج سے طلوع ہوا‘ پھیلا اور پھر ترکوں سے کشمکش کرتا رہا حالانکہ اسماعیل صفوی کو ترک خلافت سے تنازعے پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی مگر تلخ تاریخ یہ ہے کہ عملاً ایسا ہوا تھا وہ ترک خلیفہ جو یورپی سفید فام مسیحی شاہوں کی پٹائی کر رہا تھا مجبوراً اسے ایران کی ’’تہذیب‘‘ کے لئے وہ جنگ و جدل کرنا پڑا جو ترک و ایران کے حوالے سے تاریخ کے بدنما داغ ہیں۔
 مجھے اس عہد میں جو کچھ قابل توجہ نظر آیا وہ شاہ اسماعیل کا ایرانی نیشنل ازم کے اقتدار کا مسلک و زبان کی ترویج کے لئے حاکمانہ استعمال کا طریقہ ہے۔ اسماعیل صفوی اپنے مقاصد میں کامیاب رہا اور یوں برصغیر ایران کی ذیلی ریاست بن گئی تب سے برصغیر میں  ایران تہذیبی اور تمدنی طور پر نئے عہد میں ڈھل گئے۔ مغلوں کا سارا عہد بعدازاں اسی عہد کے نقوش تھے موجودہ پرعزم اور جارح انقلابی ایران کے جنرل سلیمانی سیاسی عسکری توسیع وجود  کو میں شاہ اسماعیل صفوی کے ہندوستان میں ہمایوں کو اقتدار واپس دلواتے‘ عمل کے ساتھ شرائط منواتے عمل کی صورت دیکھتا ہوں جس طرح صفوی عہد برصغیر میں اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب رہا اس طرح ولایت فقیہہ کا فقہی سیاسی منصب کا اقتدار اعلیٰ پاسداران انقلاب وژن کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں خود کو منوانے‘ عربوں کے اقتدار و سیاست کو تہہ تیغ کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔ 
ولایت فقیہہ نظام انقلاب نے پاسداران انقلاب ہی کے عسکری بازوئے شمشیر زن کے ذریعے اقتدار سے محروم ہوتے ہوئے بشارالاسد کے اقتدار کو مضبوط کیا جس میں لبنان میں حزب اللہ کا ایرانی سیاسی عسکری وجود بشارالاسد کے اقتدار کے لئے قلعہ ثابت ہوا ہے۔ عراق میں اسی پاسداران انقلاب کا سیاسی عسکری جارحانہ وجود عراقی سرزمین کو آسانی سے ایرانی اہداف و مقاصد کے سبب ذیلی ریاست بنا چکا ہے جس طرح اسماعیل صفوی عہد نے ہندوستان میں ہمایوں کے ذریعے ایرانی نیشنل ازم کی مسلکی تہذیب و تمدن کے جاودان وجود کی بنیاد رکھی تھی۔ اسی پاسداران انقلاب کے ذریعے حوثیوں کے ذریعے سنی اکثریت کے یمن میں باب المندب کی تنگ آبی گزر گاہ پر قبضہ کرنا اور عالمی تجارت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کو ہرمز آبنائے کی طرح استعمال کرنے کا سفاک ہنر کامیاب رہا ہے۔  
حوثیوں کے ذریعے سعودیہ کو غیر مستحکم کرنے  کا بڑا عمل تاحال جاری ہے۔میں پاسداران کے لباس عسکریت کو زیب تن کئے ہوئے  ولایت فقیہہ نظام سیاست ایران کو اکثر شوق سے اور کبھی کبھی رشک سے بھی دیکھتا ہوں۔ مجھے کبھی بھی ان فتوحات پر  حسد کا جذبہ اپنے اندر دیکھنے کو نہیںملا۔ ان ایرانی انقلابی  سیاسی عسکری فتوحات کی روشنی میں مال دار عربوں کو تہہ و تیغ کیا جاچکا ہے۔ جو اد ظریف جیسے مغربی تعلیمی اداروں میں تعلیم یافتہ ریفارمر مفکر نے جس طرح امریکہ کو ایران کا ہمنوا بنا کر امریکہ ہی کو استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں سست الوجود‘ کاہل‘ جامد عربوں کے وجود کو تحلیل کرتے ہوئے ایرانی اہداف و مقاصد میں استعمال کیا ہے وہ دلچسپ مناظر پیش کرتا فلمی پردہ سکرین ہے جو دیکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتا رہتا ہے۔ سچی بات ہے اس وجود نے امریکہ کا نادر استعمال کر ڈالا حالانکہ اوبامہ عہد تو بغل گیر ہو کر ایران کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنا چاہتا تھا۔
امریکی مقاصد میں مشرق وسطیٰ  میں مالدار عرب بادشاہتوںکو توڑنا تھا۔ اس کے  یہ مقاصد جواد ظریف جیسے دور اندیش اور جنرل سلیمانی جارحانہ وژن کے ذریعے پورے ہوچکے ہیں۔ انقلاب توانا و پرعزم ہے اور امریکی وژن پٹ چکا ہے عرب تباہ و برباد ہوچکے۔ کچھ اطراف کا یہی حاصل مطالعہ ہے۔  عربوں کو موجودہ حکمران ایران نے بے بس کر دیا ہے۔ فنون ابلاغیات میں جارحانہ ایرانی وجود کا میں  خود تلخ و شیریں تجربہ اور مشاہدہ کرتا رہا ہوں۔ اسلام آباد میں ایرانی وجود ابلاغیات میں خود کو جارحانہ طور پر جس طرح پیش کرتا‘  منواتا‘ مخالف نقطہ نظر کو کچل دیتا ہے اس صلاحیت سے عرب بادشاہتیں اور ان کے سفارت خانے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اس اعتبار سے جناب مہدی ہنردوست اور ان کے ایرانی رفقاء فاتح قرار پائے ہیں جبکہ عرب سفارت خانوں بالعموم اور سعودی سفارتخانے میں صرف جمود‘ عدم  شوق‘ سستی و کاہلی‘  بلکہ عدم دلچسپی اکثر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ایران کو بھلا عربوں کے  حوالے سے ناکام کیسے کہا جاسکتا ہے؟ 



 

تازہ ترین خبریں