08:03 am
  منشیات کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت

  منشیات کے خلاف سخت آپریشن کی ضرورت

08:03 am

    خیبر پختونخوا میں آئس ڈرگ کے استعمال پر سات سال سزا اور تین لاکھ روپے جرمانہ جب کہ اس کی سمگلنگ پر عمر قید اور 14لاکھ روپے جرمانہ کا مجوزہ قانون وقت کی عین ضرورت ہے۔منشیات کے خلاف قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل در آمد نوجوان نسل کو تباہی اور ملک کو عالمی سطح پر بدنامی سے بچا سکتا ہے۔ پاکستان سے سعودی عرب منشیات  سمگل کرنے پر چند دن قبل ایک پاکستانی میاں بیوی کا سر قلم کیا گیا۔گزشتہ  پانچ برسوں میں سعودیہ میں 100پاکستانیوں کے سر قلم کئے جا چکے ہیں۔ سعودیہ میں اس وقت بھی سوا تین ہزار سے زیادہ پاکستانی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔ منشیات کی سمگلنگ یا استعمال پر وہاں سزائے موت دی جاتی ہےمگر یہاں سزائیں نرم ہیں۔ انسداد منشیات کے ادارے انٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف) کے مطابق  پاکستان کے 70لاکھ افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ان میں 40لاکھ بھنگ اور 25لاکھ اافیون کے شکار ہیں۔
 
 دنیا بھر میں روزانہ 685لوگ منشیات اور 49دہشت گردی سے ہلاک ہو رہے ہیں۔ منشیات کی وباء جس تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے، اُس نے سماج کے سبھی طبقوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ منشیات سمگل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے باوجود یہ وبا پھیل رہی ہے۔ جس نے تعلیمی اداروں کو اپنا ٹارگٹ بنایا ہےجہاں شیشہ اور آئس اور دیگر منشیات جدید ناموں اور طریقوں سے استعمال ہوتی ہیں۔ نوجوان نسل کی سائنس ، ٹیکنالوجی اور علم و ادب کی دنیا میں نام کمانے کے بجائے یوں منشیات کے ہاتھوں ذہنی تباہی سےکسی بھی سنجیدہ فکر اور دردمند شہری کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ سماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر صنف نازک  منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہوجائے تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل یقینی ہے جو نوع انسانی کیلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں نوجوان کسی خاص وجہ سے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادروں کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن انفرادی گرفتاریوں کے باوجود منشیات کی زنجیر میں منسلک افراد پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ المیہ تو یہ ہے کہ تعلیمی اداروں سے باہر بھی لوگ  اس وباء کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔گو کہ ادارے منشیات مخالف مہم میں سرگرم رہتے ہیں تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد سمیت بڑے شہر منشیات کے خریدو فروخت کی پسندیدہ جگہ بن رہے ہیں۔ 
اسلام آباد ائر پورٹ سے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کو حراست میں لیا گیاجس کے قبضے سے 13کلو ہیروئین برآمد ہوئی۔ اس کی مالیت 13کروڑ روپے بتائی گئی۔ خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ براستہ دوحہ قطر ، ویانا جا رہی تھی۔ کہا جاتا ہے خاتون کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔چند دن قبل لاہور ہائی کورٹ نے ایک چیک سلواکیہ کی خاتون کو سزا سنائی جو پاکستان سے ابو ظہبی ہیروئین سمگل کرنا چاہتی تھی، یہ خاتون پاکستان میں ماڈل کے طور پر کام کرنے آئی تھی۔  اسی طرح کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں زیر تعلیم ایک غیر ملکی طالب علم کو ائر پورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے قبضے کوکین برآمد کی گئی۔
   جہاں تک آزاد کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چند برس قبل تک کشمیری سماج منشیات سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمباکو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا، تاہم اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے۔چینیوں کو تودہائیوں قبل اس لت سے نجات مل گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر اس دلدل میں پھنستے ہی جارہا ہے اور یہاں ہرگزرنے والے سال کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات کا کاروبار فروغ پارہا ہے بلکہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میںتیزی کیساتھ اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق16 سے 30برس کے درمیانی عمروں کے لوگ اس خباثت کی طرف زیادہ آسانی سے راغب ہوتے ہیںجبکہ منشیات کے استعمال پر ماہانہ فی کس ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ظاہر ہے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔1980پہلے  ہیروئن اور دوسری سخت نشہ آو ر چیزیںافغانستان سے آ یا کرتی تھیں، لیکن اب ہیروئن اور اس سے وابستہ منشیات کی  اسمگلنگ کا بین الاقوامی ٹرانزٹ پوائنٹ بن رہی ہے۔ منشیات کی وباء طوفان کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور تشویشناک امر یہ ہے کہ چھوٹے بچے اور نوجوان اس کا شکار ہورہے ہیںبلکہ یہاں پوست بھی کاشت ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے ہزاروں ایکڑ رقبہ پر پوست کاشت ہوتی ہے۔ اے این ایف کے مطابق اس نے صرف 2016میں 3177ایکٹر رقبے پر کاشت پوست کو تباہ کیا۔بھنگ، پوست اور ایسی دوسری نشہ آور منشیات کو خریدنا اور فروخت کرنا بھی قانون کے تحت جرم ہے۔ 
  حق گوئی سے کام لیاجائے تو حکومتی سطح پر صرف کاغذی گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں جبکہ عملی سطح پر بہت کم کام ہورہا ہے،جس کے نتیجہ میں ہماری نوجوان نسل اس دلدل میں پھنستی ہی چلی جارہی ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو اس سماج  کے مستقبل کے بارے میں کچھ وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔اگر افیم زدہ چینی قوم،جو جاپانی راج کے زیر تسلط اس میں غرق ہوگئی تھی اس خجالت سے نجات پاسکتی ہے توماضی قریب تک اس لعنت سے نامانوس یہ قوم کیوں نشے کے سمندر میں غرق ہوتی جارہی ہے؟۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا ارباب حل و عقد اور اہل دانش اور سماجی حلقوں کو جواب دینا پڑے گا،وگرنہ یہی کہاجائے گا کہ ارباب اختیار، سیاستدان اور سماجی رہنما اس سماج کی بربادی کا تماشا دیکھنے پر تلے ہوئے ہیںجو کسی صدمہ عظیم سے کم نہ ہوگا۔ حکومت اس وباء کیخلاف موثر اور منصوبہ بند پالیسی کے ذریعہ عوام کو اس مصیبت سے نجات دلاسکتی ہے۔ جب نئی ڈرگ پالیسی کے تحت ٹریننگ مراکز کے قیام سے متاثرین کی بحالی ممکن بنائی جا سکتی ہےجبکہ منشیات سے متعلق آگاہی بھی کار آمد ثابت ہو گی۔ منشیات نسلوں کی نسلیں تباہ کر دیتی ہیں اس لئے سعودی عرب کی طرز پر منشیات سمگلنگ اور استعمال پر سخت سے سخت اسلامی سزا کا قانون نافذکرنے کو یقینی بنایا جائے۔