08:04 am
افغان عبوری حکومت کاقیام؟

افغان عبوری حکومت کاقیام؟

08:04 am

اسرائیل اورامر یکہ کی شہ پرحالیہ بھارتی جارحیت کے جواب میں خوفناک سازش کے بے نقاب ہوجانے پرننگرہارکے امریکی فوجی اڈے پرطالبان کے خوفناک حملے میں امریکہ اوراسرائیل کاجوناقابل تلافی نقصان ہواہے، عالمی میڈیاکے مطابق پچھلے سات سال میں اس قدرہزیمت نہیں اٹھانی پڑی اوراب امریکی انخلاء کیلئے انتہائی عجلت میں ہیں۔ امریکہ اس حملے میں ہونے والے بھاری نقصان کاغصہ افغان حکومت پرنکال رہاہے جس کیلئے امریکہ نے اشرف غنی حکومت کے سلامتی کے مشیرکوفوری ہٹانے کی ہدائت کردی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں امریکی سفیرنے پہلی باراعتراف کیاہے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات کے حوالے سے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت نہیں کررہے ہیں بلکہ افغان طالبان ایک عبوری حکومت کیلئے مہم چلارہے ہیں جس کی طالبان نے سختی سے تردید کی ہے جبکہ سابق افغان حکومت کے سابق صدر حامدکرزئی نے عمران خان کوافغانستان میں مداخلت سے بازرہنے کاانتباہ کیاہے۔
 
افغانستان کے شمالی صوبہ قندوزمیں گزشتہ دنوں طالبان نے گھات لگاکرپانچ امریکی فوجیوں کو ہلاک اورآٹھ کوشدیدزخمی کردیاتھاجس پرامریکہ نے افغان فوج کواس وقت نشانہ بنایاجب وہ حملے کی جگہ کو گھیر کرامریکی فوجیوں کونکالنے کی کوشش کررہے تھے جس کے نتیجے میں سولہ سے زیادہ افغان فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے جس پرنہ صرف امریکہ اور افغانستان کی طرف سے درمیان ایک دوسرے پرالزامات عائدکیے گئے بلکہ دوسری جانب افغان حکومت کے بعض بیانات پر امریکہ نے سارے حملوں کاغصہ افغان حکومت پرنکالناشروع کر دیا ہے۔ امریکہ نے افغان حکومت پرالزام لگایاہے کہ وہ طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات ناکام بنانے کی کوششیں کررہی ہے کیونکہ امریکہ نے نہ صرف طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تما م شرائط اورجزیات سے افغان حکومت کوآگاہ کیاہے بلکہ افغان حکومت کوہرمرحلے پراعتمادمیں لیاہے لیکن افغان حکومت دوغلی پالیسی اپناکرایک طرف ان مذاکرات کوسبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے اوردوسری جانب امریکہ پرالزامات عائد کر کےایساتاثردینے کی کوشش کررہا ہے کہ افغان حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے اعتمادمیں نہیں لیاجارہاہے لہٰذاافغان حکومت کوچاہئے کہ وہ فوری طورپراپنے سلامتی کے مشیرحمداللہ محب کوفوری طورپربرطرف کردے اوراس کی جگہ نیامشیرمقررکرے ۔اگرایسانہ کیا گیا تو امریکہ افغان طالبان کے ساتھ آئندہ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت سے افغان حکومت کوآگاہ نہیں کرے گا ۔
ان دھمکیوں کے بعدافغان حکومت نے افغان سلامتی کے مشیرکیلئے معصوم استنکزئی اورفاضلی کے ناموں پرغورکرناشروع کردیاہے تاہم ابھی تک حکومت نے کسی نام کافائنل نہیں کیا ہے۔اگرامریکہ کی دھمکیوں پرافغان سلامتی کے مشیرکوہٹایاجاتاہے تونہ صرف افغان طالبان کوپروپیگنڈہ کرنے کاموقع مل جائے گابلکہ افغان صدرکوسیاسی طورپربڑادھچکالگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت فی الحال ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ۔ 
دوسری جانب افغانستان میں امریکی سفیرنے پہلی باراعتراف کیاہے کہ افغان طالبان اورامریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات پربحث نہیں کررہے ہیں تاہم انہوں نے الزام عائدکیاہے کہ افغان طالبان ایک عبوری حکومت کے قیام کیلئے مہم چلارہے ہیں اورمذاکرات کے دوران دیگر افغان دھڑوں کواس پر قائل کرناشروع کردیاہے جس کی وجہ سے افغان حکومت کی پوزیشن دن بدن کمزورہوتی جارہی ہے اورافغان طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے ہیں اوردیگرافغان دھڑوں کے ساتھ مل کرحکومت قائم کرناچاہتے ہیں تاہم افغان طالبان نے اس کے ردِّعمل میں کہاہے کہ افغان طالبان نے کوئی مہم شروع نہیں کی ہے اورنہ ہی افغان طالبان کیلئے یہ ضروری ہے۔
افغان طالبان افغانستان کے اندرونی مسائل پرامریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہے ہیں ،جب امریکہ کے ساتھ معاملات حل ہوجائیں گے اس کے بعداس بات پرغورکیاجائے گا کہ آیاایک عبوری حکومت کیلئے بات چیت کی جائے یانہیں تاہم فی الحال ایساممکن نہیں ہے کیونکہ سب سے پہلے امریکہ کے ساتھ معاہدہ ضروری ہے ،اس کے بعدافغان آپس میں مل کربات کریں گے ۔دوسری جانب افغانستان کے سابق صد ر حامدکرزئی نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افغانستان میں ایک عبوری حکومت کے قیام کے ذریعے افغان مسائل کاحل تلاش کرنے کے بیان پرشدیدردّ ِعمل کااظہارکرتے ہوئے متنبہ کیاہے کہ انہوں نے دوبار افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے لہنداآئندہ عمران خان احتیاط سے کام لیں۔افغان کس طرح کام کرناچاہیں گے اورکس طرح کام کریں گے ،یہ افغانوں کااپنااندرونی معاملہ ہے،پاکستان کے وزیراعظم کواس طرح کے بیانات دینے سے گریزکرناچاہئے۔ کرزئی نے متنبہ کیاہے کہ افغانستان اس وقت جن حالت سے گزررہاہے ،اس میں احتیاط کی ضرورت ہے۔افغان طالبان اورامریکہ کے مابین مذاکرات کے بعدبین الافغانی مذاکرات میں فیصلہ کیاجائے گاکہ عبوری حکومت قائم کی جائے یانہیں جبکہ سیع البنیادحکومت کی بات بھی ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب افغان سلامتی کے سابق مشیر حنیف اتمرنے بیان دیا کہ عبوری حکومت قائم ہونے جارہی ہے جس کے بعداشرف غنی کے اقتدارکاسورج ہمیشہ کیلئے غروب ہوجائے گا انہوں نے کابل میں ایک کانفرنس کے دوران کہاکہ وہ یہ بات انتہائی وثوق سے کہہ رہے کہ آئندہ دوماہ میں اشرف غنی کی حکومت نہیں ہوگی اورافغانوں کی زندگی کانیاسفرشروع ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ،اس لئے ضروری ہے کہ دوماہ کے بعدافغان ایک نئی حکومت کے قیام کیلئے تیاری کریں۔سلامتی کے سابق مشیرکے اس اہم بیان کے بعد افغانستان میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ سابق مشیرکونہ صرف امریکی حمائت حاصل ہے بلکہ انہیں عبوری حکومت کیلئے اعتمادمیں لیاگیاہے۔ افغانستان میں ایک عبوری حکومت کے قیام کے حوالے سے بہت زیادہ بحث مباحثہ شروع ہوگیاہے جبکہ اشرف غنی کی کوشش ہے کہ عبوری حکومت کی بجائے افغانستان میں امریکااورافغان طالبان کے درمیان معاہدے سے قبل صدارتی انتخابات کاانعقاد ہو تاہم حامدکرزئی اوردیگرتمام افغان ایک وسیع البنیاد حکومت جس میں ان کوبھی حصہ ملے،قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

 

تازہ ترین خبریں