08:05 am
پارلیمنٹ کی ترجیح اور چھترول؟

پارلیمنٹ کی ترجیح اور چھترول؟

08:05 am

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کہتے ہیں کہ ’’بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجيحات میں شامل نہیں‘ جلد انصاف کی فراہمی کے لئے پارلیمنٹ کو 17رپورٹیں دے چکے ہیں‘ ایوان نے کسی پر مکمل عمل نہیں کیا‘ امریکی سپریم کورٹ سال میں 80‘ برطانوی 100مقدموں کا فیصلہ کرتی ہے جبکہ ہم نے سال میں 26ہزار مقدمات نمٹائے ‘‘
 
جس پارلیمنٹ کو سب سے سپریم ہونے کا دعویٰ ہے اس پارلیمنٹ کے اسپیکر یا کوئی دوسرا ترجمان قوم کو بتانا پسند کرے گا کہ آخر پارلیمنٹ کی ترجیح ہے کیا؟ عوام کے دکھوں کا ازالہ کرنا اگر پارلیمنٹ کی نہیں تو پھر کس کی ذمہ داری ہے؟ پاکستان عدل و انصاف اور مساوات سے محروم چلا آرہا ہے‘ یہاں قانون کی بالادستی کا تصور مفقود ہو چکا ہے۔ جس کی لاٹھی اسکی بھینس...قانون سرمایہ دار اور طاقتور کے در کا دربان‘ غریب کو گھسیٹنا اور امیر کو سیلوٹ کرنا‘ غریب کی فائل روک لینا‘ دولت اور قبضہ مافیا کی فائلوں کو پہیہ لگا دینا۔
ملزم اگر غریب ہو اور ہاتھ نہ آئے تو اس کے گھر کی عورتوں کو گھسیٹے ہوئے تھانوں میں بند کر دینا اور طاقتور ملزم کے گھرانے کی خواتین کو نیب کا نوٹس بھی چلا جائے تو میڈیا کے ذریعے کہرام مچا دینا‘ آخر یہ سب کیا ہے۔ آصف سعید کھوسہ انتہائی باوقار شخصیت کے مالک اور ان کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ یہ خود کم بولتے ہیں البتہ ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ جلد انصاف کی فراہمی کے لئے پارلیمنٹ کو 17رپورٹیں دی جاچکی ہیں جن پر ایوان نے  نے مکمل عمل نہیں کیا‘ تو یقینا درست کہہ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میںا گر ممبران اسمبلی کی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ ہو‘ ممبران اور وزرائے کے لئے نئی گاڑیوں‘ گھروں اور دفاترکی تزئین و آرائش کا مسئلہ ہو تو پوری پارلیمنٹ ’’محمود و ایاز‘‘ کی تمیز ختم کردیتی ہے ...اپوزیشن اور حکومت کے دائروں سے نکل کر آناً فاناً ان مسائل کو حل کرلیا جاتا ہے۔
پھر نہ کوئی پیپلزپارٹی کا رکن ہوتا ہے  نہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ  کا‘ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے یہ سب یکجان دو قالب کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں لیکن جب معاملہ آئے عوام کے مفاد کا‘ جب مسئلہ آئے جلد انصاف کی فراہمی کا تو پھر انہیں سپریم کورٹ کی طرف سے فراہم کردہ رپورٹوں پر عمل کرنے کی بھی توفیق نہیں ملتی‘ کیا 1947ء میں برصغیر کے مسلمانوں سے لاکھوں جانیں قربان کرکے یہ ملک اس لئے بنایا تھا کہ اس کی پارلیمنٹ کرپشن اور کرپٹ لوگوں کے تحفظ کے لئے استعمال کی جائے؟
 کہتے ہیں کہ فلاں ادارہ مداخلت کرتا ہے‘ فلاں ادارہ کام نہیں کرنے دے رہا... کوئی ان سے پوچھے کہ وزارتوں کا پروٹوکول اور اس سے جڑے ہوئے ثمرات اور مفادات تم سمیٹو‘ وزارت عظمیٰ کا اسٹیٹس انجوائے تم کرو‘ اگر کوئی ادارہ تمہیں قوم کو انصاف فراہم کرنے سے روکتا ہے تو پھر آج تک کتنے وزیراعظم ہیں یا کتنے وزراء ہیں کہ جنہوں نے یہ کہہ کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہو کہ فلاں ادارہ ہمیں کام نہیں کرنے دیتا یا ہمارے کام میں مداخلت کرتا ہے‘ لہٰذا ہم قوم کے وسیع تر مفاد میں مستعفیٰ ہونے  کا اعلان کرتے ہیں‘ کوئی نہیں کوئی ایک بھی نہیں؟
دعویٰ سپریم ہونے کا‘ تحفظ صرف اپنے ذاتی مفادات کو‘ دعویٰ جمہوریت کا اور انداز آمرانہ‘ دعویٰ عوام کی نمائندگی کا‘ اور ڈاکہ بھی عوامی حقوق پر...ہم نے کب چاہا کہ پارلیمنٹ سپریم نہ بنے؟ عوام نے کب کہا کہ پارلیمنٹ جمہوری نہ بنے‘ لیکن سپریم ہونے یا جمہوری ہونے کا مطلب صرف یہی ہے کہ جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہو تو پارلیمنٹ کرپشن کے الزامات تلے دبے یا احتساب عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے والوں کے ’’حصار‘‘ سے ہی نہ نکل سکے‘ فلاں کے پروٹیکشن آرڈر جاری کیوں نہیں ہوئے؟ اس لئے واک آئوٹ‘ فلاں کے گھر پہ چھاپہ کیوں مارا گیا؟ اس لئے واک آئوٹ‘ فلاں لیڈر کو چور‘ ڈاکو کیوں کہا گیا؟ اس لئے پارلیمنٹ نہیں چلنے دیں گے‘ ارے بھائی یا تو مولانا فضل الرحمن کی بات مان لیتے اور رکن اسمبلی کے طور پر حلف ہی نہ اٹھاتے...اب اگر حلف اٹھا ہی لیا ہے تو کیا یہ حلف صرف شریف یا زرداری خاندان کی کرپشن کہانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اٹھایا ہے؟ کیا حکومتی وزیروں اور اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ کا حلف صرف اپوزیشن رہنمائوں پر الزامات کی بارش کرنے اور عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے پیسنے کے لئے اٹھایا تھا؟وزیر پارلیمانی امور اعجاز شاہ کی بھی سنیے! وہ فرماتے ہیں کہ ’’عوام دھوکے بازوں کی کال پر سڑکیں بلاک نہ کریں‘ ورنہ چھترول ہوگی‘‘ قومی خزانے سے  پروٹوکول اور مراعات حاصل کرکے عوام کو ’’چھترول‘‘ کی دھمکیاں دینا کیا جمہوریت اسی کا نام ہے؟
غرضیکہ اپوزیشن ہو یا حکومت یہاں آوے کا  آواہی  بگڑا ہوا  ہے...کاش کہ اپوزیشن کرپشن کہانیوں کے بوجھ تلے افراد کے سحر سے نکل کر عوام کے مفادات کے لئے بھی مل بیٹھتی...اے کاش کہ اپوزیشن پارلیمنٹ سے واک آئوٹ ‘ بائیکاٹ مہنگائی کے خلاف بھی کرتی...اپوزیشن کے قائدین اور اراکین مہنگائی اور ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا  اعلان کرتے تو ممکن ہے کہ عوام یہ سوچنے پر مجبور  ہو جاتے کہ اپوزیشن کے دل میں بھی عوام کا درد موجود ہے‘ حکومت تو ویسے ہی سگندل ہے لیکن اپوزیشن بالخصوص پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے دل بھی عوام کی بجائے کرپشن کہانیوں کے کردار شریف اور زرداریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
کسی کو اچھا لگے یا برا‘ لیکن یہ خاکسار سیاسی اور عوامی معاملات پر اسی غیر جانبدارانہ انداز میں پوری طاقت کے ساتھ آواز حق بلند کرتا رہے گا‘ ہاں جب معاملہ آئے گا اسلام کا تو پھر غیر جانبداری گناہ عظیم ہے تو نہیں الحمداللہ گنہگار ہونے کے باوجود سب سے پہلے مسلمان اور اسلام پسند ہوں‘ اس کے بعد کچھ اور‘ اللہ پاک ہم سب کے حال پر اپنا  خصوصی فضل فرمائے(آمین)
 

تازہ ترین خبریں