08:06 am
آٹھ ماہ میں چار آئی جی پولیس

آٹھ ماہ میں چار آئی جی پولیس

08:06 am

٭پنجاب کا آئی جی پولیس تبدیل، آٹھ ماہ میں چار آئی جی اب چیف سیکرٹری؟O شہباز شریف کی خواتین کی نیب میں طلبی منسوخO آئی ایم ایف آٹھ ارب روپے، ایشیائی بنک سے چھ ارب ڈالر ملیں گے، Oتمام الزامات جھوٹے ہیں، کوئی بدعنوانی نہیں کی، عمران خان کے 12 کروڑ کے اثاثے چار ارب کے کیسے ہو گئے؟سلیمان شہباز شریفO ’’نوازشریف کی صحت کو سخت خطرہ ہے‘‘:مریم نواز۔ رہائی کے 22 دن، کوئی علاج نہیں کرایا گیا!!Oنئے الیکشن ضروری ہیں:فضل الرحمن۔
 
٭پنجاب کے آئی جی پولیس امجد جاوید سلیمی کو اچانک فارغ کرکے شہباز شریف دور کے آئی جی عارف نواز کو پھر آئی جی بنا دیا گیا۔ امجد جاوید سلیمی سندھ کے بھی آئی جی رہ چکے ہیں۔ وہ سندھ کے بعد پنجاب کی حکومت کو بھی راس نہ آ سکے۔ آزاد اور ذرا اکھڑ مزاج کے افسر تھے۔ اصل فرائض پر توجہ دینے کی بجائے زیادہ توجہ 90 کروڑ روپے سے پولیس کی تین لاکھ نئی وردیاں بنانے پرمبذول رکھی! وزیراعلیٰ اور وزراء ان سے مسلسل ناراض رہتے تھے۔ انہیں کسی نئی ذمہ داری کے لئے اسلام آباد بلا لیا گیا ہے۔ دوسری طرف نئے بلکہ پرانے آئی جی کی واپسی بھی حیرت انگیز ہے۔ میاں شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ انہیں خاص طور پر اس عہدہ کے لئے منتخب کیا تھا۔ 31 مئی 2018ء کو شہبازشریف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد انہیںجون میں سیکرٹری نارکوٹکس بنا دیا گیا۔ ان کی جگہ کلیم امام کو لایا گیا۔ نئے وزیراعلیٰ محمد عثمان بزدار کو وہ پسند نہ آئے اور ستمبر میں طاہر نورانی کو آئی جی بنا دیا گیا۔ کلیم امام نے تو پھر بھی تین ماہ گزار لئے، طاہرنورانی ایک ماہ بھی نہ چل سکے اور اکتوبر میں ان کی جگہ سندھ کے آئی جی امجد جاوید سلیمی کو لایا گیا مگر وزیراعلیٰ بزدار ان سے بھی مطمئن نہ رہ سکے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خا ن لاہور آئے، تو وزیراعلیٰ اور دوسرے وزراء کی آئی جی کے خلاف سخت شکایات پر وزیراعظم نے امجدجاوید سلیمی کو تبدیل کردیا۔ اب ترتیب یوں بنتی ہے کہ آٹھ ماہ کے دوران پنجاب میں چار آئی جی، عارف نواز، کلیم امام، طاہرنورانی،امجد سلیمی اور پھر عارف نواز!!یعنی زمین گول ہے! ویسے محققین کے مطابق زمین گول ہونے کے اور شواہد بھی ہیں مثلاً یہ کہ چوہابلی سے ڈرتا ہے، بلی کتے سے ڈرتی ہے، کتا مالک سے، مالک بیگم سے ڈرتا ہے اور بیگم چوہے سے ڈرتی ہے! پس ثابت ہوا کہ زمین گول ہے۔
٭گزشتہ کالم میں شہباز شریف کی اہلیہ اوربیٹیوں کو نیب میں طلب کئے جانے پر اعتراض کیا گیا تھا اور تجویز دی گئی تھی کہ کوئی بات پوچھنی ہے تو ان کے گھروں پر سوالات پہنچائے جائیں۔ مقام تحسین ہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) نے بروقت نوٹس لے کرشہباز گھرانے کی خواتین کی طلبی کے نوٹس منسوخ کر کے ہدائت کی ہے کہ انہیں طلب کرنے کی بجائے انہیں سوالات بھیجے جائیں۔ یہی مناسب رویہ ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے سارے معاملات میں خود دیکھوں گا، کوئی ناانصافی نہیں ہو گی مگر میرٹ پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں ہو سکتا! محترم چیئرمین صاحبٍ! آپ نے پچھلے ماہ بھی کہا تھا کہ شریف خاندان کے معاملات میں خود دیکھوں گا! پھر؟ یہ دوسرے لوگ کیوں بیچ میں آ گئے! بہرحال دیر سے سہی، مناسب فیصلہ ہے مگر یہ اصول ملک کی جھونپڑیوں میں رہنے والی خانہ بدوش خواتین کے بارے میں لاگو ہونا چاہئے۔ ان جھونپڑیوں میں رہنے والی خواتین بھی شریف، زرداری اور نیازی خاندانوں جیسی ہی محترم اور قابل تکریم ہیں۔ ویسے تاریخ کیا کچھ یاد دلا دیتی ہے؟ نواز شریف وزیراعظم تھے تو سٹیل ملز کے سابق چیئرمین عثمان فاروقی کی بیٹی شرمیلا فاروقی اور اس کی والدہ کو کراچی کی پولیس نے گھر سے اٹھایا اورایک تھانے کی حوالات میں بند کر کے ننگی زمین پر بٹھا دیا۔ اخبارات میں تصویر چھپی تو وزیراعظم کو اسلام میں خواتین کی حرمت یاد آ گئی۔ ان ماں بیٹیوں کو حوالات سے تو نکال دیا گیا مگر پھر نوازشریف کے زیر سایہ احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمن نے ان خواتین کو اسلام آباد میں اپنے پاس طلب کر لیا۔ یہ نہائت کرب ناک داستان ہے۔ تہذیب مجھے اس کی تفصیل میں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ تاہم پاکستان ٹیلی ویژن لاہور کے موجودہ پروگرام منیجر سیداحمد فرید نے اس داستان کو ایک کتاب کی شکل میں چھاپ دیا۔ یہ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ استغفار! قدرت بھی کس کس طرح انسان کو عبرت سے روشناس کراتی رہتی ہے! آج سیف الرحمان کہاں ہے؟
٭مولانا فضل الرحمان نے پھر نئے انتخابات کامطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبہ کے بارے میں حکومت جانے اور مولانا جانیں! صرف اتنی سی بات کہ 2018ء کے انتخابات پر 25 ارب روپے خرچ ہوئے تھے، اب اس سے زیادہ اخراجات ہونگے، وہ کہاں سے آئیں گے؟ اور مولانا؟ کیا آپ کو ’’کہیں‘‘ سے یقین دہانی ہوگئی ہے کہ نئے انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے؟ ن لیگ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم،جے یو آئی؟ کون سا گھوڑا بھاری اکثریت سے جیتے گا؟ پھر یہی حکومت آ گئی تو ؟؟
٭بڑے میاں نوازشریف کے بعد چھوٹے میاں شہباز شریف کے خاندان پر بھی بھاری منی لانڈرنگ (تین ارب 69 کروڑ روپے) کے الزام وغیرہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ شہباز شریف کے چھوٹے بیٹے سلیمان شہباز نے اس الزام کو بالکل غلط قرار دیا ہے اور الٹا سوال کر دیا ہے کہ عمران خا ن کے اثاثے 12 کروڑ سے بڑھ کر چار ارب تک کیسے پہنچ گئے؟ یہ دو بیلوں کے آپس میں سینگ پھنسانے کا معاملہ ہے! ’’تُو تُو مَیں مَیں‘‘ ہو رہی ہے تُو تُو، زیادہ مَیں مَیں کم! ان کے سوال جواب پر ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔ مجھے ایک معروف تمغہ یافتہ سفر نامہ نگار، شاعر نے اسی سطح کے دوسرے سفر نگار کے بارے میں کہا کہ دیکھو وہ سپین گیا ہی نہیں اور سپین کا سفر نامہ چھاپ دیا ہے۔ میں نے یہ بات چھاپ دی اور دوسرے سفر نامہ نگار سے اس بارے میں پوچھا، اس نے کیا جواب دیا کہ میں سپین گیا یا نہیں، اس بات کو چھوڑیں اور الزام لگانے والے سے کہیں کہ وہ سپین کے سفر کے بارے میں اپنی باتیں چھاپے، میرا سفر نامہ کیوں نقل کر رہا ہے؟ … اور…اور قارئین کرام! آج کل لاہور کے معروف ادبی ماہنامہ ’الحمرا‘ میں معروف سفرنگار خاتون تسنیم کوثر کا سپین کے حالیہ سفر کا چشم دید سفرنامہ چھپ رہا ہے، میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں کہ ان دونوں بڑے ایوارڈ یافتہ سفر نامہ نگاروں نے سپین خاص طور پر الحمرا محل اور مسجد قرطبہ کے بارے میں بالکل غلط اور محض سنی سنائی فرضی باتیں شائع کی ہیں! الحَذَر! الامان! یہ دونوں حضرات زندہ ہیں، میرے گہرے دوست ہیں، شائد اب دوستی…!!
٭نوازشریف جیل میں تھے تو بیٹی مریم نواز اور ن لیگ کے بعض رہنما دن رات طوفان اٹھائے رکھتے تھے کہ مریض کا علاج نہیں ہو رہا۔ پانچ میڈیکل بورڈ بیٹھے، تقریباً یکساں رائے دی کہ مریض کی بیماری ایسی بے قابو اور خطرناک نہیں، دل اور گردوں کا کچھ مسئلہ ہے اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ عدالت نے چھ ہفتے کے لئے عارضی رہائی دے دی۔ اس رہائی کو 22 دن گزر چکے ہیں۔ نوازشریف لاہور میں اپنے گھرجاتی عمرا میں آرام کر رہے ہیں، دو تین معائنے بھی ہو چکے ہیں مگر 22 دنوں میں ابھی تک علاج شروع نہیں۔ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا گزشتہ روز کا بیان ہے کہ علاج کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ کیا اور کہاں ہو سکتا ہے؟ پاکستان میں یا باہر؟ دکھائی یہ دے رہا ہے کہ کسی طرح علاج کو صرف لندن میں ناگزیر ثابت کر کے عدالت میں رہائی کی مدت میں توسیع لینے کی کوشش کا امکان ہے۔ پھر ایک بار لندن چلے گئے تو؟ پرویز مشرف، اسحق ڈار، ایان علی، عشرت العباد بھی تو اسی طرح باہر آرام کر رہے ہیں!
٭ایک قاری نے نیب سے ایک اہم سوال کیا ہے کہ علیمہ خان کیس، خسروبختیار کیس، عمران خاں کا بنی گالہ ریگولرائزیشن کیس اور پرویز خٹک کیس کا کیا بنا؟ یہ کیس ابھی زندہ ہیں یا؟

 

تازہ ترین خبریں