07:39 am
بات تو سچ ہے....

بات تو سچ ہے....

07:39 am

گزشتہ دور حکومت میں نیب عدالتوں نے کام شروع کیا جو آج کل زوروں پر چل رہا ہے۔ بظاہر نیب حکومت زدہ نظر آتا ہے لیکن یہ بات نہ نیب اور نہ ہی حکومت وقت تسلیم کرنے کو تیار ہے۔عدلیہ اور نیب کے درمیان رسہ کشی کا احساس ہو رہا ہے اور نیب کی جانب داری ظاہر ہو رہی ہے کیونکہ تمام اعلیٰ سیاسی شخصیات کے لیے تما تر سخت بلکہ سخت ترین رویوں اور لہجوں کے، انہیں طبی بنیاد پر ضمانتیں بھی مل جاتی ہیں اور جیل سے وہ رہا بھی کردیے جاتے ہیں لیکن عام انسان جو بدقسمتی سے نیب کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہیں بغیر سزا سنائے، بغیر مقدمہ چلائے، جیل میں بند رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی بے گناہ تو صرف احساس ندامت سے وفات پاچکے۔
 
موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان  آصف سعید کھوسہ  جو بڑے حساس اور خاموش طبع ہیں، نے بڑی دل سوزی سے ارشاد فرمایا ہے کہ بدنصیبی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔عدالت عالیہ کی طرف سے جلد انصاف کی فراہمی کے لیے پارلیمنٹ کو سترہ رپورٹیں بھیجی گئیں لیکن کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ جب کہ پارلیمنٹ کا تو کام ہی قانون سازی ہے۔ جب قانون ساز ہی قانون بنانے سے گریز کریں گے تو پھر کیسے اور کیونکر عدلیہ درست اور جلد فیصلے کرسکتی ہے۔ کابینہ کے ارکان سب کے سب اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وڈیرے، جاگیردار ہیں یعنی پارلیمنٹ کے ارکان غریب یا درمیانے طبقے سے تعلق نہیں رکھتے۔ اسی لیے شاید انہیں اپنے سے نچلے طبقے کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اگر کسی طرح پارلیمنٹ کے ارکان یا حزب اختلاف میں شامل ارکان کو کوئی دشواری یا قانونی مسئلہ درپیش ہوتا بھی ہے تو ان کے لیے ان کے استحقاق کی آڑ میں بہت جلد تمام معاملے نمٹ جاتے ہیں۔ ان کے جرائم بھی جرائم نظر نہیںآتے۔
 شاید یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں غریب کے لیے کچھ اور قانون ہے اور امیر کے لیے اور، یہی وجہ ہے کہ عوام عذابِ مسلسل میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کی جان و املاک غیر محفوظ رہتی ہیں۔ جب کہ سرکاری عمال اور حکام کی حفاظت کے نام پر درجنوں گارڈ و گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ عام شہری کا کوئی پرسان حال نہیں۔ عوام کے ووٹ سے پارلیمان میں جانے والا ہر رکن اسمبلی حلف اٹھاتے ہی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کس سیڑھی سے پارلیمان کی بلند و بالا عمارت میں پہنچا ہے۔ وہ ہوس قتدار میں مبتلا ہو کر یہ بھول جاتا ہے کہ عوام نے اسے کس کام کے لیے منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ یہاں قانون سازی کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ عوام کو انصاف ان کی دہلیز پر نہ سہی، عدالتوں میں ہی ملے لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔
چیف جسٹس  آصف سعید کھوسہ اس تمام منظر کو دیکھ بھی رہے ہیں اور عوام کا درد محسوس بھی کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عدالتی نظام میں تبدیلی و اصلاح کی بات کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عدالتی نظام اور اصلاح کے بغیر ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہیں۔ عدلیہ کے جج صاحبان کی صلاحیتوں اور خدمات سے قطع نظر جب تک نظام حکمرانی میں تبدیلی و اصلاح نہیں ہوتی اس وقت تک عدلیہ کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات ، پولیس اور وکلائے استغاثہ کے مرہون منت رہیں گے۔ یہی انصاف کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں‘ کیونکہ آج عدالت ثبوت و شواہد کی محتاج ہے جب کہ اسلامی معاشرے کی عدلیہ میںایمان اور ضمیر، انصاف کی فراہمی میں معاون ہوا کرتے تھے۔ شاید اسی باعث چیف جسٹس  نے گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کو قرار دیا ہے تاکہ جلد فیصلہ سنایا جاسکے۔ اور ایک مہذب معاشرہ تشکیل پاسکے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ فوری انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کردینا چاہتے ہیں۔ اب وکیل کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے کسی مقدمے کی سماعت ملتوی نہیں ہوسکے گی۔ گواہ کو پیش کرنے کی ذمہ داری حکومت کے سر ڈال دی گئی ہے۔ اب فیصلہ چند روز میں سنایا جاسکے گا۔
 چیف جسٹس صاحب نے ارکان پارلیمان سے بھی کہا کہ وہ عوام کو سستا اور جلد انصاف فراہم کرنے میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ضروری قانون سازی کریں۔ انہوں نے سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے ایک سو سولہ ماڈل کورٹس کے جج صاحبان کو پاکستانی عدلیہ کا ہیرو قرار دیا ہے۔ انہیں سلام کیا ہے۔ پاکستان میں عدلیہ نے ایک سال کی مدت میں چھبیس ہزار مقدمات کا فیصلہ سنایا۔ ججوں پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا جب کہ امریکی سپریم کورٹ سال میں صرف اسی مقدمات اور برطانوی عدلیہ سو مقدمات کا فیصلہ سناتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ججوں کی تعداد تین ہزار ہے  تاہم انہوں نے دوہزار اٹھارہ میں چونتیس لاکھ مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں۔
 چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کفر کا معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے، لیکن انصاف کے بغیر معاشرہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ وطن عزیز میں چھوٹی بڑی عدالتوں میں گزشتہ سترہ برسوں کے دوران عام شہری ذلیل و خوار ہوئے۔ انہوں نے اپنی صحت، زندگی اور اثاثے بھی مقدمات کی نذر کیے۔ جب کہ اعلیٰ طبقہ اپنے سرمائے سے بھاری بھرکم فیس ادا کرکے بڑے بڑے وکیل کرکے سزا سے بچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ دوسروں کا حق مار کر خوش ہوتا ہے اور قانون کو پیر کی جوتی سمجھتا ہے۔ متمول اور مقتدر شخصیات کے شب و روز کا عوام سے موازنہ کیا جائے تو ایک طرف غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور بیماری کی انتہا نظر آئے گی تو دوسری طرف عوام کی نمائندگی کے نام پر اقتدار حاصل کرنے والے عیش و عشرت میں نظر آئیں گے۔
 

تازہ ترین خبریں