07:41 am
قرآن مجید کی حکمت و معرفت کا نقطہ عروج

قرآن مجید کی حکمت و معرفت کا نقطہ عروج

07:41 am

قرآن مجید کی دو سورتوں یعنی سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف کو حدیث کی اصطلاح میں باہم بہنیں قرار دیا گیا ہے۔اپنی معنویت ،ظاہری مشابہت اور مطالب کے اعتبار سے یہ دونوں سورتیں قرآن مجید کی حکمت و معرفت کا نقطہ عروج ہیں۔بلکہ ایک اعتبار سے تعلیمات قرآنی کا لب لباب ہیں۔ان سورتوں میں اس کائنات کے اصل حقائق کے بارے میں بات ہوئی ہے۔حقائق کے دو روپ ہیں، ایک ظاہر دوسرا باطن۔ہمارے حواس خمسہ ظاہر تک محدود ہیں۔ لیکن ان کے پس پردہ اصل حقائق کی طرف نظر نہ جائے تو یہی محجوبیت اور غفلت ہے اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو حقیقت الحقائق سے غافل کردیتی ہے۔بقول علامہ اقبال
 
 اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
  جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
ان سورتوں میں حقائق کائنات کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔سورہ الکہف تو دجالی فتنے سے بچنے کے لئے ایک اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔تمام علمائے دین کا اس پر اتفاق ہے کہ دجالی فتنے کی تمام علامات جو احادیث نبوی ﷺ میں آئی ہیں ، وہ اس دور میں پوری ہورہی ہیں۔تو گویا عصر حاضر کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس سورت کے معانی سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ایک تو دجال کی شخصیت کا تذکرہ ہے یعنی المسیح الدجال ۔ اسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے ۔احادیث کے مطابق (حزب اللہ کے امام کے طور پر)امام مہدی کا ظہور ہوگا۔وہ شیطان کے ایجنٹ یہود کا قلع قمع کریں گے۔مسلمانان عالم کے لئے یہ سخت امتحان کا دور ہوگاجو صرف اللہ پر بھروسہ کریں گے۔ ان سورتوں کے مطالب کو امت مسلمہ کے موجودہ حالات کی روشنی میں دیکھنا مقصود ہو تو واقعی ان کے ایک ایک لفظ پر غور کرنا چاہئے۔
پہلے دور میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس دجالی فتنے کا سب سے بڑا شرک مادہ پرستی کا شرک ہے یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔ہم باطل قوتوں کے آگے سجدہ ریز ہیں۔اس سے کاملتاً پاک بہت کم لوگ ہیں۔ہم صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اور اصل حقائق کی تہہ تک نگاہ نہیں اٹھتی۔ یہی مادہ پرستی ہے۔بہبود آبادی کے منصوبوں اور پروگراموں سے معلوم ہوتا ہے کہ فیصلے قرآن وحدیث سے ہٹ کرکئے گئے ہیں۔ہمارے بڑے پنڈتوں کے نزدیک اصل مسئلہ اس وقت آبادی کی کثرت کا ہے۔وہ صرف زمینی حقائق دیکھتے ہیں ۔اس سے آگے ان کی نظر نہیں جاتی ۔قرآن کہتا ہے کہ رزق ہم مہیا کرنے والے ہیں ۔تم اللہ کا نظام قائم کرو تو زمین و آسمان کی برکتیں تم پر نازل ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں بھیج کر کچھ حجابات اس پر ڈال رکھے ہیں کہ اس کی نگاہ براہ راست حقیقت کو نہیں دیکھ سکتی۔اللہ غیب میں نہیں، ہم امتحاناً غیب میں ہیں۔جو کچھ پردے حجابات ہم پر ڈالے گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی زندگی میں ایک کشش ہے اور انسا ن اسی میںمحو ہوکر رہ جاتا ہے۔بقول علامہ اقبال       
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے    
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق
دنیوی زندگی کی یہ چمک دمک ایک حجاب ہے اور یہ حجاب دور حاضر کے مقابلے میں ہزار گنا دبیز ہوگیا ہے اور یہ سب کچھ سائنس اور ٹیکنالوجی کا کیا دھرا ہے۔آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ وقت کیسا ہوگا کہ جب ہر گھر میں ناچ گانے ہورہے ہوں گے۔صحابہؓ پریشان ہوئے کہ یہ کون سا وقت ہوگا۔ اور اب آپ کوخود اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ وقت ہر گھر میں پہنچا ہے اور کس شان سے پہنچا ہے۔اس وقت عریانی و فحاشی کے بے شمار طریقے میسر ہیں۔ہر فتنہ و گمراہی کسی نہ کسی شرک سے جنم لیتی ہے۔ جو کچھ بھی  اگر ہورہا ہے تو دنیا کمانے کے لئے ۔حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہلاک ہوجائے درہم و دینار کا بندہ۔سورہ جاثیہ میں ارشاد ہوا کیا تم نے اس شخص کی حالت پر غور کیا جس نے اپنی زندگی کا مقصد نفس کو بنالیا ہے۔یہ شرک فی العبادہ ہے ۔سورہ کہف کے آخر میں ارشاد ہوا جس شخص کو بھی اپنے رب سے ملاقات کی امید ہے ،اسے نیک عمل کرنا چاہئے۔وہ نفس کا بندہ بننے کی بجائے اللہ کا بندہ بنے اور بندگی میں اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ کرے۔ قصہ مختصر یہ کہ دجالی فتنے کی اس خاصیت سے شرک فی العبادہ جنم لیتا ہے۔
اب دوسرا حجاب کیا ہے جس کی وجہ سے ہم حقیقت کو دیکھ نہیں پاتے ۔وہ یہ ہے کہ جو کچھ یہاں اس دنیا میںہورہا ہے ، وہ سلسلہ اسباب و علل کے پردے میں ہورہا ہے ۔اللہ نے ایسا نظام بنایا ہے کہ جو کچھ انسان تک پہنچتا ہے اسبا ب کے ذریعے پہنچتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ شافی اللہ ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ شفا تو دوا سے حاصل ہورہی ہے ۔ رازق اللہ ہے لیکن وہ چونکہ اسباب کے ذریعے ہم تک پہنچ رہا ہے، لہٰذا ہم (غلطی سے) سمجھتے ہیں کہ رزق تو اسباب سے مہیا ہورہا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے یہ کائنات اسباب کے کنٹرول میں جکڑی ہوئی ہے۔اس بے خدا تہذیب کا رخ ابلیسیت کی طرف ہے ۔ان اسباب کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے ، اس کی طرف ہماری نظر نہیں اٹھتی۔اللہ اسباب کے ذریعے تدبیر امرفرمارہا ہے لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آتی۔اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر لقمہ انسان کے حلق سے اترنے سے پہلے اللہ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ میں انسان کے لئے زہربن جائوں یا اس کو فائدہ پہنچائوں۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ساری تاثیر اس لقمے میں ہی ہے۔موجودہ دور میں یہ حجاب بھی اس دجالی تہذیب کی وجہ سے ہزار گنا زیادہ دبیز ہوگیا ہے۔
پہلے یہ ہوتا تھا کہ کسی آسمانی آفت کی وجہ سے پورا پورا کھیت جل جاتا تھا اور کسان سارا سال اپنے نقصان پر افسوس کرتا تھا۔آج انسانی تہذیب نے اپنے سرمائے کی حفاظت کے لئے بھی طریقے ڈھونڈ لئے ہیں مثلاً آپ انشورنس بھی کرواسکتے ہیں ،کسی بینک میں بچت اسکیم میں محفو ظ کراسکتے ہیں۔تو پہلے کچھ نہ کچھ خوف ہوتا تھا کہ معلوم نہیں اللہ کی طرف سے کیا آجائے ،اب وہ ڈر اور خوف بھی ختم ہوگیا ہے۔سارا بھروسہ اسباب ووسائل پر ہے اوریہ چیز شرک فی الصفات کو جنم دیتی ہے۔دجالی تہذیب کے دو تحفے ہیں یعنی شرک فی العبادہ اور شرک فی الصفات ۔ایک تیسرا شرک بھی ہے یعنی شرک فی الذات ۔کسی کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی سمجھنا وغیرہ۔یہ تصور ایک زمانے میں ہواکرتا تھا جبکہ انسانی عقل ارتقائی مراحل میں تھی۔یہ سب سے بڑا گھنائونا شرک ہے ۔سورہ الکہف کے آغاز میں اس کا ذکر ہے۔ آج کل یہ شرک عام طور پر نہیں ہے ۔ یہ شرک عیسائیوں میںتھا لیکن اب ان کاتعلق اپنے دین و مذہب سے نہیں رہا۔دجالی فتنے کا سبب وہی ابنیت مسیح کا عقیدہ ہے۔عیسائیوں نے جو بنیت مسیح کا عقیدہ گھڑا تھا ، اس کا ہی یہ نتیجہ ہے۔وہاں دین و مذہب کے نام پر انتہائی جبر تھا۔سخت ظلم و ستم روا رکھا جاتا تھا۔بہت عرصے تک علمی اور سائنسی ترقی کا راستہ روکا گیا تھا۔لیکن جب یہ بند ٹوٹا اور وہ مسلمانوں کی روشنی سے اپنا چراغ جلاکر علمی ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے تو ان کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ مذہب ہی تھا جو ہماری ترقی کی راہ میںرکاوٹ تھا اور آج مذہب کو ترک کرنے ہی سے ہمیں ترقی ملی ہے۔لہذا مذہبی عقائد و تصورات میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔


انہوں نے سوچا کہ جب ہم حواس خمسہ کے ذریعے سائنسی لیباریٹری میں روح اور خدا کو نہیں دیکھ سکتے تو ہم روح اور خدا کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کرسکتے۔بہتر ہے کہ ان کا انکار کردیا جائے۔لہذا اسی ابنیت مسیح کے عقیدے کی وجہ سے مذہب سے نفرت ہوگئی ورنہ سائنس میں بذات خود کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ مذہب سے نفرت کی جائے۔مختصر یہ کہ یہ تینوں شرک یونی شرک فی العبادہ، شرک فی الصفات اور شرک فی الذات دجالی فتنے کا سبب ہیں۔


 

تازہ ترین خبریں

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

اسمبلیوں سے استعفوں پر اپوزیشن اتحاد میں اتفاق۔۔۔۔ نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان نے بڑا اعلان کردیا

اسمبلیوں سے استعفوں پر اپوزیشن اتحاد میں اتفاق۔۔۔۔ نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان نے بڑا اعلان کردیا

 کے ایم سی ملازم شہزاد کو بوسہ مہنگا پڑ گیا، شوکاز نوٹس جاری کرکے 7 دنوں کے اندر جواب طلب

کے ایم سی ملازم شہزاد کو بوسہ مہنگا پڑ گیا، شوکاز نوٹس جاری کرکے 7 دنوں کے اندر جواب طلب

 جمہوریت کے نام پر نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینیٹر سراج الحق

جمہوریت کے نام پر نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینیٹر سراج الحق

ملتان جلسہ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف جےیوآئی سمیت پی ڈی ایم کےملک بھر میں مظاہرے

ملتان جلسہ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف جےیوآئی سمیت پی ڈی ایم کےملک بھر میں مظاہرے

 موجودہ نااہل، سلیکٹیڈ اور مسلط کردہ حکمرانوں سے چھٹکارے کا وقت آگیا ہے،8 اکتوبر کوبڑے فیصلے متوقع ہیں ، ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین

موجودہ نااہل، سلیکٹیڈ اور مسلط کردہ حکمرانوں سے چھٹکارے کا وقت آگیا ہے،8 اکتوبر کوبڑے فیصلے متوقع ہیں ، ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین

کلبھوشن کیس۔ پاکستان نے بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا

کلبھوشن کیس۔ پاکستان نے بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا

خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 48 ہزار683 ہوگئی،24 گھنٹوں کے دورن 10 افراد لقمہ اجل بن گئے

خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 48 ہزار683 ہوگئی،24 گھنٹوں کے دورن 10 افراد لقمہ اجل بن گئے

پی ڈی ایم کی تحریک کسی کو ہٹانے کی نہیں، عوام کی مشکلات کم کرنےکی جدوجہد ہے،شاہد خاقان عباسی

پی ڈی ایم کی تحریک کسی کو ہٹانے کی نہیں، عوام کی مشکلات کم کرنےکی جدوجہد ہے،شاہد خاقان عباسی

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

سیٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی ، نادرا بازی لے گیا

سیٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی ، نادرا بازی لے گیا

ریڈیو اسکول اور ایجوکیشن پورٹل کا آغاز ، وزیراعظم عمران خان کااظہار خیال

ریڈیو اسکول اور ایجوکیشن پورٹل کا آغاز ، وزیراعظم عمران خان کااظہار خیال