07:42 am
ہاکس بے روڈ اور سیاحت کا فروغ

ہاکس بے روڈ اور سیاحت کا فروغ

07:42 am

کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر عوام کے لئے تفریحی مقامات کی منصوبہ بندی نہ ہونا ایک المیہ ہے، عوام تفریح کے لئے کہاں جائیں؟ ان کی پہنچ سی ویو اور ہاکس بے تک ہے، جہاں وہ چھٹیوں کے دن جاکر اپنا دل بہلا سکتے ہیں اور کچھ دیرکے لئے کراچی کی ٹریفک کے شوروغل سے نجات بھی حاصل کرسکتے ہیں‘ کھیل کے میدان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے بچے اور نوجوان گلی کوچوں میں کرکٹ اور فٹ بال کھیل کر اپنا دل بہلاتے ہیں۔ بسا اوقات اس ہی دوران کسی تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ناقابل تردید حقیقت تو یہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں سے صوبہ سندھ کی باگ ڈور پی پی پی کے ہاتھ میں ہے جس کو اس بات پر بڑا ناز ہے کہ اس کی سندھ اسمبلی میں عدوی اکثریت ہے لیکن قانون سازی اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے کا جذبہ مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی سمیت سند ھ کے شہروں میں ذرائع حمل ونقل کی صورتحال انتہائی خراب وخستہ ہے، ہاکس بے اور سینڈاسپٹ کراچی سے تقریباً چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر دو قدیم تفریح مقامات ہیں، جہاں کراچی کے علاوہ اندورن سندھ سے ایک کثیر تعداد تفریح کے لئے یہاں آتی ہے لیکن ہاکس بے روڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔
 
 گذشتہ کئی سالوں سے ہاکس بے روڈ کی تعمیر نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی استرکاری جسکی وجہ سے اس راہ گذر سے تفریح کے لئے آنے والوں کو خاصی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ گاڑی یا موٹر سائیکلوں پر بیٹھنے والوں کو دھچکوں کی صورت میں ایک عذاب سے گذرنا پڑتا ہے۔ مزید براں سڑک کے دونوں طرف تجاوزات کی وجہ سے سڑکیں سکڑ گئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے، سڑکوں کی زبوں حالی کے علاوہ اس خوبصورت جگہ پر  ابھی تک کوئی معقول ہوٹل نہیں بن سکا ہے، پرانے بوسیدہ اور جھوپڑی نما ہوٹلز تفریح کے لئے آنے والوں کے کھانے پینے کی ضروریات پوری کرتے ہیں، اس جگہ جو بلوچی آباد ہیں جن کا روزگار مچھلی پکڑنے سے وابستہ ہے۔ ان کی معاشی حالت بھی قابل رحم ہے، یہاں نہ تو بچے بچیوں کے لئے کوئی معقول سکول موجود ہے، اور نہ ہی کوئی ہسپتال‘ روزگار کے دیگر ذرائع بھی موجود نہیں ہیں۔ غربت و افلاس ان کے چہروں سے ٹپکتی ہے، چھٹیوں کے دنوں میں کراچی اور سندھ کے دیگر جگہوں سے آنے والے ان سے کھانے پینے کا سامان خرید کر ان کی عارضی معاشی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ عام دنوں میں کیونکہ تفریح کے لئے آنے والوں کی تعداد کم ہوتی ہے، اس لئے ان کی آمدنی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
 ہاکس بے کے اطراف میں قبضہ مافیا نے سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا ہواہے، چھوٹے چھوٹے مکانات بننے ہوئے ہیں، لیکن ان میں رہنے والا کوئی نہیں ہے، اور کئی سال پہلے جب ہاکس بے کی زمینوں پر ناجائز تعمیرات نہیں ہوئی تھیں ، سڑک سے سمندر صاف نظر آتا تھا، لیکن اب کئی کلو میٹر چلنے کے بعد تجاوزات کی وجہ سے سمندر کا دیدار ہوتا ہے، چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاحت کا فروغ کس طرح ممکن ہوسکتاہے، حالانکہ اگر ہاکس بے اور سینڈاسپٹ کو ترقی دی جائے اور سڑکوں کی جدید طورپر تعمیر کی جائے اور کچھ اچھے ہوٹل تعمیر کئے جائیں تو یہ جگہ غیر معمولی سیاحوں کو سستی تفریح مہیا کرسکتی ہے، گذشتہ دس سالوں کے دوران پی پی پی کی حکومت نے اس خوبصورت تفریح مقام کی طرف توجہ نہیں دی ہے، اور نہ ہی یہاں ترقیاتی کام کیاہے، بلکہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس خوبصورت تفریحی مقام کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے۔
 لوکل گورنمنٹ سے وابستہ مقامی قیادت نے بھی اس علاقے کو ترقی دینے کے سلسلے میں کوئی کام انجام نہیں دیاہے، لگتا ہے کہ ان کو جو پیسہ ملتاہے و ہ حسب معمول جیبوں میں چلا جاتاہے، یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ تفریح کے لئے آنے والوں کے لئے اطمینان قلب کا باعث نہیں بنتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں کے رہنے والے قدیم بلوچیو ں نے بتایاہے کہ پی پی پی کی حکومت نے لوکل باڈیز کے نظام کو نوکرشاہی کے حوالے کرکے اس کو غیر موثر بنادیاہے، جبکہ نوکرشاہی کے دل میں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کا نہ تو جذبہ پایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا دھیان خدمت خلق کی طرف جاتاہے۔ ان کالے انگریزوں نے سماجی ومعاشی حالات کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، بلکہ سیاست دانوں کو بگاڑنے اور بہکانے میں ان کا منفی کردار سب پر عیاں ہے۔ اگر عمران خان کی حکومت سیاحت کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے تو انہیں چاہئے کہ پہلے مقامی سیاحوں کے لئے تفریحی مقامات میں بہتر سہولتیں پیدا کی جائیں، جیسا کہ کراچی کے قریب واقع ہاکس بے اور سینڈاسپٹ کو ترقی دے کر مقامی سیاحوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کیا جاسکتاہے۔
مزید براں ہاکس بے اور سینڈاسپٹ میں چھوٹے ہوٹلوں کی صورت میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اگر کراچی کے سرمایہ دار ہاکس بے اور سینڈاسپٹ پر ہوٹل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کریں تو اس صورت میں نہ صر ف یہاں مقامی بلوچیوں کو روزگار مل سکتا ہے بلکہ یہ علاقہ تیزی سے ترقی کی طرف بھی گامزن ہوسکتاہے۔ نجی ہسپتالوں کے لئے بھی سرمایہ کاری کے بے حد مواقع موجود ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ نجی ہسپتال پیسہ کمانے کا ذرائع نہ بنیں بلکہ یہاں کے غریب لوگوں کو کم قیمت پر دوائیں دے کرا ن سے دعائیں لیں اور اللہ کی خوشنودی بھی حاصل کرسکتے ہیں، لیکن سب سے پہلے سندھ کی صوبائی حکومت کو فوری طورپر ہاکس بے اور سینڈاسپٹ روڈ کی تعمیر ہنگامی بنیادوں پر شروع کردینی چاہئے تاکہ آمدورفت کی سہولتویں پیدا ہوسکیں اور مقامی سیاحت کو فروغ بھی حاصل ہوسکے۔ سرکاری ڈسپنسریوں اور سرکاری اسکولوں کو فعال کرکے مقامی لوگوں کے لئے تعلیم و صحت کی بہتر سہولتیں پیدا کی جاسکتی ہیں بلکہ اسکی بہت زیادی ضرورت ہے۔ اگر صوبائی حکومت ہاکس بے اور سینڈ اسپٹ میں ترقیاتی کام شروع کردے تو ان اقدامات سے سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا تو دوسری طرف روزگار کے مواقع بھی میسر آسکیں گے۔ 

 

تازہ ترین خبریں