07:43 am
ڈہرکی میں ہندو نوجوان کا قبول اسلام!روک سکوتو روک لو

ڈہرکی میں ہندو نوجوان کا قبول اسلام!روک سکوتو روک لو

07:43 am

عمران خا ن اور تحریک  انصاف کی اندھی سپورٹ کرنے والے ایک ’’سینئر‘‘  دانشور‘ کالم نگار نے گزشتہ مہینے ایک ٹی وی پروگرام میں اپنے آپ پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا تھا کہ اسے تحریک انصاف کو سمجھنے میں غلطی لگی تھی … اب اس سینئر دانشور نے ایک دوسر ے ٹی وی پروگرام میں فرمایا کہ یہ حکومت نواز لیگ اور پی پی پی کی کمر توڑ کر اپنا اصل کارنامہ سرانجام دے چکی ہے ‘ اب یہ مزید کچھ ڈلیور کرے یا نہ کرے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اگر اس حکومت  نے مزید کچھ ڈلیور کیا تو یہ بونس ہوگا۔
 
میں تو اس سینئر دانشور کو لعنتی نہیں لکھوں گا لیکن سوال اٹھانا میرا حق ہے کہ اگر سینئر ’’دانشوری‘‘ کا معیار ہمارے ہاں یہی رہا تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔کرپٹ افراد کو سزا دینے اور سیاسی جماعتوں کی کمر توڑنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے‘ حکومت کا کام کرپٹ افراد کو پکڑنا ہے نہ کہ سیاسی یا مذہبی جماعتوں کی کمر توڑنا۔ جب تک ابنارمل افراد کو ’’دانشوری‘‘ کے منصب پر بٹھا کر سٹوڈیوز کے ذریعے قوم پر مسلط کیا جاتا رہے گا اس وقت تک یہ قوم اتحاد و یگانگت  سے دور رہے گی۔ 
قارئین کو اگر یاد ہو تو چند ہفتے قبل گھوٹکی کے ہندو خاندان کی دو بہنوں کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کو بنیاد بناکر موم بتی مافیا‘ مدرسہ بھگوڑے دانش فروشوں اور احساس کمتری میں مبتلا اینکرینوں اور اینکرز نے زبردستی تبدیلی مذہب کا خوب سیاپا ڈالا تھا جو کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاکر غلط ثابت ہوگیا۔
مدرسہ بھگوڑے  دانش فروشوں ‘ موم بتی مافیااحساس کمتری کے مریض  اینکرز اور اینکرینوں تک اگر یہ خبر نہیں پہنچی تو ہم پہنچا دیتے ہیں۔ منگل16 اپریل کو ایک معاصر اخبار میں چھپنے والی خبر کے مطابق سندھ کے شہر ڈہرکی میں بابو مینگھوال کا15 سالہ بیٹا وجے کمار مشہور درگاہ بھرچونڈی شریف کے پیر عبد الحق میاں مٹھو کے پاس پہنچ گیا… وجے کمار نے پیر سائیں سے اپنے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تو پیر میاں مٹھو نے وجے کے والدین کو بلوالیا اور ان کا بیٹا ان کے حوالے کرکے کہا کہ یہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے لہٰذا آپ اسے سنبھالیں ۔ ہندو والدین نے اپنے 15 سالہ ہندو بیٹے کو5 گھنٹے تک خوب سمجھانے کی کوششیں کیں ‘ یہاں تک کہ والدین نے پیار کے ساتھ ساتھ بیٹے کو سمجھانے کے لئے مار کا  نسخہ بھی آزمانے کی کوشش کی مگر وجے کمار مسلسل اپنے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کرتا رہا اور پھر وجے نے درگار پر ہی کلمہ طیبہ پڑھ کر دین اسلام کو قبول کرلیا‘ جس کا اسلامی نام امان اللہ رکھا گیا۔
اس موقع پر نومسلم نوجوان امان اللہ نے صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں گزشتہ دو ماہ سے مسلمان ہونا چاہتا تھا کیونکہ میں اسلامی تعلیمات سے متاثر تھا۔ گزشتہ دو ماہ سے  میں مختلف مسلم شخصیات سے مل کر انہیں اپنی دلی کیفیات بتاتا رہا لیکن کسی نے مجھے مسلمان نہیں کیا بالآخر گزشتہ روز میں میاں عبد الحق عرف میاں مٹھو کی رہائش گاہ پر پہنچا اور اسلام قبول کرلیا۔ نومسلم  امان اللہ کاکہنا تھا کہ اس نے اپنی رضا اور خوشی سے اسلام قبول کیا کسی نے مجھے زور زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کی‘ میرے والدین نے دبائو ڈال کر مجھے واپس لے جانے کی کوشش کی مگر میں نے انکار کر دیا۔ اب میں اسلامی تعلیمات بھی حاصل کروں گا۔
موم بتی مافیا‘ مدرسہ بھگوڑے دانش فروشوں اور اسلام پر شرمندہ احساس کمتری کے مریض اینکرز کے سیاپا گروپ سے میرا  سوال ہے کہ گھوٹکی کی دو بہنوں نادیہ اور آسیہ کے اسلام قبول کرنے پر تو آپ نے خوب سیاپا ڈالا تھا … اب ڈہرکی کے نوجوان وجے کمار کے اسلام قبول کرکے امان اللہ بننے پر تمہاری  زبانیں گنگ کیوں ہوگئی ہیں؟
اب تم وجے کمار کے مسلمان بننے پر اچھل کود کیوں نہیں کررہے؟ گلے پھاڑ پھاڑ کر زبردستی منصب کی تبدیلی کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیوں نہیں کررہے؟ کہاں ہے درگاہ بھرچونڈی شریف پر چھاپے مارنے کے مطالبے کرنے والا ڈاکٹر رمیش کمار؟ کدھر چلے گئے  غامدی کی پٹاری کے مدرسہ بھگوڑے دانش فروش؟ اب وہ بولتے کیوں نہیں؟ ایک ہندو نوجوان کے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیا ہے‘ یہی ہے  دین اسلام کی حقانیت‘ زبردستی ڈالروں اور جھوٹے اسٹیٹس کے لالچ میں سیکولر اور لبرل بنتے ہیں‘ مگر مسلمان نہیں۔ پسند اپنی اپنی ‘ شوق  اپنا اپنا کسی کو اسلام اور اسلامی تعلیمات پسند ہیں اور کسی کو سیکولر لادین بننے کا شوق‘ یہ اللہ کی مرضی ہے  کہ وہ مدرسے میں زکوٰۃ‘ صدقات پر پلنے والوں مولوی کے گھر پیدا ہونے والے مدرسہ بھگوڑوں کو غامدی کی ڈگڈی پر ناچنے پر مجبور کر دے اور  اگر وہ چاہے تو بابو مینگھوال کے ہندو گھرانے میں پیدا ہونے والے وجے کمار کو اسلام کی حقانیت سے متاثر کرکے ’’امان اللہ ‘‘ بنانے کے بعد اسلامی تعلیمات پڑھنے پر لگادے۔
یہ تو پاک پروردگار کے فیصلے ہیں۔ مولویوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے مدرسہ بھگوڑے دانش فروشوں کو کوئی بتائے کہ ابوجہل سے لے کر ٹرمپ اور مودی تک اسلام کو پھیلنے سے نہ روکے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کو تبدیل کرسکے۔تم اور تمہاری اوقات کیا ہے؟ سندھ میں زبردستی مذہب کی تبدیلی کا پروپیگنڈہ کرنا اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ میرا دانش فروشوں کے سیاپا گروپ کو چیلنج آج بھی برقرار ہے کہ وہ صرف سندھ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں کوئی ایک واقعہ ثبوت کے ساتھ پیش کریں کہ جس میں کسی مذہبی جماعت نے کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کی ہو؟ (وما توفیقی الا باللہ)

 

تازہ ترین خبریں