07:44 am
انصاف اور قانون

انصاف اور قانون

07:44 am

یہ بات ہمیں اچھی تو نہیں لگے گی مگر یہ حقیقت ہے کہ انصاف اور قانون دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ عدالتیں چاہے پاکستان کی ہوں‘ امریکہ کی ہوں یا اقوام متحدہ کی ہوں وہ اپنے تمام فیصلے متعلقہ قانون کے مطابق دیتی ہیں۔ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اب آپ پاکستانی سیاستدانوں کو ہی دیکھ لیجئے۔ اگر انصاف سے کام لیا جائے تو 90سے 95 فیصد سیاستدان اس قابل ہی نہیں ہیں کہ انہیں آزاد گھومنے دیا جائے چہ جائیکہ انہیں اسمبلیوں میں بٹھا دیا جائے۔ مگر ملک کے قانون کے تحت چونکہ ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہو پاتا یہ لوگ دندناتے پھرتے ہیں۔
 
میرے اپنے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے مختلف وزراء جو باجماعت ہوکر اپوزیشن کے جن رہنمائوں کے خلاف منی لانڈرنگ اور کرپشن کے مختلف اور متعدد الزامات لگا رہے ہیں وہ غالباً درست ہیں اور اگر انصاف کیا جائے تو تقریباً ساری اپوزیشن جیلوں میں ہو۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ انصاف کے اسی ترازو میں حکومتی اراکین کو تولا جائے تو وہ بھی سلاخوں کے پیچھے نظر آئیں۔
میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ ماضی میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک خاص قسم کی شے مثال کے طور پر بی ایم ڈبلیو گاڑیاں (یا اسکریپ کے جہاز ) امپورٹ ہوتی ہے۔ اس کے بندرگاہ پر پہنچنے سے چند گھنٹے قبل ایک ایس آر او جاری ہوتا ہے کہ اس مخصوص شے پر امپورٹ ڈیوٹی یا دیگر ٹیکسز ہٹا دئیے گئے ہیں۔ یہ شے ملک میں بالکل قانون کے عین مطابق بغیر ٹیکس ادا کئے داخل ہو جاتی ہے اور ایک آدھ دن بعد وہ ایس آر او واپس لے لیا جاتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کیا یہ انصاف ہے؟ یہ امپورٹ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ ’’قانون‘‘ کے مطابق ہے۔ یہ ہے انصاف اور قانون کا فرق!
اب حمزہ شہباز اور ان کے بھائی بہنوں کے بینک اکائونٹس میں لاکھوں یا غالباً کروڑوں ڈالر کی ترسیلات آئیں۔ انہوں نے اپنے اکائونٹس میں اور اپنی ٹیکس ریٹرن میں بھی ان ترسیلاب کو شامل کیا۔ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے ان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا کیونکہ اس وقت کے مروجہ قانون کے تحت غیر ملک سے فارن کرنسی کی ملک میں  ترسیلاب پر یہ چھوٹ تھی کہ ان کے سورس یعنی ذرائع کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ انصاف کا تقاضا کچھ بھی ہو قانون کے تحت یہ ترسیلات جائز تھیں۔ ابھی مقدمے نہیں بنے مگر یہ معاملہ جب بھی کسی عدالت میں جائے گا سارا کیس ایک ایس آر او کی کاپی پیش کرنے پر ٹھس  ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی کے وزراء بھی یہ حقیقت جانتے ہیں مگر فی الحال وہ میڈیا پر آکر اپنے مخالفین کی کردار کشی کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اس میں انہیں وقتی کامیابی بھی ہوگی مگر آخر میں و ہی ٹائیں ٹائیں فش ہوگا۔
اب سی ڈی اے کا ایک قانون ہے کہ جب یہ ادارہ کوئی پلاٹ نیلام کرتا ہے تو اس کی بولی کی ادائیگی میں جو رقم استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے سورس یا ذریعہ کے بارے میں ٹیکس والے کوئی سوال نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں جب بھی سی ڈی اے پلاٹس نیلام کرتی ہے ان کی مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگتی ہے۔ لوگ زیادہ قیمت کیوں دیتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ اپنے کالے دھن کو اس طریقے سے سفیدکرلیتے ہیں۔ اب اگر کسی نیلامی میں خریدے گئے پلاٹ کے مالک سے خریداری کے دس بارہ سال بعد آپ رقم کے ذرائع کے بارے میں سوال کریں گے تو وہ سوال شاید انصاف کے معیار پر پورا اترتا ہو مگر قانون اس سوال کی اجازت نہیں دے گا۔
اب انصاف اور قانون کے درمیان فرق کے بارے میں ایک تازہ مثال سن لیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت ایک ایمنسٹی سکیم لانا چاہتی ہے مگر وہ جانتے ہیں کہ یہ بل پارلیمنٹ سے اور خاص کر سینٹ سے پاس کروانا ان کے لئے انتہائی مشکل ہوگا۔ اب انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو بل پارلیمان اور سینٹ سے پاس نہیں ہوسکتا اسے چھوڑ دیا جائے۔ مگر پی ٹی آئی کو ٹیکس جمع ہونے میں بھاری خسارے کا سامنا ہے وہ ہر حال میں یہ ایمنسٹی سکیم لانا چاہتی ہے۔ چنانچہ پارلیمان کا اجلاس منقطع کیا جائے گا اور یہ بل صدر مملکت کے دستخطوں سے آرڈیننس کے طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ اب اس ایمنسٹی سکیم کی مدت صرف 45دن ہے۔ ایک صدارتی آرڈیننس60دن تک نافذ رہتا ہے پھر اسے پارلیمان میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے مگر یہاں صورتحال یہ  ہے کہ 45دنوں میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم ختم ہو جائے گی۔ اس کے 15دن بعد صدارتی آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اب آپ ہی بتائیے قانون کہاں ہے اور انصاف کہاں ہے؟
اگر انصاف سے کام لیا جائے تو حکومتی وزراء کے خلاف جو کیسز نیب میں پڑے ہیں ان پر بھی اتنی سرعت کے ساتھ کام ہونا چاہیے جتنی تیزی سے پی پی پی اور نون لیگ کے رہنمائوں کے خلاف کیسز پر ہو رہا ہے مگر قانون نیب چیئرمین اور نیب کے بورڈ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جس کے خلاف چاہے ریفرنس فائل کرے اور جس کے خلاف نہ چاہے اس کی فائل پر بیٹھا رہے۔ کل جب یہ حکومت چلی جائے گی تو ان کیسز پر تیزی سے کام شروع ہو جائے گا اور یہ سب کچھ قانون کے عین مطابق ہوگا۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما عوام کے ساتھ یہ آنکھ مچولی کھیلنا چھوڑ دیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کردار کشی کی مہمات ترک کریں۔ خود بھی قانون کو سمجھیں اور یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ عدالتیں قانون کی پابندی کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاسی ٹمپریچر نیچے لے آئیں تو ملک کا بھلا ہوگا اور ہمارا پارلیمانی نظام اپنے لاتعداد نقائص کے باوجود کچھ نہ کچھ ملک کے مفاد میں کام کرسکے گا۔ اندرونی سیاسی خانہ جنگی کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ’’غیر منصفانہ قوانین‘‘ بنانے اور پاس کرنے سے گریز کیا جائے۔ جب تمام قوانین انصاف پر مبنی ہوں گے تو عدالتوں کو بھی انصاف کرنے میں آسانی ہوگی۔

 

تازہ ترین خبریں