07:35 am
  بھارتی دہشت گردی  اور  ہماری  چُپ !  

  بھارتی دہشت گردی  اور  ہماری  چُپ !  

07:35 am

چند روز قبل وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کے ذریعے بڑے تیقن سے خبردار کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے مستقبل قریب میں پاکستان پر جارحیت کی مستند اطلاعات موجودہیں۔دوست ممالک کو بھی ان تشویشناک خدشات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ ظاہر ہے یہ خدشات بے بنیاد نہیں ۔ خفیہ اداروں کی جانب سے ملنے والی مستند اطلاعات بھارت کی حالیہ مہم جوئی کے تناظر میں مزید سنجید گی کی متقاضی ہیں ۔ اس پر مستزاد بھارتی قیادت کا وہ دائمی جنگی جنون ہے جو الیکشن کے موسم میں تمام حدیں پار کرتا دکھائی دے رہا ہے ۔ تاحال سرحدوں پر تو بھارتی سینا کو زورِ بازو آزمانے کی جرات نہیں ہو پائی البتہ حسب عادت سرحد پار دہشت گردی کے وار شروع ہو چکے ہیں ۔
 
 بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ تھما نہیں بلکہ بتدریج تیز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایف سی اہلکاروں پر متعدد حملے اور ہزار گنجی دھماکہ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بھارت اپنا شیطانی کھیل پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ گزشتہ مضامین میں یہ پہلو اجاگر کیا تھا کہ بھارت سے جنگ ابھی جاری ہے۔ نریندر مودی نے پاکستان کو گھر میں گھس کے مارنے کی دھمکیاں دیں اور اب کراچی تا خیبر بھارتی ایجنسی ’’را ‘‘کے دہشت گرد معصوم پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں ۔ اس بھارتی جارحیت کے مقابل ہمارا اجتماعی رد عمل مایوس کن قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی جارحیت سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں دو طیارے گرانے کی وجہ سے پاکستان کا پلہ بھاری رہا ہے‘ لیکن یہ برتری عسکری محاذ تک محدود ہے۔ 
خارجہ محاذ پر بھارت کی ننگی جارحیت خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا مقدمہ اُس طرح نہیں پیش کیا جا رہا جیسا کہ اُس کو پیش کیے جانے کا حق ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں بھارتی پروردہ عناصر کی دہشت گردی کے سنگین معاملے کو بھی ہم نے معمول کے بیانات سے ٹرخانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ دو روز قبل پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد میں روپوش دہشت گردوں سے پندرہ گھنٹے تک مقابلہ جاری رہا ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے تھا اور اُن کے قبضے سے برآمد ہونے والا اسلحہ بارود نہایت سنگین دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہو سکتا تھا ۔ 
کیا وجہ ہے کہ دفتر خارجہ نے افغان حکومت سے کھل کے احتجاج نہیں کیا ۔ کون نہیں جانتا کہ موجودہ افغان حکومت پاکستان کے متعلق کیسے منفی خیالات کی حامل ہے ۔ افغان حکومت کی مرکزی شخصیات کا نان و نفقہ مودی سرکار کے ذمے ہے ۔ افغان ایجنسی این ڈی ایس اور محکمہ داخلہ کی لگامیں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے تھام رکھی ہیں ۔ آرمی پبلک اسکول پشاور سانحے کے ماسٹر مائنڈ آج بھی افغان سرزمین پر این ڈی ایس اور ’’را‘‘ کی مشترکہ پناہ میں ہیں ۔ گذشتہ دنوں پاکستانی وزیر اعظم کے بیان کو بنیاد بنا کے بار بار پاکستانی سفیر کو افغان حکومت نے طلب کیا اور جارحانہ رویہ اپنائے رکھا ۔ 
حیرت ہے کہ بد ترین دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث پائے جانے کے باوجود ہمارے دفتر خارجہ کی زبانوں پر تالے پڑے رہتے ہیں ۔ بھارت کی کھلم کھلا دھمکیاں ہوں ، کشمیر میں جاری بد ترین نسل کشی ہو ، افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی ہو ،خواہ بھارت کے جاسوس بھیس بدل کے ایران اور افغانستان سے آکے ہمارے شہریوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہیں ہمارے دفتر خارجہ کے گھسے پٹے مذمتی بیان کا مضمون اور لہجہ کبھی نہیں بدلتا ۔ وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو وہ اب بھی ہے! اگر آج بھارت عالمی فورمز پر اپنا جھوٹ بھی سچ بنا کے بیچ رہا ہے تو اس میں ہمارے دفتر خارجہ کی معنی خیز مجرمانہ کوتاہیوں اور کاہلیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے ۔ حالیہ دہشت گردی میں ہزارہ برادری کو ہدف بنا نے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ فرقہ ورانہ دہشت گردی کی آگ کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کا تاثر پھیلایا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی قیادت بیرونی خطرات کے مقابل مشترکہ موقف اپنانے میں یکسر ناکام رہی ہے۔ 
بھارتی جارحیت کے فوراً بعد پیدا ہونے والی سیاسی یک جہتی کی فضا دو روز بعد ہی بد زبانی اور الزام تراشیوں کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئی ۔ کرپشن کے دفاع پر ڈٹی ہوئی اپوزیشن کی بے بصیرتی کی بدولت پارلیمان میں نہ تو مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند ہو پارہی ہے اور نہ ہی بھارت کی سرحد پار دہشت گردی جیسے سنگین معاملے پر کوئی پیش رفت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کے سر پر احتساب کا بھوت کچھ اس طرح سوار ہوا ہے کہ وہ یہ بھی بھول گئی ہے کہ بنیادی طور پر یہ کام دراصل قومی اداروں اور عدالتوں کا ہے ۔ بیان بازی کی آڑ میں بد زبانی کے شوقین بڑبولے ترجمان اور وزراء بلاناغہ زبان سے پھلجھڑیاں پٹاخے چھوڑ کے میڈیا پر رونق میلہ تو لگائے رکھتے ہیں لیکن اپنے بنیادی فرائض کی جانب ذرہ برابر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ ان گنت بیرونی خطرات اور اندرونی مسائل میں گھرے ملک پر ایسی غیر سنجیدہ حکومت اور اپوزیشن کا مسلط ہونا کسی آسمانی آفت سے کم تو نہیں! 

تازہ ترین خبریں

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

شادی کی تقریب غم میں تبدیل ہو گئی ، کرنٹ لگنے سے 3 مزدورجاں بحق

اسمبلیوں سے استعفوں پر اپوزیشن اتحاد میں اتفاق۔۔۔۔ نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان نے بڑا اعلان کردیا

اسمبلیوں سے استعفوں پر اپوزیشن اتحاد میں اتفاق۔۔۔۔ نوازشریف اور مریم نواز کے ترجمان نے بڑا اعلان کردیا

 کے ایم سی ملازم شہزاد کو بوسہ مہنگا پڑ گیا، شوکاز نوٹس جاری کرکے 7 دنوں کے اندر جواب طلب

کے ایم سی ملازم شہزاد کو بوسہ مہنگا پڑ گیا، شوکاز نوٹس جاری کرکے 7 دنوں کے اندر جواب طلب

 جمہوریت کے نام پر نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینیٹر سراج الحق

جمہوریت کے نام پر نام نہاد سیاسی پارٹیاں سماج اور جمہور کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینیٹر سراج الحق

ملتان جلسہ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف جےیوآئی سمیت پی ڈی ایم کےملک بھر میں مظاہرے

ملتان جلسہ سے قبل کارکنان کی گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف جےیوآئی سمیت پی ڈی ایم کےملک بھر میں مظاہرے

 موجودہ نااہل، سلیکٹیڈ اور مسلط کردہ حکمرانوں سے چھٹکارے کا وقت آگیا ہے،8 اکتوبر کوبڑے فیصلے متوقع ہیں ، ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین

موجودہ نااہل، سلیکٹیڈ اور مسلط کردہ حکمرانوں سے چھٹکارے کا وقت آگیا ہے،8 اکتوبر کوبڑے فیصلے متوقع ہیں ، ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین

کلبھوشن کیس۔ پاکستان نے بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا

کلبھوشن کیس۔ پاکستان نے بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا

خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 48 ہزار683 ہوگئی،24 گھنٹوں کے دورن 10 افراد لقمہ اجل بن گئے

خیبرپختونخوا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 48 ہزار683 ہوگئی،24 گھنٹوں کے دورن 10 افراد لقمہ اجل بن گئے

پی ڈی ایم کی تحریک کسی کو ہٹانے کی نہیں، عوام کی مشکلات کم کرنےکی جدوجہد ہے،شاہد خاقان عباسی

پی ڈی ایم کی تحریک کسی کو ہٹانے کی نہیں، عوام کی مشکلات کم کرنےکی جدوجہد ہے،شاہد خاقان عباسی

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

حکومت کوروناکےپیچھےجتناچھپ جائے،قوم اب نہیں چھوڑےگی ، رانا ثنااللہ

سیٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی ، نادرا بازی لے گیا

سیٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی ، نادرا بازی لے گیا

ریڈیو اسکول اور ایجوکیشن پورٹل کا آغاز ، وزیراعظم عمران خان کااظہار خیال

ریڈیو اسکول اور ایجوکیشن پورٹل کا آغاز ، وزیراعظم عمران خان کااظہار خیال