07:36 am
حکیم الامت اور مبشر پاکستا ن علامہ اقبال

حکیم الامت اور مبشر پاکستا ن علامہ اقبال

07:36 am

علامہ اقبال کو بجا طور پر ہم اپنا عظیم قومی شاعر اور رہنما قرار دیتے ہیں‘ لیکن درحقیقت وہ ایک آفاقی اور ملی شاعر اور رہنما تھے۔ وہ مسلم ممالک کے درمیان کھینچی گئی سیاسی لکیروں کی حدود و قیود کو اغیار کی سازش سمجھتے تھے۔ اور وہ نہ صرف ملت اسلامیہ کی وحدت کے آرزومند تھے بلکہ دین اسلام کی روح کے مطابق ’’المُلکُ لِلّٰہ ‘‘اور ’’الحُکمُ لِلّٰہ‘‘ کے حوالے سے کل روئے ارضی پر اللہ کے دین اور محمد عربیﷺکے لائے ہوئے نظام کی بالادستی کے قائل تھے۔ علامہ کے یہ دو اشعار میرے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر کافی ہوں گے۔ ملت اسلامیہ کی وحدت کے حوالے سے فرماتے ہیں:
 
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اور
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم ‘ وطن ہے سارا جہاں ہمارا!
اسی طرح یہ امر ِواقعہ ہے کہ اگرچہ ان کا انتقال پاکستان کے قیام سے کم و بیش ۹ برس پہلے ہو گیا تھا‘ لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں ان کا جو غیر معمولی کردار ہے اس میں کوئی ان کا شریک و ساجھی اورہم پلہ نہیں ہے۔ 
مسلمانانِ برصغیر جو انگریز کی دوسوسالہ غلامی کے ڈسے ہوئے تھے‘ ان میں ایک جذبہ تازہ اور احیائی جذبہ پیدا کرنا اقبال ہی کا کام تھا۔   
اک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند
کانگریس کے مقابلے میں بننے والی مسلم لیگ ‘ جو اصلاً مسلمانانِ برصغیر کے سیاسی حقوق کے دفاع کے لیے قائم ہوئی تھی‘ علامہ اقبال نہ صرف یہ کہ ہمیشہ اس کے سرپرستوں اور رہنمائوں میں شامل رہے بلکہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد خطے کا تصور دینے اور اس کے مطالبے کی آواز اٹھانے والے پہلے رہنما وہی تھے۔ اور حال یہ ہے کہ ہمارا میڈیاآج جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ان میں ایسے دریدہ دہن لوگ بھی موجودہیں جو ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ قیام پاکستان میں اقبال کا کوئی حصہ نہیں تھا!
واقعہ یہ ہے کہ انہی حوالوں سے علامہ اقبال کو مفکر و مصورِ پاکستان کا لقب عطا ہوا‘ محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒاس سے آگے بڑھ کر انہیں ’’مبشر ِپاکستان ‘‘  قرار دیتے تھے۔ ۱۹۳۰ء کے خطبہ الٰہ آباد میں انہوں نے پاکستان کا تصور پیش کرتے ہوئے پہلے ایک  وژن  کے طورپر کہا تھا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک آزاد اسلامی ریاست قائم ہو کر رہے گی‘‘۔ اور پھر اسے ایک مطالبے کے طور پر بھی پیش کیا۔ 
یہ ان کاvisionتھا ‘وہ visionary انسان تھے۔ ان کی نگاہوں کی رسائی بہت دور تک تھی۔ ’’مسجد قرطبہ‘‘ نامی نظم میں فرماتے ہیں:  
آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کے خواب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرئہ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نوائوں کی تاب
اسی مضمون کو فارسی میں انہوں نے جس ُپرشکوہ انداز میں بیان فرمایا وہ انہی کا حصہ تھا‘ فرماتے ہیں :
می شود پردئہ چشمم پر ِکاہے گاہے!
دیدہ ام ہر دو جہاں را بنگاہے گاہے
’’کبھی کبھی میری آنکھ کا پردہ گھاس کے تنکے کے برابر یعنی انتہائی خفیف اور لطیف ہوجاتا ہے اور میں دونوں جہانوں کو ایک ہی نگاہ میں دیکھ لیتا ہوں۔‘‘
میں نے اپنی گفتگو کا آغاز جس نکتے سے کیا تھا‘ اسی کی طرف واپس لوٹنا چاہوں گا کہ آج پوری ملت ِاسلامیہ کو بالعموم اور مسلمانانِ پاکستان کو بالخصوص جس رہنمائی کی ضرورت ہے‘ اس کا وافر سامان علامہ اقبال کے شاعرانہ کلام اور افکار میں موجود ہے‘ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ تاقیامت اس میں رہنمائی کا سامان موجود ہے‘ تو غلط نہ ہوگا۔ میں نے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے‘ لیکن مجھے اطمینان ہے کہ میرا یہ دعویٰ بے بنیاد نہیں ہے۔
دیکھئے‘ اقبال کا پورا کلام‘ بالکل ابتدائی دور کو چھوڑ کر‘بالخصوص انگلستان سے واپس آنے کے بعد ‘ باقی تمام کلام اصل میں قرآن حکیم کی ترجمانی پر مشتمل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہنی و فکری صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے قرآن کا مطالعہ عشق محمدیؐ کے جذبے سے سرشار ہو کر کیا توقرآن کے اَسرار ان پر کھلتے چلے گئے ۔ چنانچہ قرآن کی عظمت کاجو اعتراف و اعلان اقبال کے ہاں ملتا ہے وہ بڑے بڑے علماء و فضلا ء کے ہاں نہیں ملتا ۔
انہوں نے شاعری کو افکارِ قرآنی کی اشاعت کاذریعہ بنایا ‘اور اس طرح اُمت ِ مسلمہ کو‘ جو قرآن سے دُوری کی بنیاد پر اصل دین کو فراموش کر بیٹھی تھی اور اپنے عظیم مشن سے بیگانہ ہو گئی تھی‘ دوبارہ قرآن سے جوڑ کر ایک زندہ اور متحد امت بنانے کی کوشش کی۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
نغمہ کجا و من کجا ‘سازِ سخن بہانہ ایست
سوئے قطار می کشم ناقہ ٔبے زمامِ را!
’’میں کیا ہوں اور میرا نغمہ کیا ہے! میری شاعری تو ایک بہانہ ہے‘ جس کے ذریعے میں بکھرے ہوئے بے مہار اونٹوں کو کھینچ کھینچ کر قطار میں لا رہا ہوں۔‘‘
علامہ اقبال کو شدید رنج تھا اس بات کا کہ لوگوں نے انہیں محض ایک شاعر سمجھ رکھا ہے۔ ان کے کلام میں شعری فنی محاسن کی تلاش اور اس کے اظہار کا تو اہتمام کیا جاتا ہے لیکن پیغام کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ اس پر وہ بحضور سرورِ کونینﷺ اپنی فریاد پیش کرتے ہیں   ۔
من اے میر ِاُمم داد از تو خواہم
مرا یاراں غزل خوانے شمردند!
’’اے اُمتوں کے سردار(ﷺ)! میں آپؐ کے حضور انصاف کا طالب ہوں۔ میری فریاد یہ ہے کہ مجھے یار لوگوں نے محض ایک غزل خواں شاعر شمار کر لیا ہے۔‘‘
علامہ اقبال کو اس درجے وثوق اور اعتماد تھا کہ جو کچھ انہوں نے اپنے کلام میں پیش کیا وہ سراسر قرآن حکیم ہی کی ترجمانی ہے کہ بصورتِ دیگر انہوں نے خود کو بددعا کا مستحق ٹھہرایا ہے   ۔
گر دلم آئینہ ٔبے جوہر است
ور بحرفم غیر قرآں مضمر است
پردئہ ناموسِ فکرم چاک کن
ایں خیاباں را ز خارم پاک کن
روزِ محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا!
’’(اے سرور کونینﷺ!) اگر میرا دل ایک ایسا آئینہ ہے جو اپنی آب و تاب کھو چکا ہے اور میرے کلام میں قرآن کے سوا کچھ اور افکار و نظریات شامل ہیں تو آپ میرے فکر کی آبرو کا پردہ تار تار کر دیجیے اور اس گلشن کو میرے کانٹوں سے پاک کر دیجیے۔ مزید برآں مجھے قیامت کے روز بھی ذلیل وخوار کردینا اور مجھے اپنے پائے مبارک کو بوسہ دینے کی سعادت سے محروم کر دینا۔‘‘
   چنانچہ یہ امر ِواقعہ ہے کہ اقبال نے اپنے کلام میں قرآن ہی کے پیغام کو اور ان قرآنی حقائق کو جو پوری امت کے لیے تاابد رہنماکا درجہ رکھتے ہیں‘ پیش کیا ہے۔ اسی حوالے سے انہیں حکیم الامت کا خطاب بھی دیا گیا اور اس میں رتی بھر بھی شائبہ شک نہیں ہے کہ دورِ حاضر کے ترجمانِ قرآن‘ اقبال کا کلام ہی آج ہمارے لیے تریاق کا درجہ رکھتا ہے ۔ یہی آج ہمارے دکھوں کا مداوا اور قومی امراض کا علاج ہے۔

 

تازہ ترین خبریں