07:37 am
کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی بھارتی سازش

کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی بھارتی سازش

07:37 am

 مودی ایک جلسے میں  برملااعتراف کرچکاہے کہ پاکستان اس کے دماغ پر بری طرح سوارہے جس نے اس کی رات کی نیندوں کوبھی حرام کردیاہے ۔ جب سے بھارتی متعصب ہندوبنئے حکمران جماعت نے ہوس اقتدارسے مجبور ہو کر نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے اورپاکستان کونشانہ بناکرانتخابی مہم آگے بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے ،مودی اوراس کے حواریوں کی وجہ سے پورے بھارت کوہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔نہتے کشمیریوں پرتاریخ کے بدترین مظالم اور پاکستان کے خلاف نت نئی عیارانہ چالوں کانتیجہ اس کے سواکچھ نہیں نکل رہاکہ ہرقدم پربھارت کیلئے ہزیمت،رسوائی اوربدنامی کاخاصا سامان ان کے گلے میںپڑچکاہے جبکہ خودمودی جس نے اپنی مکارانہ سوچ کوبروئے کارلاتے ہوئے پاکستان کیلئے وقتاًفوقتاگڑھے کھودے تھے،اب وہ خودانہی گڑھوں میں اس بری طرح گررہاہے کہ آنے والے بھارتی نیتاؤں کیلئے بھی ایک سبق کادرجہ اختیارکرگیاہے کہ پاکستان کے خلاف چلی جانے والی چالیں الٹی بھی پڑسکتی ہیں۔ مودی کی حالیہ دنوں سے بھارت کے اندرہی نہیں عالمی سطح پربھی جوجگ ہنسائی ہورہی ہے اوربھارت کا جو دہشت گردانہ اورجھوٹاچہرہ سامنے آیاہے اس کاتاثربدلنے کیلئے  بھارت کوطویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ 
 
بھارتی مکارنیتاؤں اوران کی جماعتوں نے کشمیریوں کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف اپنامستقل غلام بنانے کیلئے ایک جانب بدترین فوجی دہشتگردی مسلط کررکھی ہے تودوسری جانب بھارتی آئین میں کشمیراوراہل کشمیرکوآرٹیکل 35A کے تحت دیئے گئے خصوصی سٹیٹس اور پوزیشن کوبھی ختم کرنے کیلئے بھارتی اعلیٰ عدالت میں پٹیشن دائرکررکھی ہے۔ اس دائرکردہ درخواست کیلئے آرایس ایس اوربی جے پی قیادت غیرمعمولی طورپرامیدلگائے ہوئے ہیں کہ اس پٹیشن کے حق میں فیصلے سے ایک جانب اگلے انتخابات میں فوائدکااامکان ہے تودوسری جانب طویل المدتی ہدف کے طورپرکشمیرکی ڈیموگرافی کوتبدیل کرنے کامقصدپوراہوسکے گاکہ اگر آنے والے کل میں بھی اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک کی انسانی حمیت جاگ گئی اور کشمیر میں استصواب رائے کامطالبہ بھی زور پکڑگیا توبھارت اس نوبت کے آنے سے پہلے ہی کشمیرمیں مسلم آبادی کے مقابلے میں ہندوؤں کوبڑی تعدادمیں بساچکاہوگا جیساکہ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی یہودی بستیاں قائم کرکے مصنوعی اندازمیں ناجائزیہودی آبادکاروں کی صورت میںیہودی آبادی کوفلسطین میں بڑھانے کی سازش جاری ہے۔بھارت بھی اسی طرز پر کشمیرکی اسلامی شناخت کوتبدیل کرنے کیلئے سازشیں کررہاہے۔
بھارت اوراسرائیل کے درمیان پاکستان مخالف روابط نئی بات نہیں ۔مسلم دنیا کا واحد جوہری  ملک پاکستان یکساں طور پر بھارت اوراسرائیل دونوں کے دلوں میں بری طرح کانٹے کی طرح چبھتاہے۔ خطے میں پاکستان ہی واحدملک ہے جس کی دشمنی یہود ہنود دونوں کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔اس پس منظرمیں اسرائیل طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف بھارت کوعسکری اور تکنیکی واسلحہ کے میدان میں سہولت اور مدد دیتا آرہا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں اونتی پورہ میں قائم بھارتی فضائیہ کے ائیربیس میں اسرائیلی فوجی ماہرین کی موجودگیکی برسوں پہلے خبریں سامنے آچکی ہیں اوراب مودی کی انتخابی مہم کو پاکستان کے خلاف جارحیت کرکے جنگی اندازمیں آگے بڑھانے کی چال میں بھارت نے اسرائیل کی مددحاصل کی ہے۔اس سلسلے میں عالمی شہرت یافتہ صحافی اپنی رپورٹس میں بھی انکشاف کرچکے ہیں لیکن جس طرح اوپرکی سطورمیں کہاگیاہے کہ بھارت کیلئے ہزیمت ہی ہزیمت کاماحول ہے۔ اسرائیلی مددلینے کے بعدبھی بھارت میں ہزیمت ہی لکھی گئی اوراس ہزیمت کوہرایک بھارتی نے محسوس کیااورعالمی سطح پربھی دیکھاگیا۔
سب سے بڑا دھچکا اوآئی سی سے لگاہے کہ اوآئی سی نے پلوامہ خودکش حملے سے پہلے بھارتی وزیرخارجہ سشماسوراج کوایک خاص مہمان کے طورپراوآئی سے کے اجلاس میں خصوصی دعوت دی تھی۔ پاکستان کے اوآئی سی کابانی رکن ہونے کے باوجودپاکستان کواس سلسلے میں اعتمادمیں نہ لینے اوربالاکوٹ فضائی حملے کے بعدایک ایسے ماحول میں جب بھارت اس تنظیم کے ایک اہم اوربانی رکن پرحملے کررہاہے، بھارتی وزیرخارجہ کو بطور خاص  مہمان کے طورپربلاناقطعی طورپرقابل قبول نہیں  ہوسکتا۔ پاکستان کی کوشش اوراجلاس میں وزیرخارجہشاہ محمودکے نہ جانے کے اعلان کے بعدبھی اوآئی سے نے سشماسوراج کودی گئی دعوت واپس نہیں لی لیکن بعدازاں جب اوآئی سی کے اجلاس کامشترکہ اعلامیہ سامنے آیاتو بھارت کا مسلم دنیامیں بڑھتے اثرورسوخ کے گھمنڈ کا سومنات بھی کرچی کرچی ہوکرزمین بوس ہوگیا۔ اعلامیہ میں پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی کھلی مذمت اور پاکستاان کے ساتھ مکمل  اظہاریکجہتی کی بات کرکے عملاً مودی اوراس کے متعصب حواریوں کے منہ پر بھرپور زور دار طمانچہ رسیدکیاگیا جبکہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی دہشت گردی کے خلاف الگ سے ایک قرارداد میں بھارتی استعمار کی بھرپورمذمت کی گئی۔
اسی غم اورمایوسی کے عالم میں بھارت نے پاکستان اوربھارت کے درمیان امن کوششوں کے سلسلے میں سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرکے خطے کے امکانی دورے میں رخنہ ڈال دیا۔ سعودی وزیرخارجہ نے پچھلے ہی ماہ پلوامہ خودکش حملے کے بارے میں بھارتی دعوے کومستردکرتے ہوئے کہاتھاکہ پاکستان کے خلاف بھارت نے اس سلسلے  میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیاہے۔پاکستان نے اپنی نسبتاً بہترحکمت عملی،مؤقف کی سچائی،عسکری مہارت   وبرتری اورخاص طورپرکشمیری عوام کے بہتے  خون کی وجہ سے پاکستان کوعالمی سطح پر بھارت کے مقابلے میں پذیرائی ملی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی نوآموزقیادت اورحکومت اپنی اس کامیابی کوسنبھالنے کے حوالے سے کمزوری کا تاثر دینے لگی ہے۔موجودہ حکومت کی دریادلی یقینا عالمی سطح پربھی پذیرائی کاسبب بنی ہے لیکن بے سمت دریاکی طرح دریادلی کایہ سلسلہ جاری رہاتوحالیہ چنددنوں میں پاکستان کوملنے والی عزت پرحرف آنے کاخطرہ ہے۔پاکستان کی طرف سے اندرونی سطح پرتازہ فیصلے دباؤ کامظہرسمجھے جائیں گے۔خدشہ ہے کہ شاہینوں کی حاصل کی ہوئی کامیابی کرگسوں کے ہتھے نہ لگ جائے۔
چین،امریکا ،یورپی یونین،اقوام متحدہ اور اوآئی سی کی سطح پرپاکستان کوملنے والی کامیابیوں کو بہادرانہ اندازمیں کھڑے ہوکرہی بچایا جاسکتا ہے، ’’پیسو‘‘اندازمیں کامیابی برقرارنہیں رکھی جاسکے گی بلکہ اس سے مودی کوبھارت میں اپنی انتخابی مہم پاکستان کوہدف بناکرکامیاب کرنے کا موقع  مل سکتا ہے۔دشمن سرحدوں پرہے ،اندرونی محاذسے زیادہ بیرونی محاذپر توجہ اورطاقت لگانے کی ضرورت ہے۔بھارتی ہزیمت جاری رکھنے کیلئے عزیمت پرقائم رہنالازم ہے ۔  

 

تازہ ترین خبریں