07:38 am
امام کعبہ‘ تلاوت قرآن اور ہمارا رویہ

امام کعبہ‘ تلاوت قرآن اور ہمارا رویہ

07:38 am

امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی تو واپس بیت اللہ کی مشکبو فضائوں میں تشریف لے گئے‘ مگر مختلف تقریبات میں انہوں نے جس مسحور کن انداز میں قرآن پاک کی تلاوت کی اور بصیرت افروز تقریریں کیں۔ ان میں صاحبان عقل و دانش کے لئے واضح پیغام موجود ہے اور وہ یہ کہ تلاوت قرآن بہت بڑے اعزاز کی بات ہے‘ قرآن پاک کی تلاوت کرنے اور سننے سے مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
 
تلاوت قرآن بھی بہت بڑی مصروفیت ہے ہم میں سے کتنے لوگ ہیں کہ جنہیں ہر روز قرآن پاک کی تلاوت کی توفیق ملتی ہے؟ اخبارات اٹھائو تو کالم نگاروں کا اتوار بازار لگا ہوا نظر آئے گا‘ کسی چینل کو دیکھو تو دانشوروں‘ تجزیہ نگاروں‘ اینکرنیوں اور اینکرز کا منگل بازار لگا ہوا نظر آئے گا‘ پارلیمنٹ سے لے کر عدالتوں تک ہر شخص دوسروں کو بھاشن دیتا ہوا ملے گا‘ لیکن کبھی کسی نے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر یہ سوچنے کی کوشش کی کہ یومیہ بنیادوں پر اسے کتنے سپارے‘ کتنے رکوع یا کتنی سورتوں کی تلاوت کرنا نصیب ہوتا ہے؟
زمینی صورتحال تو یہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک‘ سینئر قانون دان چوہدری اعتزاز احسن نے سورہ اخلاص کی تلاوت کرنے کی کوشش کی‘ لیکن وہ سورہ اخلاص پڑھنے میں  فیل ہوگئے اور ایک (ر) جرنیل کہ جو وفاقی وزیر تعلیم بھی تھے سے  جب پوچھا گیا کہ قرآن پاک کے کتنے سپارے ہیں؟ موصوف نے علم و دانش کے موتی لٹاتے ہوئے فرمایا کہ قرآن پاک کے چالیس سپارے ہیں‘ ریاست مدینہ کے دعویدار عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے ’’خاتم النبین‘‘ پر ایسے اٹکے کہ ان کے اس اٹکنے کو ٹی وی چینلز کی سیکرنیوں کے ذریعے لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور سنا‘ میں نے کئی صحافی دوستوں سے پوچھا کہ آپ دنیا بھر کے اخبارات کو کھنگال ڈالتے ہیں اور دعوے کرتے ہیں کہ فلاں لائبریری کی اتنی کتابیں پڑھ ڈالیں‘ فلاں لائبریری میں موجود فلاں‘ فلاں کتابیں انہیں  زبانی ازبر ہیں؟ لیکن کیا انہوں نے کبھی قرآن پاک کی تلاوت بھی کی؟ اور اگر تلاوت کی تو کب کتنا عرصہ قبل؟ یقین مان لیں ان کے جواب سن کر میں کانپ کر رہ گیا۔ ان میںسے کئی تو ایسے تھے کہ جنہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے  ٹھک سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن پڑھنا نہ پڑھنا ان کا انفرادی معاملہ ہے‘ کبھی فرصت ملی تو اسے بھی پڑھ لیں گے‘ البتہ دو صحافی دوستوں کے چہرے پر شرمندگی کے آثار ضرور نمودار ہوئے‘ انہوں نے جھکی آنکھوں کے ساتھ جواب دیا کہ ہر سال رمضان کے مہینے میں ایک‘آدھ پارہ پڑھنے کی سعادت ضرور مل جاتی ہے‘ یہ جواب سن کر اس خاکسار نے عرض کیا کہ ہم بھی عجیب قوم ہیں کہ جن ٹاک شوز میں اینکر سیاست دانوں کو مرغوں کی طرح لڑا رہا ہوتا ہے... ہم اسے دل جمعی کے ساتھ دیکھنا تو نہیں بھولتے‘ ایک طرف ہم اتنے فارغ ہیں  کہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے سارا سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کے لئے وقت نکال لیتے ہیں‘ دوستوں کو دینے کے  لئے ہمارے پاس بہت وقت ہوتا ہے۔  دوسری طرف مصروف ہم اتنے ہیں کہ کئی‘ کئی مہینے اور سال ہمیں سورہ یٰسین کی تلاوت کرنے کے لئے بھی ٹائم نہیں مل پاتا اور پھر دعا یہ مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں ترقی عطا فرما‘ جس ملک میں اٹھانوے فیصد مسلمانوں کی آبادی موجود ہے اس ملک کے دانشور‘ تجزیہ نگار‘ کالم نگار‘ اینکرنیوں اور اینکرز کو اگر 24گھنٹوں میں صرف ایک مرتبہ ہی سہی قرآن کی تلاوت کرنا بھی نصیب نہیں ہوتا‘ اور وہ تلاوت قرآن کو نعوذ بااللہ کوئی حیثیت دینے کے لئے ہی تیار نہ ہوں بلکہ دینی اداروں‘ علماء‘ قرآء اور حفاظ کے خلاف ان  کے سینے بغض سے ابل رہے ہوں۔ کم ظرفوں کے اس گروہ کو ’’دانشور‘‘ تسلیم کرنا گناہ عظیم ہے‘ تمہیں مذاق کے لئے صرف مولوی اور مدرسہ ہی ملا ہے؟ مدرسے  کا وہ معصوم طالب علم کہ جو دس سال کی عمر میں اللہ کے سب سے مقدس کلام کو  حفظ کرلیتا ہے‘ تم اسے جاہل اور دہشت گرد قرار دیتے ہو..اور خود تمہاری حالت یہ ہے کہ کھڑا ہو کر کھانا‘ کھڑا ہو کر پینا‘ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا‘ حلال و حرام کی تمیز بھلا ڈالنا‘ مسلمانوں کو گالیاں اور یہود و نصاریٰ کی کاسہ لیسی کرنا کیا یہ ’’تعلیم‘‘ ہے ؟ عورت کو اشتہارات اور بازاروں کی زینت بنانا کیا یہ ’’تعلیم‘‘ ہے‘ عورتوں کا مختصر لباس ان کی تعلیم یا تہذیب نہیں بلکہ غربت اور احساس کمتری کے مرض کو ظاہر کرتا ہے۔
مسلمانوں کے بچے دینی مدارس میں حافظ‘ قاری‘ عالم اور مفتی بنیں تو تمہیں تکلیف‘ مسلمان جوق در جوق عمرے یا حج بیت اللہ کی سعادت کے لئے روانہ ہوں تو تمہارے پیٹ میں مروڑ اٹھیں‘ مسلمان ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنے حلال پیسوں سے قربانی کے جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کریں تو تمہاری ہوا خارج ہونا شروع ہو جائے‘ مسلمان دینی مدارس کو چندہ دیں تو تمہاری چیخیں برآمد ہونے لگیں‘ کوئی غیر مسلم لڑکی یا لڑکا اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلے تو تمہارا سیاپا شروع ہو جائے۔
کم ظرفوں کی پٹاری کے ان دانش فروشوں سے کوئی پوچھے کہ تم مسلمانوں کے اسلامی ملک کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ یہ مقدس دھرتی مسلمانوں کی ہے اور اسے اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے قائداعظمؒ نے بنایا تھا‘ امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان کے دورے کے دوران انہیں بے پناہ محبت اور پیار ملا‘ میرا دورہ پاکستان ناقابل فراموش ہے‘ میں نے قرآن پاک  پاکستانی استاد سے حفظ کیا تھا‘‘ اس حوالے سے اپنی گزارشات آئندہ کسی کالم میں پیش کرونگا۔ (ان شاء اللہ)