07:40 am
دوائوں کی قیمتوں میں کمی،…نیا ڈراما

دوائوں کی قیمتوں میں کمی،…نیا ڈراما

07:40 am

٭وزیرخزانہ اسد عمر مستعفی،شوکت ترین کا نیا وزیرخزانہ بننے کا امکانOبلوچستان میں 14 افراد کو بس سے اتار کر قتل کر دیا گیاOڈاکٹر جمیل جالبی انتقال کر گئےO پنجاب: آٹھ ماہ میں 6 سیکرٹری تبدیل، درجنوں تبادلےO دوائیں، دوا ساز اداروں کا قیمتیں کم کرنے کا اعلانO حسین حقانی کی چین اور پاکستان کے خلاف، بھارت کے حق میں نئی ہرزہ سرائیO ٹرینیں بند ہونا شروع، ’کراچی دھابے جی‘ ٹرین بند، جناح ایکسپریس شدید خسارے کی شکارO حمزہ شہباز نے والدہ اور بہنوں سے مل کر 11 فیکٹریاں بنائیں۔ نیبO نوازشریف، لندن سے ڈاکٹر بلانے کا امکان۔
 
٭اسد عمر نے بالآخر وزیراعظم کی خواہش پر وزیرخزانہ کے عہدہ سے استعفا دے دیا۔ انہوں نے وزیرتوانائی بننے اور کابینہ میں مزید رہنے سے معذرت کر لی۔ خبر کی تفصیل اخبار میں موجود ہے۔ یہ استعفا ایک عرصے سے دکھائی دے رہا تھا۔ مگر یہ بات عجیب دکھائی دے رہی ہے کہ اسد عمر امریکہ میں ایم ایف اے کے ساتھ قرضے کا معاہدہ مکمل کر کے آئے تھے اور اب انہوں نے اس معاہدہ پر دستخط کرنے تھے مگر انہیں فارغ کر دیا گیا ہے۔ ایک خاص وجہ یہ بنی ہے کہ وہ وزیراعظم کی خواہش پر ایمنسٹی کے نئے پروگرام پر کابینہ میںاتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے بلکہ یہ کہ وہ خود اس پروگرام کے خلاف تھے۔
٭دوا ساز اداروں نے دوائوں کی قیمتوں میں کئی سو فیصد اضافہ کر کے چند دنوں میں کروڑوں بلکہ اربوں کما لئے۔ حکومت کے دبائو ڈالنے پر ان اداروں کی ایسوسی ایشن کے صدر زاہد سعید نے اعلان کیا ہے کہ 395 دوائوں کی قیمتیں کم کی جا رہی ہیں؟ اور یہ نہیں بتایا کہ پرانی قیمتیں بحال کی جا رہی ہیں یا موجودہ قیمتوں میں معمولی کمی کی جا رہی ہے، یہ کہ 464 دوائوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا مگر 395 کی قیمتیں کم کی جا رہی ہیں! مزید یہ کہ قیمتیں کم کرنے میں 15 دن لگ جائیں گے۔ ان 15 دنوں میں جی بھر کر مزید کروڑوں کما لیں گے!! خونخوار چمگادڑیں!! نیب، ایف بی آر، ایف آئی اے کہاں ہیں؟
٭حسین حقانی: پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات ،آصف زرداری نے امریکہ میں سفیر بنا دیا۔ اس کے ہاتھوں پاکستان کی افواج کو مفلوج کرانے کے لئے امریکی صدر کو مراسلہ بھجوایا، (میمو کیس)۔ اس پر نوازشریف نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔ (اب جپھیاں!) حسین حقانی سے استعفا لینا پڑا۔ وہ امریکہ بھاگ گیا۔ اس نے پاکستان اور پاک افواج کے خلاف مضامین لکھنے شروع کر دیئے۔ اس پر خود پیپلزپارٹی (قمرالزمان کائرہ) نے اسے غدار قرار دے دیا۔ حسین حقانی باز نہ آیا، اب اس نے ایک جریدہ ’’ڈیفنس پی کے‘‘ میں کھلم کھلا صاف الفاظ میں پاکستان اور چین کے خلاف زہر اگلا ہے اور بھارت کی حمایت کی ہے۔ یہ طویل مضمون ہے۔ اس کے چند جُملے پڑھئے… کہتا ہے: ’’چین نے پاکستان کو دوسرے درجے کا سستا دفاعی آلہ کار بنا رکھا ہے … پاکستان سرحدوں پر مسلسل کئی لاکھ بھارتی فوج کو الجھا رہا ہے تا کہ وہ چین کی طرف توجہ نہ کر سکے …چین کی پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے تجارت کئی گنا زیادہ ہے وہ اسے نظر انداز نہیں کر سکتا…چین مسعود اظہر کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد اس لئے مسترد نہیں کرتا کہ اظہر مسعود کودہشت گرد نہیں سمجھتا، بلکہ اس لئے کہ اسے بھارت کے خلاف پاکستان کو اپنا دوسرے درجے کا سستا دفاعی آلہ کار بنائے رکھنا مقصود ہے!… پاکستان میں ایسی کئی شخصیات آزادانہ گھوم رہی ہیں جن پر اقوام متحدہ متعدد پابندیاں لگا چکی ہے۔…پاکستان افغانستان اور بھارت میں دہشت گردی کے خلاف محض زبانی جمع خرچ کرتا ہے، اس سے زیادہ نہیں کرے گا …پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے لڑنے والے جہادیوں کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں …واشنگٹن اور نئی دہلی کو پاکستان اور چین کے خلاف نئی حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔‘‘ (معارف فیچر کراچی)
اس آخری سطر سے حسین حقانی کی پاکستان کے خلاف کھلی ہرزہ سرائی سامنے آ گئی ہے۔ آصف زرداری نے اپنے پروردہ اس فتنے کی نازبرداری پر کبھی معذرت یا شرم ساری کا اظہار نہیں کیا! مگر شریف یا عمرانی حکومتوں نے خود پیپلزپارٹی کے غدار قرار دیئے جانے والے اس شخص کا کیا نوٹس لیا؟
٭ریلوے میں ہڑبونگ: کسی باقاعدہ پلاننگ اور سوچ بچار کے بغیرمحض سستی قسم کی شہرت کے لئے اندھا دھند اقدامات! ہر ہفتے نئی ٹرین! اب الٹا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ٹرینیں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اکتوبر 2018ء کو بڑے کروفر اور شاہانہ تقریب کے ساتھ کراچی سے ’دھابے جی‘ کے صنعتی علاقے (60 کلو میٹر، وقت ایک گھنٹہ 10 منٹ) تک ٹرین کا افتتاح کیا گیا۔ اس ٹرین پر روزانہ ایک لاکھ روپے کے اخراجات آنے لگے، آمدنی صرف 15 ہزار روپے روزانہ! نقصان ایک کروڑ 25 لاکھ تک پہنچ گیا تو اس ٹرین کو بند کرنے کا اعلان آ گیا ہے۔ کوئی معذرت، شرم ساری،غلطی کا اعتراف کچھ نہیں۔ اور دوسری ٹرین! پرانی بوگیوں پر رنگ روغن کا میک اپ کر کے ’’اعلیٰ‘‘ لوگوں کے لئے لاہور کراچی تک جناح ایکسپریس نام کی اعلیٰ ترین کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نے دو ہفتے قبل لاہور میں افتتاح کیا۔ دوسرے روز ٹرین ہچکولے کھانے لگی، پانچویں روز ایک بوگی جام ہو گئی اور اس ٹرین کا حاصل؟ اعلان ہوا تھا کہ تقریباً 1450 مسافر روزانہ دو طرفہ سفر کریں گے۔ 6500 روپے فی مسافر کے حساب سے روزانہ 94 لاکھ 25 ہزار روپے (9425000) آمدنی ہو گی۔ اس حساب سے اب تک دو ہفتوں میں 14 کروڑ 13 لاکھ 75 ہزار روپے (141375000) حاصل ہونے چاہئے تھیں۔ مگر ریکارڈ کے مطابق دو ہفتوں میں 21750 مسافروں کی بجائے صرف 7228 مسافروں نے سفر کیا ان سے چار کروڑ 69 لاکھ 82 ہزار روپے (46982000) آمدنی ہوئی گویا 9 کروڑ 43 لاکھ 93 ہزار روپے کم وصول ہوئے ہیں۔ روزانہ مسافروں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتِ حال کب تک چلے گی؟
سابق چیف سیکرٹری پنجاب ظفر گوندل کے خلاف آٹھ مقدموں کا ریفرنس۔ بزرگ ملازمین کے بہبود کے ادارے (ای او بی آئی) کے سربراہ کی حیثیت لاہور اور راولپنڈی میں سینکڑوں ایکڑ اراضی کی خریداری وغیرہ میں 44 ارب روپے کی کرپشن کا الزام!!!
٭رہائی کے 23 دن گزرنے کے باوجود نوازشریف کے علاج کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وہ جیل میں تھے تو خاندان والے ان کے مرض کو نہائت خطرناک اور نازک قرار دیتے تھے۔ اب 23 دنوں سے خاموش ہیں۔ کسی بیماری کا واضح اعلان نہیں کیا گیا۔نہ ہی علاج کا آغاز ہوا ہے۔ اب نیا اعلان آیا ہے کہ شائد لندن سے ڈاکٹر منگوانے پڑیں جو علاج کا فیصلہ کریں گے۔ جیل میںتو پھر بھی بار بار ہسپتال لے جایا جا رہا تھا، پانچ میڈیکل بورڈوں نے اعلیٰ سطح پر تفصیلی معائنے کئے، جو بھی ممکن تھا علاج کیا گیا مگر خاندان والے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ اب ان کے اپنے شریف میڈیکل کمپلیکس میں بھی تین معائنے ہو چکے ہیں، کوئی فیصلہ سامنے نہیں آ رہا۔ طبی ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ’’انتہائی خطرناک اور نازک‘‘ حالت والی بیماری کا 23 دنوں میں کوئی علاج نہیں ہو سکا!!
٭انتہائی الم ناک خبر کہ ملک کے 94 سالہ بزرگ ترین ادیب، دانش ور، کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جناب پروفیسرڈاکٹر جمیل جالبی انتقال کر گئے! اِنا لِلّہ واِنا الیہ راجعون! کیا اتفاق کہ جانے سے صرف چند روز پہلے علم و ادب کا لائف اچیومنٹ ایوارڈ لے گئے۔ اس پر مزید کل لکھوں گا۔

 

تازہ ترین خبریں