08:32 am
ابھی نہیں تو کبھی نہیں

ابھی نہیں تو کبھی نہیں

08:32 am

اگر اس ملک کو درست راستے پر ڈالنا ہے تو کرپشن کے خاتمے کی جنگ ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ دیگر کئی اسباب کے ساتھ کرپشن وہ بنیادی وجہ ہے جس نے ملکی معیشت کو اس حال تک پہنچایا ، اسی کی وجہ سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہورہی ہے اور عدلیہ سمیت دیگر اداروں کو اس مرض نے کھوکھلا کردیا ہے جس کے اثرات کا اب ہمیں سامنا ہے۔ 
 
کرپشن سے لڑائی اوپر سے نیچے کی جانب آنی چاہیے تاکہ کسی بڑے سیاسی منصب پر براجمان بدعنوان شخص اس عمل میں مداخلت کے قابل نہ رہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی منصب سے محرومی اس سلسلے میں واضح ترین مثال ہے۔ اس مقدمے سے ظاہر ہوگیا کہ عدالتوں میں کرپشن کو ثابت کرنا کتنا دشوار کام ہے۔ آخر کار نواز شریف کو عدالت میں کذب بیانی اور دستایزات میں جعل سازی کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا، اس کی وجہ ان کی وہ کرپشن نہیں بن سکی جس میں کسی قسم کا شبہہ تو نہیں لیکن اسے عدالت میں پوری طرح ثابت نہیں کیا جاسکا۔ ایسے ہی  دیگر مقدمات ، جن میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیر پر مالی کرپشن اور جعلی بینک کھاتوں یا بے نامی اکاؤنٹس کی ذریعے منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، وہ بھی طول پکڑ رہے ہیں۔ 
نیب کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہے ان میں ملزمان کو دی جانے والی قبل از گرفتاری ضمانت ایک بڑی رکاوٹ ہے 1جس کی وجہ سے ادارے کو تفتیش میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  ایک  تبصرے کے مطابق’’قبل از گرفتاری ضمانت کا حق شاذ ہی کسی کو دیا جاتا ہے اور یہ صرف بہت ٹھوس اسباب کی دست یابی اور غیر معمولی حالات کی حد تک محدود ہے جن میں بدنیتی/عناد واضح ہو۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 498 قبل از گرفتاری ضمانت کے موضوع پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ عدالت عالیہ یا سیشن کورٹ کو غیر معمولی نوعیت کے مقدمات میں قبل از گرفتاری ضمانت دینے کا اختیار دیتی ہے۔ لیکن یہ اختیار عدالت عظمی کے واضح کیے گئے اصولوں اور ہدایات کے مطابق استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم قبل از گرفتاری ضمانت کی شرائط کا خلاصہ کریں تو یہ نکات واضح ہوتے ہیں۔ 1) فوری گرفتاری کا حقیقی خدشہ ثابت ہوجائے۔2) درخواست گزار کو ذاتی طور پر عدالت  میں پیش ہونا ہوگا۔3) بلا جواز گرفتاری کی صورت میں ہراساں کرنے اور ناقابلِ تلافی تضحیک کا خدشہ پایا جاتا ہو۔ 4) بصورت دیگر پیش نظر معاملہ میرٹ پر پورا اترتا ہو۔ 
آج کل پاکستان میں نیب ملزمان کی ضمانت، عبوری ضمانت اور ضمانت قبل از گرفتاری کا سیلاب آیا ہوا ہے۔حال ہی میں  لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی رمضان شوگر مل اور صاف پانی کمپنی کیس میں 17ستمبر تک کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی۔ اس سے قبل نیب نے تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن شریف خاندان کے سیکڑوں حامی ان کی راہ کی دیوار بن گئے۔ ریاست اپنے ہی شہریوں کے سامنے بے بس نظر آئی۔ 
اس کے بعد بظاہر محسوس ہوا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شریف خاندان کو رعایت دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے لیے فوری عبوری ضمانت منظور کی اور عدالتی احکامات نیب کو پہنچا کر گرفتاری روک دی گئی۔ اسی طرح دوسرے مقدمے میں حمزہ شہباز ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے ایک اور معاملے میں نیب کی تفتیش سے  دامن بچا گئے۔ ایسا مسلسل تیسری بار ہوا کہ حمزہ شہباز نیب کی مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ کیا یہ تب بھی  ممکن ہوتا جب نیب  عدم تعاون کی بنیاد پر انھیں گرفتار کرسکتی؟ 
حمزہ کے والد شہباز شریف کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت دی گئی۔ اس سے قبل وہ گزشتہ برس اکتوبر سے نیب کی حراست میں تھے اور ضمانت ملتے ہیں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ لندن روانہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنی والدہ اور عملے کے دیگر چار ارکان کے لیے بھی ویزے حاصل کرلیے۔ ضمانت منظوری کی شرائط میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ ملزم ملک چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ آخر میں نواز شریف، جو العزیزیہ معاملے میں کرپشن پر نیب عدالت سے دی گئی سات برس کی قید کاٹ رہے ہیں انھیں علاج معالجے کے لیے چھ ہفتے کے لیے ضمانت پر رہا کیا گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالتیں شریفوں سے رعایت برت رہی ہیں اور کرپشن کے خلاف جنگ سے ان کی وابستگی پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ 
یہ تو دیگ کے چند دانے ہیں۔ نیب زرداری، تالپور، اومنی گروپ چیئرمین انور مجید،  پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین حسین لوائی، سمٹ بینک کے سینیئر نائب صدر طہ رضا اور زرداری کے دیگر قریبی ساتھیوں کے خلاف جعلی بینک کھاتوں کے معاملے کی تفتیش کررہا ہے۔  عدالتی کارروائی کے دوران 6 ستمبر 2018کو دو مزید کمپنیاں میسز لینڈ مارکس اور نیشنل گیسز پرائیوٹ لمیٹڈ(میسز این جی ایس) کے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کی بھی نشان دہی کی گئی۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں