08:33 am
وزیر اعظم اور خالد مقبول کے خلاف مذمتی قراردادیں؟

وزیر اعظم اور خالد مقبول کے خلاف مذمتی قراردادیں؟

08:33 am

سندھ کے وزیراعلیٰ  مراد علی شاہ نے گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں انتہائی جذباتی تقریر کی اور عندیہ دیا کہ کچھ عناصر سندھ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی انہوں نے اٹھارویں ترمیم کا بھی ذکر کیا اور اس پس منظر میں عمران خان وزیراعظم پاکستان اور خالد مقبول صدیقی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرائیں۔ حالانکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اقتدار پر فائز وزیراعظم کے خلاف کسی بھی بیان پر نہ تو مذمتی قرار داد یں نہ تو پیش کی جاتی ہیں اور نہ ہی ایوان سے منظور کرایا جاسکتاہے۔ سندھ اسمبلی میں کیوں کہ پی پی پی کی عدوی اکثریت ہے  اور اسمبلی کے ارکان کی اکثریت زرداری بلاول اور فریال تالپور کے اشارے پر رقص کرتی ہے جس سے سندھ کی سیاست اور معاشرت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
 
 وفاق سے خوامخواہ کی لڑائی کی جارہی ہے حالانکہ معاملہ سنگین نوعیت کے کرپشن کا ہے جس میں مبینہ طورپر وزیراعلیٰ خود ، زرداری  اور فریال تالپورشامل ہیں ، اس کرپشن سے توجہ ہٹانے کے لئے سندھ کی حکومت وفا ق سے ٹکر لے رہی ہے۔  یہ بات لکھنا انتہائی ضروری ہے کہ سندھ میں رہنے والے اردو بولنے والے (مہاجر نہیں ہیںکیونکہ مہاجر وہ ہیں جس کا اپنا گھر نہیں ہوتا ہے۔ مثال شام کے مہاجرین کی دی جاسکتی ہے) جو پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی وسیاسی وسماجی شعور رکھتے ہیں۔  وہ کبھی بھی سندھ کو نہ تو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں۔  سندھ میں رہنے والے تمام لوگ سندھی ہیں(پرانے اور نئے سندھی)، سندھ کی ترقی کے خواہش مند ہیں  اور چاہتے ہیں کہ سندھ کی حکومت عوام کی فلاح وبہبود کی طرف توجہ دے کر یہاں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے۔  ویسے بھی سندھ کے عوام نے بھارت سے آئے ہوئے اردو بولنے والوں کو اپنی سرزمین پر کھلے دل سے خوش آمدید کہا ہے۔  اس کا احسان تاقیامت ہمارے دلوں میں رہے گا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں ہے کہ اردو بولنے والوں کے حقوق سلب کرلئے جائیں اور نوجوانوں کے جن میں پڑھے لکھے اور کم پڑھے لکھے دونوں شامل ہیں ان کے لئے نوکریوں کے دروازے بند کردیئے جائیں یا پھر بھاری رقم کے عوض ان کو نوکریاں دی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو بولنے والوں کی اکثریت پی پی پی کی حکومت سے خوش نہیں ہے بلکہ خفا ہے۔  مزید برآں شہری سندھ جس میں دیہی سندھ بھی شامل ہے۔  ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔  شہری سندھ اور دیہی سندھ کے سلسلے میں  بھٹو مرحوم نے 60اور40 چالیس کا فارمولا پیش کیا تھا۔ یعنی 60فیصدنوکریاں دیہی سندھ کے عوام کو ملیںگی تو جبکہ شہری سندھ کے لئے 40چالیس فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا۔ ابتدا میں اس پر عمل کیا گیا لیکن بعد میں ایسا نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے دونوں جانب سے ناراضگیوں میں اضافہ ہورہاہے۔ ابھی حال ہی میں کے پی ٹی میں نوکریوں کا اعلان ہوا ہے جس کے تحت بھٹو مرحوم کا فارمولا اختیار کیا گیا ہے یعنی 19فیصد کوٹہ سندھ کے لئے مختص کیاہے جس میں 40فیصد شہری سندھ کو ملے گا  جبکہ 60فیصد دیہی سندھ کے لئے رکھا گیاہے۔ اگر اس پر ایمانداری، خلوص نیت اور طے شدہ فارمولے کے مطابق عمل کیا جاتا ہے تو اردو بولنے والوں اور سندھی بولنے والوں کے درمیان اخوت او ر بھائی چارے میں اضافہ ہوگا۔ اس ضمن میں ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ سندھ اسمبلی میں پی پی پی کے بعض ارکان اپنے ہی سندھی بھائیوں سے روپیہ پیسہ لے کر نوکریاں فروخت کرتے ہیں۔ اس نا قابل تردید حقیقت سے سندھ کا بچہ بچہ واقف ہے لیکن اس کھلی رشوت ستانی کو روکنے والا کوئی نہیں ہے حالانکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اسمبلیوں کے ارکان نوکریاں فروخت نہیں کرتے ہیں بلکہ قانون سازی کرتے ہیں۔ سندھ میں یہ جرم جاری ہے اور آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ 
 وزیراعلیٰ سندھ  مراد علی شاہ کو بعض افراد کے بیانات سے ناراض نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی جذباتی تقریر کرنی چاہئے کیونکہ اس قسم کی تقریروں اور تبصروں سے سندھ کے عوام کے درمیان مزید فاصلے بڑھتے ہیں جو آئندہ جمہوریت اوراچھی طرز حکمرانی کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ سندھ کے مالی حالات وفاق کی طرح اچھے نہیں ہیں  اور نہ ہی ترقیاتی کام ہورہے ہیںحالانکہ سندھ اسمبلی کے ارکان کو ترقیاتی کاموں کی مد میں خاصی رقومات دی جاتی ہیں لیکن کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہئے۔ موجودہ حکومت ایک منتخب حکومت ہے اس کو کام نہ کرنے دینے سے یا گرا دینے سے ملک کے اقتصادی حالات ٹھیک نہیں ہوسکیں گے کیونکہ پاکستان جس اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہے۔یہ صورتحال پی پی پی اور مسلم لیگ ن نے پیدا کی ہے۔ جنہوںنے ذاتی اعزاض و مقاصد کے حصول کے لئے اپنے اقتدار کو استعمال کیا ۔ سب سے زیادہ قصور وار  نواز شریف ہیں جنہوں نے اقتدار کو اپنے خاندان کے لئے تجارت کے فروغ اور بہتر مواقع کی تلاش میں استعمال کیا جس میں بھارت کے سرمایہ داروں کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم بھی تھے جو انہوںنے اپنے مالی حالات کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کئے نہ کہ پاکستان کو مالی طورپر مستحکم کرنے کے لئے۔ اس وقت میاں نواز شریف سات سال کی سزا کاٹ رہے ہیں  لیکن ان کا زیادہ تر وقت اسپتالوں میں گذرتا ہے۔ جہاں وہ آرام سے قید کے دن کاٹ کرہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ ان کرپٹ سیاست دانوں میں کسی قسم کی شرم وحیا بھی نہیں ہے۔ یہ افراد جیل جانے کو عزت اور اپنی توقیر میں اضافے کا سبب گردانتے ہیںحالانکہ کرپشن اور چوری چکاری کی وجہ سے جیل جانے سے بے عزتی ہوتی ہے لیکن پاکستان کی گذشتہ 40سالہ تاریخ میں چوری چکاری کرکے جیل جانے میں کسی قسم کی نہ تو بے عزتی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی عارہے مراد علی شاہ بھی نیب کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ ان پر بھی کرپشن کے ضمن میں الزامات ہیں وہ اپنی صفائی کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش بھی ہوئے ہیں۔ آئندہ بھی ہوتے رہیں گے لیکن اب موجودہ حالات میں انہیں خود اپنا اور اپنی حکومت کا احتساب کرنا چاہئے۔

تازہ ترین خبریں