08:35 am
مہنگائی ہو یا دہشت گردی ،مرتو عوام ہی  رہے ہیں

مہنگائی ہو یا دہشت گردی ،مرتو عوام ہی  رہے ہیں

08:35 am

اسد عمر کے استعفے اور کئی وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے سے کیا گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے؟ اسد عمر نے دوسری وزارت لینے سے انکار کرکے اچھا کیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ ان میں اور دوسرے وزیروں میں کافی فرق ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر فواد چوہدری وزارت اطلاعات چلانے میں ناکام رہے تو وہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چلانے میں کیسے کامیابی حاصل کر پائیں گے؟
 
اگر غلام سرور وزارت پٹرولیم چلانے میں نااہل ثابت ہوئے تو  وہ وزارت ہوا بازی میں کون سے تیر چلالیں گے؟ میرے نزدیک حکومت کے ابتدائی نو مہینوں میں ہی اپنی پہلی وزارتوں کو چلانے میں نااہل ثابت ہونے والوں کے قلمدان تبدیل کرکے انہیں دوسری وزارتیں سونپ دینا قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے… یہ ملک و قوم پہلے ہی قرضوں‘ مہنگائی اور لاقانونیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان کو چاہیے کہ وہ نااہلوں کا بوجھ وزارتوں پر لاد کر اس ملک و قوم کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں۔
حکومت میں آنے سے قبل عمران خان نے عوام سے اتنے زیادہ وعدے کیے تھے کہ اگر ان وعدوں کی تسبیح تیار کی جائے تو اس تسبیح کے دانے ایک ہزار سے بھی بڑھ جائیں  ‘ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ  گزشتہ سال ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں وہ واقعی حکومت میں آگئے‘ گو کہ اپوزیشن ان کی حکومت کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیتی ہے‘  کچھ بھی ہو ‘یعنی ووٹوں سے ہوا یا دھاندلی سے بہرحال عمران خان حکومت میں آہی گئے‘ حکومت میں آنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ عوام سے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتے لیکن عوام یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ حکومت میں آنے کے بعد بھی انہوں نے نئے سرے سے ایک دفعہ پھر عوام سے وعدے کرنے شروع کیے اور ساتھ اپنی آٹھ نو مہینوں کی حکومتی ناکامیوں‘ مہنگائی اور بیڈ گورننس کو بھی شریف اور زرداری حکومتوں کے متھے منڈھنا شروع کر دیا۔
یعنی دعوے اور وعدے بڑے بڑے لیکن عملی طور پر زیرو‘ کپتان کی حکومت کے ابتدائی9 مہینوں میں ہی مہنگائی نے پاکستانی عوام کی چیخیں نکلوا دیں ‘ کوئی وزیر اعظم  سے پوچھے کہ آج ٹماٹر120 روپے کلو‘ مرغی کا گوشت300 روپے کلو‘ کوکنگ آئل‘ سبزیوں‘ دالوں اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو اس اضافے سے شریف خاندان یا زرداری خاندان کی صحت پر کیا اثر پڑا؟ ٹماٹر اگر500 روپے کلو اور گوشت5 ہزار روپے کلو بھی ہو جائے انہیں تو  تب بھی فرق نہیں پڑنے والا‘ بقول عمران خان شریفوں اور زرداریوں نے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کیے۔
عمران خان ان لوٹے ہوئے اربوں روپے میں سے زرداری یا شریف خاندان سے ایک روپیہ بھی برآمد نہ کرواسکے … ہاں البتہ انہوں نے عوام کی جیبیں خالی کروانے کے لئے نت نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کرنا ضرور شروع کر دیئے۔
کپتان یہ کہتے تو شریف کو تھے کہ میں تمہاری چیخیں نکلوائوں گا لیکن ان کی حکومت کے ’’کارناموں‘ کی برکت سے ’’چیخیں‘‘ عوام نے مارنا شروع کر دیں اور اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عمران خان کے سب سے قریبی وزیر اسد عمرمستعفی ہوئے اور چھ وفاقی وزارتوں میں ردوبدل کرنا پڑگیا۔
ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی دن بدن کشیدہ ہوتی چلی جارہی ہے‘ عمران حکومت کے آٹھویں مہینے میں ہی یعنی22 مارچ کو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی پر  دہشت گردوں کی طرف سے کیے جانے ایک جان لیوا حملے سے اللہ ہی کی مدد سے بچ سکے۔ البتہ ان کے دو ساتھی شہید ہوگئے‘ حالیہ دنوں میں پہلے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے ڈیڑھ درجن سے زائد افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے اور  جمعرات کے دن بلوچستان کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں نے سیکورٹی اہلکاروں سمیت14 بے گناہ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
15 سے زائد دہشت گرد کراچی سے گوادر اور گوادر سے کراچی جانے والی بسوں کے مسافروں کو بسوں سے اتار کر اپنے ساتھ پہاڑوں پر لے گئے اور انہیں گولیوں سے بھون ڈالا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں بھارت کے ساتھ ساتھ اس کی ہمنوا دیگر بیر ونی قوتیں بھی ملوث ہیں لیکن بلوچستان میں یکے بعد دیگرے ہونے والی دہشت گردی کی ان خوفناک کارروائیوں سے حکومت کے سیکورٹی معاملات  کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ مفتی تقی عثمانی جیسی اعتدال پسند عالمی شخصیت پر قاتلانہ حملے میں ملوث دہشت گرد اگر گرفتار ہوئے تو وزارت داخلہ کو  پریس کانفرنس کے ذریعے قاتلوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے ملک کی نشاندہی کرکے اس ملک کے سفیر کو وزارت داخلہ میں طلب کرکے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ حکومت نے اس حوالے سے بھی اپنی نااہلی ثابت کرکے عالمی سطح پر بعض ممالک کی دہشت گردی کو ثابت کرنے کا  سنہرا موقع کھو دیا۔
یاد رہے کہ مفتی تقی عثمانی پر ہونے والے ناکام حملے کے بعد دہشت گردوں نے اپنے پشت پناہ ممالک کی آشیر باد سے بلوچستان کو آسان  ہدف سمجھتے ہوئے یکے بعد دیگرے دہشت گردی کی کاروائیاں شروع کر دی ہیں‘ وزیراعظم عمران خان کو وزارتیں بدلنے اورکرپشن کے خلاف بیانات دینے سے ہی فرصت نہیں ہے‘ سوال یہ ہے کہ ایک طرف عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کی تیاریاں عروج پر ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں نے بے گناہ لوگوں کو مارنا شروع کر دیا ہے … آخر ان بے چارے عوام کا بنے گا کیا؟

تازہ ترین خبریں