08:37 am
تنزلیاں، تبدیلیاں، نیم پارلیمانی، نیم صدارتی نظام!

تنزلیاں، تبدیلیاں، نیم پارلیمانی، نیم صدارتی نظام!

08:37 am

٭تماشے، تنزلیاں، تبدیلیاں، ناپسندیدگیاں، تلخیاں، اہم وزارتیں وزیروں سے آزاد، 10 گئے، 39 تیار بیٹھے ہیں!O ایک روز شاباش، اگلے روز استعفا! O سابق وزیرخزانہ کی تلخیO تین اہم وزارتیں وزیروں کے بغیر! O بھارت نے کشمیر میں تجارت بند کر دی O سیالکوٹ میں بچی پتنگ ڈور سے ہلاک O پاکستان کے ہوائی اڈے، نیٹو کی ایک ارب روپے کی عدم ادائیگی O شجاعت حسین کی عمران خاں سے ناراضی۔
 
٭اسلام آباد میں اچانک گرم تند وتیز ہوا چل پڑی، برج الٹ گئے، مینار گر پڑے، بڑی وزارتوں والے بڑے نام سمٹ کر مُٹھی میں آ گئے۔ کہاں وزارت اطلاعات کا شاہی دربار، حکومت کی ترجمانی، دن میں چار چار بار ٹیلی ویژنوں پر رونمائیاں، دشمنوں کوللکارے اور کہاں سائنس و ٹیکنالوجی کی لیبارٹریوں میں آکسیجن میں ہائیڈروجن ملا کر پانی بنانے کی کوششیں!! کیسی کیسی تنزلیاں؟ وزیر خزانہ کو بجلی کے میٹر چیک کرنے والی وزارت کی پیش کش! سمندر سے تیل نکالنے کے بلند بانگ اعلانات والے وزیرغلام سرور کو ہوائی جہازوں کی آمدورفت کا وقت چیک کرنے پر لگا دیا! داخلہ کی وزارت وزیراعظم کی جیب میں تھی، شہریار آفریدی کو نائب وزیر کا عہدہ کیا ملا،خوشی سے  باچھیں کھل گئیں، پہلے روز اسلام آباد کے تھانوں پر چڑھائی، اگلے روز بیوروکریسی کو دھمکیاں، ’’ہوش میں رہو، تم ہمارے ماتحت ہو‘‘ صوبوں کی پولیس کے انسپکٹرجنرلوں سے جوابدہیاں! اور اب! صبح آنکھ کھلی تو’ہست تھانہ بُود تھا، اسلام آباد شہر کی صفائی اور سڑکوں کی مرمت! وزیر سیفران! یہ سیفران کیا چیز ہے؟ لوگوں کو سمجھانا پڑتا ہے کہ اسلام آباد کے نگران داروغہ کے فرائض کا نام ہے! اک دم سے دس وزارتوں کی کایا پلٹ! ایک وزیرخزانہ امریکہ میں آئی ایم ایف سے کشکول بھرنے کا معاہدہ کر کے آیا۔ وزیراعظم نے شاباش دی، اگلے روز کابینہ کے اجلاس میں ایمنسٹی پروگرام پیش کیا آٹھ وزراء پیچھے پڑ گئے۔ تُو تُو مَیں مَیں! شام کو نادر شاہی حکم آ گیا، وزیرخزانہ کا عہدہ چھوڑو، بجلی کے کھمبوں والی وزارت سنبھال لو! کہاں وزیراعظم کے بعد خزانہ کی اہم ترین شاہی وزارت اور کہاں گنگوا تیلی کا جھونپڑا! سلطانی مزاج نے نامنظور کر دیا۔ ایک پریس کانفرنس کر دی۔ اس میں تلخ ہو گئے کہ ’’میرے کامیاب یا ناکام ہونے کا فیصلہ تاریخ کرے گی، ممکن ہے نئے چہروں سے بہتر کارکردگی یا ریلیف کی اُمید ہو!‘‘ اور نئے چہرے؟ خزانہ، صحت، اور پٹرولیم کی وزارتوں کے لئے اب کوئی وزیر نہیں، غیر منتخب مشیر اور خصوصی معاون نگرانی کریں گے! خزانہ کے امیدوار شوکت ترین ہمدردانہ فارمولے بتاتے رہ گئے مگر سہاگن وہ جسے پیا چاہے! پھولوں کا تاج حفیظ پاشا کے سَر پر سَج گیا۔ سابق وزیر اب صرف مشیر رہ گیا! سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی مشیر وزارتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔ اسمبلی اور کابینہ کے اجلاسوں میں بیٹھ سکتا ہے، ووٹ نہیں دے سکتا، جواب دے سکتا ہے، سوال نہیں کر سکتا۔
خزانے کو تو پھر بھی مشیر مل گیا۔ صحت اور اطلاعات کو وہ بھی نہ مل سکے۔ صحت کے لئے ندیم بابر، اطلاعات کے لئے فردوس عاشق اعوان محض معاون خصوصی! ندیم بابر پہلے ہی تنازع کی زد میں اور فردوس عاشق اعوان! میڈیکل ڈاکٹر، ق لیگ کے سہارے اسمبلی میں، پیپلزپارٹی کو اقتدار میں آتے دیکھا تو اس کے سایہ تلے، وزارت اطلاعات مل گئی۔ حکومت کی ترجمانی، بڑے شہروں میں فائیو سٹار ہوٹلوں میں صحافیوں کو کھانے، ٹیلی ویژنوں پر بیانات مگراس وقت تو مکمل وزیر تھیں اب محض معاون خصوصی! اب کیا ہو گا؟ منتخب وزیروں کی جگہ غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونوں سے امریکہ کے صدارتی نظام کی جھلک دکھائی دے رہی ہے جہاں کوئی وزیر کا عہدہ ہی نہیں ہوتا۔ سرکاری افسروں کے عہدوں والے غیر منتخب سٹیٹ سیکرٹری صدارتی نظام چلاتے ہیں۔ ہر سیکرٹری کے پاس ایک محکمہ ہوتا ہے۔ ہم انہیں وزیر کا نام دے دیتے ہیں۔ سو حضرات! اب دو قسم کا نظام چلے گا، کچھ پارلیمانی، کچھ صدارتی! سوچ رہا ہوں ان بے چاروں سے ہمدردی کی جائے جن کے سر تو پائے ساقی پر ہی سجدہ ریز تھے مگر دماغ عرش پر پہنچے ہوئے تھے، آج فرش پر ہیں اور حیران ہو رہے ہیں کہ یہ کیا ماجرا ہو گیا؟
٭کالم پریس میں جاتے وقت کی اطلاع کہ غلام سرور نے پٹرولیم کی وزارت چھوڑنے اور ہوابازی کی وزارت لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ سخت ناراض ہیں۔ غلام سرور نے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کو شکست دی تھی۔
٭قارئین کرام! میں ایک الجھن میں ہوں۔ محترم بشریٰ رحمان ملک کی نامور ادیبہ و شاعرہ ہیں کچھ عرصہ پہلے ایک محفل میں انہوں نے اپنا ایک سفر نامہ پڑھتے ہوئے ایک دلچسپ جملہ بول دیا کہ ’’ہر اچھے سفر میں پرانا خاوند اور نیا جوتاتکلیف دیتا ہے!‘‘ میں نے کابینہ کے جو نئے  حالات بیان کئے ہیں، ان کے اندر کہیں یہ جُملہ جوڑنا چاہتا ہوں مگر بات نہیں بن رہی۔ شائد قارئین کرام کوئی جوڑ توڑ کر سکیں۔
٭ایک رپورٹ: نیٹو نے افغانستان جانے کے لئے بار بار پاکستان کے ہوائی اڈے استعمال کئے۔ ان کے واجبات ایک ارب روپے سے زیادہ ہو گئے ہیں مگر نیٹو نے کوئی ادائیگی نہیں کی۔ چوری اور سینہ زوری!! اس سے کون نمٹے گا؟
٭عرب امارات کی طرف سے لاہور کے چڑیا گھر کو 18 شیروں کا تحفہ دیا جا رہا ہے۔ ان میں چار سفید شیر، چھ بنگال ٹائیگر اور آٹھ افریقی شیر ہیں (اصلی شیر!)
٭امریکہ سے محترم حبیب حیات نے نیویارک میں مقیم پاکستانی نژاد مزاحیہ شاعر  خالد عرفان کی ایک دلچسپ مزاحیہ غزل بھیجی ہے۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
نئے وزیروں کی حسرتوں پہ شباب دولت کے بعد آیا
شراب الیکشن سے پہلے پی تھی، نشہ وزارت کے بعد آیا
بہت سے لیڈر اسمبلی کو پلے گرائونڈ سمجھ رہے ہیں
وفاق میں کھیل کا تصور، نئی حکومت کے بعد آیا
حَلَف اٹھا کے ہمارا لیڈر، محافظوں کی پناہ میں ہے
وزیر بن کے وہ اپنے گھر میں بڑی حفاظت کے بعد آیا
بڑی محبت سے ’’مہ وشوں‘‘ میں ستارہ امتیاز بانٹا
انہیں ستارہ نواز یوں کا ہُنر صدارت کے بعد آیا
٭ایس ایم ایس: جتوئی جھگی والا روڈ دس سال سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے۔ جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔ سیاست دان صرف ووٹ لینے کے لئے آتے ہیں، پھر کبھی ادھر کا رُخ نہیں کرتے۔ اس علاقے کے لوگوں کو آمدورفت میں سخت تکلیف کا سامنا ہے۔ ہماری اپیل چھاپ دیں۔ زاہد ستار خان جتوئی ضلع مظفر گڑھ۔
٭آج کل انٹرنیٹ پر ایک خطر ناک کھیل جاری ہے اس میں لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک دوسرے کو جان سے مارنا سکھایا جاتا ہے۔ پیمرا والے کہاں ہیں؟ اس خطرناک کھیل پر فوراً پابندی لگائی جائے۔ شاہد نواز بنوں۔
٭ باغ آزاد کشمیر اور راولپنڈی کے درمیان کوٹلی ستیاں اور لہتراڑ کے علاقے میں بعض مقامات پر شرپسند عناصر گاڑیاں لوٹتے ہیں، مسافروں اور خواتین سے بدتمیزی کرتے ہیں۔ گاڑیوں کی چھتوں پر چڑھ کر سامان لوٹ لیتے ہیں۔ ایک تعلیمی ادارے کے طلبا ہاتھوں میں پتھر لئے گاڑیوں کو روکتے ہیں۔ بار بار پولیس سے شکائت کی ہے، کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ عدنان اشرف باغ آزادکشمیر۔