11:55 am
ابھی نہیں تو کبھی نہیں

ابھی نہیں تو کبھی نہیں

11:55 am


(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ تو دیگ کے چند دانے ہیں۔ نیب زرداری، تالپور، اومنی گروپ چیئرمین انور مجید،  پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین حسین لوائی، سمٹ بینک کے سینیئر نائب صدر طہ رضا اور زرداری کے دیگر قریبی ساتھیوں کے خلاف جعلی بینک کھاتوں کے معاملے کی تفتیش کررہا ہے۔  عدالتی کارروائی کے دوران 6 ستمبر 2018کو دو مزید کمپنیاں میسز لینڈ مارکس اور نیشنل گیسز پرائیوٹ لمیٹڈ(میسز این جی ایس) کے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کی بھی نشان دہی کی گئی۔

 لینڈمارکس زرداری، تالپور اور پیچوہو کی مشترکہ ملکیت ہے۔ ان دونوں کمپنیوں کا انکشاف اس ہارڈ ڈسک سے ملنے والے ریکارڈ سے ہوا تھا جو ایف آئی اے نے اومنی گروپ کی ملکیت کھوسکی شوگر ملز پر چھاپے کے دوران ضبط کی تھی، اس فرنچائز کے سربراہ انور مجید ہیں۔ کچھ روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے 28مارچ کو سماعت کے لیے منظور ہونے والی درخواست قبل از گرفتاری کی سماعت کرتے ہوئے زرداری اور ان کی ہمشیر فریال تالپور کی ضمانت میں 29اپریل تک توسیع کی منظوری دی۔ اسی روز نیب نے زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو دی جانے والی ضمانت منسوخ کرنے کی استدعا کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ زرداری اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر ریکارڈ میں ردّ و بدل کرسکتے ہیں اور یہ بھی بیان کیا کہ زرداری پہلے ہی تحقیقات میں بیورو سے تعاون نہیں کررہے ہیں۔ نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ  زرداری نے ضمانت کی درخواست میں بھی  عدالت کو گمراہ کیا ہے اور اس معاملے میں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ لیکن عدالت نہ بخوشی گمراہ ہونا قبول کرلیا اور دونوں ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔
ان نمایاں مقدمات سے ہٹ کر دیگر متعدد مقدمات میں لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قانونی راستے سے کرپشن کے خلاف جنگ کتنا دشوار کام ہے۔  کمزور ریاست ایسے لوگوں کو تسلی بخش تحفظ نہیں دے سکتی جو اس ملک کے طاقتوروں کے خلاف گواہی دینے یا شواہد فراہم کرنے کی جرات کرتے ہیں۔ بالخصوص نچلی عدالتوں کے جج بھی اسی وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔  ملکی قوانین ایسے رویوں کی جڑ ہیں، یہ استدلال پوری طرح درست نہیں۔ موجودہ قوانین پر سختی کے ساتھ، بغیر کسی ’’نرمی‘‘ (یہ بھی قانونی اصطلاح ہوئی؟)  کے ساتھ عمل کیا جائے اور  جج پوری کرپشن کے خلاف جنگ میں یکسو ہوجائیں تو یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں کرپشن ایک طرز زندگی بن چکی ہے۔ برسوں سے جاری قومی خزانے کی لوٹ مار  آج معیشت کی بدحالی کا بنیادی سبب ہے۔ بیرونی قرضے 100ارب ڈالر اور مقامی بینکوں کے قرضے 20ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ لوٹی ہوئی دولت کی پاکستان واپسی کے آثار نظر نہیں آتے۔ لیکن  مستقبل میں اس لوٹ مار کو روکنے کے لیے لٹیروں کو سزائیں تو دی جاسکتی ہیں۔ فی الحال جیسے عدالتی فیصلے سامنے آرہے ہیں یہ بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
قومی احتساب آرڈیننس میں بہتری لاکر اور نیب کی مدد سے ریاست اور اداروں میں کرپشن کی گہری جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشیش جاری ہیں۔ قومی احتساب آرڈیننس کو بالادست قانون بنایا گیا تھا اور اسے کسی بھی نافذ قانون پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ (آرٹیکل 3)اس وقت سے اس قانون کے نفاذ اور بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے جب کہ بازیافت ہونے والے غیر قانونی اثاثوں کی ضبطی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس دوران ایسے کڑا وقت بھی آتا رہا ہے جب نیب کو دیگر اداروں کی تعاون حاصل نہیں رہا یا خود نیب کے اہل کاروں نے کسی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن گزرتے برسوں میں نیب مضبوط ہوا ہے اور ’’معلوم ذرائع سے زائد آمدن‘‘ کا تصور تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد بنتا جارہا ہے۔
اس صورت حال میں ایک اور کارگر حل یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ ایک آرڈیننس کے ذریعے ضمانت پر 120دن تک پابندی عائد کردی جائے۔ اگر حال ہی میں دی جانے والی ضمانتیں منسوخ کردی جائیں اور آئندہ چار ماہ تک ضمانت نہ دی جائے تو ملزمان خود ہی سوالوں کے جواب بھی دینا شروع کردیں گے اور مطلوبہ معلومات بھی فراہم کردیں گے۔ کسی بھی پیش رفت کے لیے 120دن  کافی ہوتے ہیں۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

 

تازہ ترین خبریں