12:01 pm
علامہ اقبال اور کشمیر

علامہ اقبال اور کشمیر

12:01 pm

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ دنیا ئے اسلام کے عظیم رہنما تھے ۔ وہ بے بس آشفتہ حال اور محکوم قوموں  کے ترجمان تھے ۔اقبال کسی ایک فرد کا نہیں ۔بلکہ ایک عہد کا نام ہے ۔ ان کا پیغام خودی کشمیر ی قو م کی  زبوں حالی اور جبر کی زنجیروں کو توڑنے کی ترغیب دیتاہے ۔


علامہ اقبال کی فکر کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ مستحکم رشتہ کی ضمانت ہے۔ اقبال کشمیر کے عظیم سپوت تھے، جنہوں نے روح آزادی کو بیدار کیا۔ حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کی کشمیر کے ساتھ بے پناہ جذباتی اورروحانی وابستگی تھی۔اس وابستگی کا اظہار علامہ اقبالؒ نے اپنے کلام ،خطوط اورخطبات میں جگہ جگہ کیاہے۔ علامہ اقبال ؒ کے بزرگوں کا تعلق خطہ کشمیر سے تھا، جس پر علامہ اقبال ؒ کو بہت ناز تھا،جس کا اظہار انہوں نے ایک موقع اس طرح کیا کہ ان کی شریانوں میں دوڑنے والا خون کشمیر کے چناروں کی طرح سرخ ہے۔
اقبال بنیادی طور پر آزادی فکر کے شاعر ہیں جنہوں نے اپنی انقلابی شاعری کے ذریعے ظلم وجبر کا شکار انسانوں کے دلوں کے اندر آزادی وحریت کی شمع روشن کی۔
اقبال کا نظریہ تھا کہ غلامی انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی اوراس کی سوچ وفکر کو محدود کر دیتی ہے،جس کے نتیجے میں گروہی، علاقائی اورلسانی تعصبات پیدا ہوتے ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے1932ء میں اپنے ایک مشہور خطبہ میں مسلمانا ن کشمیر کو ان قوتوں کی سازشوں سے خبردار کردیا تھا جو کشمیریوں کے اندر انتشار وافتراق پیداکرناچاہتے تھے۔ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے کشمیر کے لوگوں کو مختلف جماعتوں اورگروہوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ایک جماعت کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیا تھا۔علامہ محمد اقبالؒ کشمیری النسل تھے، خطبہ آلہ آباد 1930ء سے قبل بھی وہ ہندوستان میں کشمیریوں کی تحریک حریت کے داعی و علمبردار رہے اور اولاً آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری اور بعد ازاں کشمیر کمیٹی کے صدر بھی رہے۔ علامہ اقبالؒ نے ہی 14 اگست1934ء کو کشمیریوں کیسا تھ اظہار یکجہتی منانے کے لئے پورے مسلمانان ہند کو دعوت دی تھی۔
1931ء کے واقعات جن میں سری نگر میں 22افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اس واقعہ کے صدائے بازگشت کو ہندوستان تک پھیلانے میں علامہ اقبالؒ کا بہت بڑا کر دار تھا۔ حضرت علامہ محمد اقبال نے جب1930ء میں مسلمانان ہند کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا تھا، اسی دوران انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ معرض وجود میں آنے والی نئی مملکت اسلامیہ میں اگر کشمیر شامل نہ کیا گیا تو اس مملکت کو بنانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اقبال کہتے ہیں
 تنم گلے زخیابانِ جنتِ کشمیردلم
 ز خاکِ حجاز و نواز شیراز استیعنی
 میرا بدن، گلستان کشمیر کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارض حجاز سے اورمیری صدا شیراز سے ہے۔
اگر یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک در اصل انیس سو اکتیس ہی میں شروع ہو چکی تھی۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اقبالؒ کشمیر کے سیاسی جغرافیے کی بساط اْلٹ جانے کی پیش گوئی بہت پہلے کر چکے تھے۔ لاہور میں انہوں نے انجمن کشمیری مسلمانان کے سالانہ اجلاس میں اپنے اس خواب کو یوں بیان کیا تھا کہ ہم کشمیر میں سیاست کی میز اْلٹ جانے کو دیکھ رہے ہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ کشمیری جو روایتی طور پر محکوم اور مظلوم ہیں، ان کے دلوں میں اب ایمان کے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔ کشمیریوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ان کے ہنر سے جو ریشم و کمخواب کے لباس بنتے ہیں ان کو پہنتا کون ہے اور ننگے بھوکے کو ن رہتے ہیں۔
اقبال ہر لمحے کشمیری قوم کے ساتھ کھڑے  دکھائی دیتے ہیں ۔
گرم ہوجاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہاں چار سو لہو رنگ وبو
پاک ہوتا ہے ظن وتخمین سے انسان کا ضمیر
کرتا ہے ہر راہ کو روشن‘ چراغ آرزو
ضربت پیہم  سے ہوجاتا ہے آخر پاش پاش
حاکمیت کا بت سنگین دل و  آئینہ  رو
 اقبال مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے تذکرے کو نئی نسل کیلئے مہمیز خیال کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال   نے برصغیر کیلئے جس الگ وطن کا تصور پیش کیا ،کشمیر بھی اسی کا حصہ ہے ۔   انہوں نے نہ صرف کشمیر کے دلفریب نظاروں ،فلک بوس کوہساروں ِ ، پرترنم آبشاروں اور حسین جمیل   مرغزاروں کی منظر کشی کی ۔ بلکہ کشمیریوں کی محکومی ،پسماندگی بے چارگی اور غلامی کے درد کو بھی شدت  سے محسوس کیا ۔
 علامہ اقبال نے ایک مخلص رہنما کی حیثیت سے کشمیریوں کی سیاسی محرومی ،معاشی بدحالی ، نفسیاتی دبائو  کی داستان الم  اقوام عالم تک پہنچانے میں تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
پانی تیرے چشموں کا تڑپتا ہو ا سیماب
مرغان سحر تیری  فضائوں میں ہیں بے تاب
اے وادی لولاب    اے وادی لولاب
گر صاحب ہنگامہ نہ ہو  منبر ومحراب
اے وادی لولاب
ہیں ساز پر موقوف   نوا ہائے  جگر سوز
ڈھیلے ہوں  اگر تار  تو بیکار ہے  مضراب
 تحریک حریت کشمیر سے علامہ اقبال کی فکری اور علمی وابستگی تھی ۔ کشمیریوں کی غلامی کے خاتمے کیلئے جذباتی لہجے میں دعا کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں ۔
پنجہ‘ ظلم و  جہالت  نے برا  حال کیا
بن کے مقراظ ہمیں   بے پر و بال کیا
توڑا  اس دست جفاکش کو  یارب
جس  نے روح آزادی کو پامال کیا
 بے انتہا نامسائد حالات کے باوجود تحریک آزادی کشمیر کا سات دہائیاں مکمل کرنا ، اس بات کا ثبوت ہے ۔ کہ کشمیر جیسی تحریکوں کا گراف کربلائے معلی جیسی قربانیوں سے بلند ہوتا ہے ۔  وہیں علامہ اقبال جیسے مفکروں کو روح پرور کلام اس قوت کو دوبالا کرتا ہے ۔ کشمیری نوجوان جس طرح  دیوانہ وار قربانیاں دے رہے ہیں ۔ وہ اس بات کا غماز ہے ۔ کہ انہیں کشمیر کی آزادی اپنی جانوں سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ حصول آزادی کیلئے ایک ہی نعرہ بلند کرتی کشمیر ی قوم کہہ رہی ہے ۔
جیو تو مثل غازیاں    مرو تو ہیں   شہادتیں
ادھر بھی ہیں شہادتیں  ادھر بھی ہیں شہادتیں
   عددی برتری اور طاقت کے زعم میں بھارت یہ سمجھ بیٹھا ہے ،کہ ، بھارتی بربریت سے کشمیری قوم   ڈر جائے گی ۔  اس کا اندازہ بالکل غلط ہے ۔ جدوجہد آزادی روز بروز  طاقتور ہورہی ہے ۔بھارتی تاریخ کا یہ سبق بھول گئے ہیں ، سیاہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ، صبح ضرور طلوع ہوتی ہے ۔
کوئی اندازہ کر سکتا ہے   اس کے زور  بازو کا
نگاہ  مرد  مومن سے   بدل  جاتی ہیں تقدیریں
   کشمیری قوم اُ ن قافلوں کی مانند ہے ۔  جو موسم کی تمازتوں  اور  راستوں کی مصیبتوں سے قطعی لاتعلق    ہو کر منزل کی طرف بڑھتے ہیں ۔ قافلے چلتے رہتے ہیں  دن راتوں  میں اور  راتیں دن میں ڈھلتی     رہتی ہیں ۔ ہر روز  ایک نیا سنگ میل قافلوں کو منزل  کے قریب ہونے کا پیغام دیتا ہے ۔
اک ذرا  صبر کہ اب جبر کے دن تھوڑے ہیں ۔

 

تازہ ترین خبریں