12:03 pm
اللہ کو قرض حسنہ!

اللہ کو قرض حسنہ!

12:03 pm

اس عمل کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم کے آغاز میںہی سورہ بقرہ کی تیسری آیت میں صلوٰۃ کے بعد جس کا ذکر کیا گیاہے وہ خدا کے دئیے ہوئے رزق میں سے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرنا ہے۔ دوسرے انسانوں کی مالی دشواریوں کو دور کرنے اور ان کی زندگیوں میں آسودگی اور آسانیاں فراہم کرنے کے عمل کو راہ خدا میں مال خرچ کرنے کے عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا حکم زکوٰۃ کی صورت میں دیا ہے اور مزید صدقات اور خیرات کے احکامات دئیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مزید ترغیب دیتے ہوئے اسے اللہ کو قرض حسنہ دینا بھی کہا گیا ہے۔ بنیادی طور پر اسلامی ریاست اپنے تمام شہریوں کی ذمہ دارہوتی ہے اور وہاں اس طرح کے سارے معاملات ایک نظام کے تحت ہوتے ہیں لیکن جب تک ایسی فلاحی مملکت وجود نہیں آتی تب تک ہمیں یہ ذمہ ادا کرنا ہے تاکہ لوگوں کی مالی مشکلات دور ہوں۔


 قرآن حکیم کی سورہ بقرہ کی آیت 219میں ہے کہ  اور کمائی میں ہر ضرورت مند اور محروم رہ جانے والے کا حق ہے۔  اس آیت کی روشنی میں اگر آپ ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں تو یہ کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔ بلکہ آپ کا مال بھی تو آپ کا اپنا نہیں کیونکہ آپ نے تو اس پہلے سے ہی سودا کرلیا ہوا ہے ۔ سورہ توبہ کی آیت 111 کے تحت یہ معاہدہ ہے جو ایک مسلمان کا خدا کے ساتھ ہے۔  ارشاد ہے کہ ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم و اموالھم اس معاہدہ کے تحت آپ نے جان اور مال خدا کو فروخت کردی ہے اور اس کے عوض جنت خرید لی ہے اور جو لوگ اس معاہدہ سے پھرنے کی کوشش کریں اور مال جمع کرتے رہیں جن کا ذکر سورہ تکاثر اور الھمزہ میں کیا ہے کہ مال جمع کرتے رہتے ہیں اور گنتے رہتے ہیں ۔ وہ  مال کو بند کرکے رکھتے ہیںاور ضرورت مندوں کو نہیںدیتے ان کاحشر سورہ توبہ 34 اور 35 میں بتا دیا کہ اور جو لوگ سونا اور چاندی یعنی مال و دولت جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے اور جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ، پہلوئوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گااور کہا جائے گا میں ہی تمہارا مال ہوں جو تم نے جمع کیا تھا لہٰذا اب عذاب کا مزہ چکھو۔
ذرا غور کریں کہ یہ اس مال کا ذکر ہورہا ہے جو آپ کی اپنی کمائی ہے لیکن اس مال کا تصور کریں جو کرپشن ، دوسروں کا حق غصب کرکے اور قومی دولت لوٹ کر کمایا گیا ہو۔ ان کے حشر کا سوچ کر توروح کانپ جاتی ہے۔ سورہ ابراہیم میں ہے شکر ادا کرو گے تو خدا اور دے گا ناشکری کرو گے تو عذاب کے لئے تیار رہو۔ شکر کا معنی محض زبان سے یااللہ تیرا شکر  نہیں ہے بلکہ عملی طور پر کچھ کرنا ہے۔ خدا کی عطا کردہ چیزیں کو دوسروں کے لئے کھلی رکھنا ،دل کھول کر سخاوت کرنا اور خوب دوسروں کی مدد کرنا ہی حقیقت میں شکر ہے۔ایک روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے خدا اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ آپﷺ نے یہ فرمایا کہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے خدا کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے اللہ کی راہ میں ہاتھ نہ روکو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے اپنا ہاتھ روک لے گا۔
ہمیںجو کچھ بھی ملا ہے وہ خدا کا ہی تو دیا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود خدا اپنے دیئے ہوئے مال میں سے آپ سے قرض مانگ رہا ہے۔خدا آپ سے سورہ بقرہ کی آیت 245 میں پوچھ رہا ہے کہ من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنا دے۔اگر آپ کا بہت اچھا دوست یا بہت محبت کرنے والا بہن بھائی آپ سے قرض مانگے تو آپ کیا کریں گے ؟ اس کی ضرورت پوری کریں گے نا۔ یہاں تو خدا آپ سے ایک بار نہیں بلکہ 6 مرتبہ اور قرآن حکیم میں آپ سے قرضہ حسنہ مانگا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 245، سورہ مائدہ کی آیت 12، سورہ حدید کی آیت 11 اور 18، سورہ طلاق کی آیت 17 اور سورہ مزمل کی آیت 20 میں خدا آپ سے قرض حسنہ کا سوال کررہا ہے۔ سورہ حدید میںجہاں خدا کو قرض دینے والے مردوں کا ذکر کیا ہے وہاں قرض حسنہ دینے والی عورتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ سورہ طلاق میں قرض دینے کی صورت میں کئی گنا واپس کرنے کے ساتھ بخشش کا بھی وعدہ ہے۔خدا کا وعدہ پورے ہونے میں کس کو شک ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجو د  سورہ فرقان 16 کے مطابق خدا تمہیں یہ حق دیتا ہے کہ اگر وعدہ پورا نہ ہو تو تم پوچھ سکتے ہو۔ اتنا پکا اور آسان سودا نہ چھوڑیں اور کیا پھر بھی آپ خدا کو قرض نہیں دیں گے؟
آج ہم ہیں لیکن کل نہیں ہوں گے لیکن ہمارے اعمال زندہ رہیں گے ۔ دوسروں مشکلات آسان کریں خدا آپ کی مشکلات آسان کرے گا۔ عموماً رمضان سے قبل لوگ اپنی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور پھر عید الفطر سے قبل فطرانہ ادا کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ  اس مقصد کے لئے رفاہی اداروں کاا نتخاب کریں۔

 

تازہ ترین خبریں