12:06 pm
بادشاہی مسجد کے بلندمیناروں کی فاتحہ خوانی!

بادشاہی مسجد کے بلندمیناروں کی فاتحہ خوانی!

12:06 pm

٭آج مفکر پاکستان علامہ محمداقبال کی برسی ہے۔ ملک بھر میں تقریباتO سابق وفاقی سیکرٹری شاہد رفیع گرفتار، رینٹل پاور کیس، 11 ریفرنس، راجہ پرویز اشرف پر بھی الزام O سابق وزیر صحت عامر کیانی کے خلاف بھاری کرپشن، کرپٹ افسر کا تقرر، تحقیقات O غلام سرور خان  نے ہوا بازی کی وزارت قبول کر لی Oکشمیر میں تجارت بند، بھارت میں اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کا الزام O آصف زرداری کے خلاف گھیرا مزید تنگ، ذاتی ’تھینان کمپنی‘ کا جنرل منیجر محمد سلیم گرفتار۔


٭آج مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کی 80 ویں برسی (81 واں یوم وفات) منائی جا رہی ہے۔ بہت سی تقریبات، ٹیلی ویژنوں کے پروگرام! میں نے اقبالیات پر بہت کچھ لکھا ہے۔ آج اتفاق سے مولانا ظفر علی خاں کے بھائی، پنجاب یونیورسٹی کے سابق، وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خان کا علامہ اقبال کے بارے میں ایک انوکھے زاویے کا مضمون دیکھا ہے۔ یہ بھارت کے شہر آگرہ کی یونیورسٹی کے پروفیسر محمدطاہر فاروق کی کتاب ’’سیرت اقبال‘‘ کے دیباچہ کے طور پر شائع ہوا تھا۔ کیا بات کہہ دی ہے جناب حمید احمد خان نے کہ عالمگیری مسجد کی دیوار علامہ مرحوم کے مزار پر سایہ کرتی ہے اور مسجد کے سنگ سرخ سے بنی ہوئی عالی شان بلند و بالا مینار علامہ مرحوم کے مرقد پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ یہ سارا مضمون فصاحت و بلاغت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہاں اس کا ایک مختصر حصہ لفظ بہ لفظ دیا جا رہا ہے۔ خاں صاحب لکھتے ہیں۔
’’اقبال اب اورنگ زیب کی مسجد کے زینے کے پاس سوتا ہے۔ ایک موقع پر اُس نے خود کہا تھا کہ اسلامی فن تعمیر کے دورِ عروج کی خصوصیت اُس کا جلال و جبروت ہے۔ اسی جلال و جبروت کی آخری جھلک مغلیہ فن تعمیر نے اورنگ زیب کی شاہی مسجد میں دکھائی۔ یہی جلال و جبروت خود اقبال کی شاعری نے اپنے لئے پسند کرلیا اور جب شاعر کا جسد عنصری احباب و معتقدین کے کندھوں پر اپنے دنیوی مکان سے ہمیشہ کے لئے رُخصت ہوا، تو اس کی منزل مقصود شاہی مسجد کی دیوار کا سایہ تھا۔ بلاشبہ اقبال کے لئے ایسی ہی خواب گاہ موزوں تھی۔ اب ہر صبح عالمگیر کے تعمیر کئے ہوئے رفیع الشان مینار، اپنی سنگ سرخ میں لپٹی ہوئی پُر غرور صلابت کے ساتھ، اُس شخص کے مرقد پر فاتحہ خواں ہوتے ہیں جس کے کلام کی رفعت و جلال نے اُسے ہمیشہ کے لئے ان کی ہمسائیگی کا حق دیا ہے۔ مسجد کے صحن کی پُرشکوہ وسعت و عظمت مسجد کے زینے سے اُتر کر اُس تودۂ خاک پر نثار ہونا چاہتی ہے۔ جس کی آغوش میں اقبال ہمیشہ کی نیند سو رہا ہے۔ جب اندھیرا ہو جاتا ہے اور سکوتِ شب کے طلسم سے لاہور کے کوچہ و بازار بتدریج مسحور ہونے لگتے ہیں تو مسجد کے طاق و محراب اور گنبد و مینار سے وہی ترانہ خاموش بلند ہوتا ہے جسے اقبال کے کان سب سے زیادہ پہچانتے ہیں۔اقبال کی وفات پر لاہور کے ایک مقتدر انگریز افسر نے اقبال کے ایک عقیدت مند دوست سے کہا: ’’تم نے ہندوستان کے آخری مسلمان کو سپرد خاک کر دیا۔‘‘اب کچھ دوسری باتیں:
٭وزارتوں کی نئی تقسیم پر عمل شروع ہو گیا۔ بڑی اور طاقت ور وزارتوں پر براجمان وزیر چھوٹی اور غیر اہم وزارتوں پر ہی رضا مند ہو گئے۔ بلا سے عہدہ چھوٹا بڑا، کچھ بھی ہے، شاندار بنگلہ، اعلیٰ سرکاری گاڑی اور عملہ تو سلامت ہے۔ گھر اور گائوں والوں کے لئے وزیر کا نام ہی کافی ہے۔ یہ بڑے عہدے اور اعلیٰ سرکاری سہولتیں ویسے کہاں ملتی ہیں؟ ہندی کہاوت ہے کہ ’’ساری جاتی دیکھیو تو آدھی دیجیو بانٹ‘‘، عہدہ ’’نصف‘‘رہ گیا تو کیا ہوا، پہلے والے عہدے پر کون سے کارنمایاں دکھائے تھے جو کہ اب دکھانے ہوں گے! بس سرکار کا سایہ سلامت رہے، روزی چلتی رہے! چلو باقی تو جو کچھ بھی ہے مگر فارغ بلکہ برطرف ہونے والے وزیر صحت عامر کیانی کے بارے میں کیا انکشافات ہو رہے ہیں کہ موصوف کے بڑے بڑے دوا ساز ادارو ںکے ساتھ ذاتی تعلقات تھے! دوائوں کے نرخ دو سوفیصد بڑھانے میں ذاتی دلچسپی بھی تھی۔ وغیرہ وغیرہ!
اس ’’حُسن انتخاب‘‘ پر تو سوالات ابھی جاری تھے کہ پٹرولیم کی وزارت کے نووارد مشیر ندیم بابر کے بارے میں کھلی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر الزمان کائرہ نے کھلے بیان میں کہا ہے کہ موصوف ناردرن سوئی گیس کمپنی کے 86 کروڑ کے نادہندہ ہیں، لندن کی ایک عدالت میں ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِس حُسن انتخاب پر کیا کہا جائے؟
٭نیب نے آصف زرداری کے دور میں بجلی پیدا کرنے کے رینٹل پاور سکینڈل میں ملوث سابق سیکرٹری پاور شاہد رفیع کو گھر سے گرفتار کر کے اہم ریکارڈ بھی قبضہ میں لے لیا ہے۔ سکینڈل کے الزامات یہ ہیں کہ آصف زرداری کی زیر صدارت وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے دور میں متعدد 11پاور کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے کے ٹھیکے دیئے گئے اور اربوں روپے کی پیشگی ادائیاں بھی کر دی گئیں مگر بجلی کا ایک یونٹ بھی پیدا نہ کیا گیا۔ یہ کمپنیاں غائب ہو گئیں اور ان کے بجلی گھر بند پڑے ہیں۔
 الزام یہ ہے کہ اس سنگین سکینڈل میں مختلف افراد کی تجوریاں بھر گئیں بلکہ اُبل پڑیں۔ ایک اہم بات کہ راجہ پرویز اشرف کا بھتیجا راجہ دانیال، راجہ پرویز اشرف کا بھتیجا اور شاہد رفیع کا داماد ہے۔ شاہد رفیع کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور بہت سے دوسرے بڑے عہدوں پرکام کرنے کا موقع ملا۔ اونچے خاندانوں کے ساتھ تعلقات رہے اب نیب کے ساتھ ’تعلقات‘ شروع ہوئے ہیں۔
٭مصیبت در مصیبت! پنجابی میں ایک کہاوت ہے کہ ایک بوجھ دوسری جگہ رکھ کر آتا ہوں تو دوسرا بوجھ تیار ہوتا ہے۔ اب تک آصف زرداری کے خلاف اب تک اتنے سکینڈل زیر سماعت آ چکے ہیں اور ان کے اتنے حاشیہ بردار گرفتار ہو چکے ہیں کہ گنتی بھی یاد نہیں رہتی۔ نئی بپتا یہ آن پڑی کہ موصوف سے تعلق رکھنے والے اومنی گروپ سے وابستہ پارک لین کمپنی کی ذاتی ذیلی’ تھینان کمپنی‘ کے جنرل منیجرمحمد سلیم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مرے کو مارے شاہ مدار! مشکل یہ ہے کہ ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عائد ہے ورنہ کسی علاج کے لئے باہر جانے کا جواز بن سکتا تھا! عجیب معاملہ ہے کہ بے شمار طویل عدالتی کارروائیوں اور سزائوں کے باوجود آج تک راز نہ کُھل سکا کہ نوازشریف نے لندن میں فلیٹس کیسے بنائے؟ اسی طرح آصف زرداری کی ملک کے اندر باہر 87 بڑی بڑی جائیدادیں اور کاروبار کیسے قائم ہوئے؟ سینکڑوں ایکڑ زمینیں کیسے خریدی گئیں؟ دوعالی شان تاریخی محل خریدنے کے سرمایہ کہاں سے آیا؟ مگر کالی آندھی آتی ہے یا سیلاب اُمڈتے ہیں تو ہرچیز تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہے۔ اور جیسا کہ نیب کے چیئرمین نے میری طرح پرانی بات کو دہرایا ہے کہ کفن کی کوئی جیب نہیں ہوتی، اور عالم یہ کہ 87 اثاثے عالتوں میں پیشیوں سے نہیں بچاسکے! استغفار! بقول عمران خان یہ عالم بھی آنا تھا کہ ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا تو پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں!۔ ویسے جناب خان صاحب! آپ کے بیٹیوں کے پاس بھی تو برطانوی شہریت ہے!؟
٭ایک عزیز نے دلچسپ بات کہی ہے کہ وزارت اطلاعات اس بار راولپنڈی کی لال حویلی کی قسمت کے جال میں آ ہی نہیں رہی۔ ابتدا میں شیخ رشید نے وزارت اطلاعات کے لئے ادھر ادھر سے پیغامات بھی بھجوائے مگر بقول امجد اسلام امجد ’’میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں‘‘ اس بار بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اطلاعات کی وزارت فواد چودھری کے ہاتھ سے پھسل گئی تو لال حویلی نے پھر کروٹ لی، ’’حاضر جناب!‘‘ کا بہت وِرد کیا مگر دور پار سیالکوٹ سے فردوس عاشق اعوان آ کر کرسی پر بیٹھ گئیں! لال حویلی پھر منہ دیکھتی رہ گئی۔

 

تازہ ترین خبریں