06:04 am
  سوشل میڈیا کے دہشت گرد !

سوشل میڈیا کے دہشت گرد !

06:04 am

بلوچستان میں مکران کی ساحلی شاہراہ پر  دہشت گرد حملے میں بے گناہ نہتے شہریوں کا خون ِ ناحق پھر بہایا گیا ۔ شہداء میں عسکری اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔ حملہ پاکستان پر ہوا ہے لیکن پیغام
بلوچستان میں مکران کی ساحلی شاہراہ پر  دہشت گرد حملے میں بے گناہ نہتے شہریوں کا خون ِ ناحق پھر بہایا گیا ۔ شہداء میں عسکری اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔ حملہ پاکستان پر ہوا ہے لیکن پیغام چین کو بھی دیا گیا ہے ! دشمن کا پیغام یہی ہے کہ عالمی غنڈہ گردی کے چیمپئن امریکہ اور جنوبی ایشیا میں سرحد پار دہشت گردی کے سب سے بڑے ٹھیکیدار بھارت کی مرضی کے خلاف  کوئی  اقتصادی منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیا جا ئے گا ۔ سی پیک سے خار کھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان جیسا اہم ملک  شطرنج کی بساط پرامریکی مہرہ بننے کے بجائے ایک ایسے مد مقابل کی حیثیت سے سامنے آیا ہے جس کی پشت پر چین اور روس جیسی اہم علاقائی طاقتیں بھی کھڑی ہیں اور ایران و سعودیہ جیسے روایتی حریف بھی اعتماد کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ نئی اڑچن یہ ہے کہ بھارت جیسے پٹھو کی مدد سے کابل میں کٹھ پتلی حکومت سے تو پینگیں بڑھائی جا سکتی ہیں لیکن افغان طالبان سے مذاکرات کا بھاری پتھر اُٹھانا تو درکنار ذرا سا سرکایا بھی نہیں جا سکتا ۔
  امریکہ کا پرانا وطیرہ یہی رہا ہے کہ مضبوط حریف سے براہ راست پنجہ آزمائی کرنے کے بجائے اپنے پٹھوئوں کو اکھاڑے میں دھکیل دیا جائے۔ یقین نہ آئے تو  شام کے حالات پر ذرا نگاہ  ڈال لیں۔ تمام تر سنگین اختلافات کے باوجود امریکہ بہادرکو روس کے خلاف ایک پٹاخہ پھوڑنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی ۔ بمباری کا شوق ہمیشہ نہتے اور کمزور اہداف پر ہی پورا کیا جاتا ہے ! عراق ، افغانستان اور شام میں خوں ریزی کی داغدار تاریخ کے دھبے پیشانی پر سجائے  انکل سام فاتح کی حیثیت سے اپنا پھریرا لہرانے کا خواہش مند ہے۔ روس اور چین سے مخاصمت نکالنے کے لیے پاکستان کو تر نوالہ بنانے کی حکمت عملی پر زور و شور سے عمل درآمد جاری ہے۔ چند سالوں سے جاری  اس کشمکش کے ابتدائی رائونڈز میں پاکستان کا پہلو دہشت گردی اور اندرونی خلفشار کے ہتھیاروں سے ہی   زخمی ہوا ۔کون نہیں جانتا کہ یہ ہتھیار کسی اور نے نہیں بلکہ ازلی ابدی دشمن بھارت نے تھام رکھے ہیں !
  مقام حیرت یہ ہے کہ گہرے زخم کھانے کے باوجود  پاکستان آج بھی پورے عزم سے کھڑا ہے ۔ سرحد پار دہشت گردی کے سانپ کا سر کچل دیا گیا ۔ بچے گچھے سنپولیے اور بچھو آج بھی موقع ملنے پہ ڈنک مارنے سے نہیں چوکتے۔ جہاں بے مثال قربانیوں کی بدولت ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کی ہیں وہیں پہاڑ جیسی سنگین غلطیوں کا بھگتان بھی بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ معیشت کی بربادی ، خارجہ محاذ پر سست روی اور پولیس سمیت  قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے قوم عذاب میں مبتلا ہے ۔ ہزارہ برادری کو ہدف بنانے کے بعد دہشت گردوں نے بس میں شناختی کارڈ وں کی مدد سے مسافروں کو علیحدہ کرکے بے دردی سے شہید کیا۔  یہ طریقہ واردات پہلی مرتبہ اختیار نہیں کیا گیا ۔ بلوچستان کے علاوہ شمالی علاقہ جات میں بھی یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا ۔ ہر مرتبہ دشمن یہ تاثر دیتا ہے کہ کسی خاص مسلک یا کسی خاص علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے ۔ نامعلوم تنظیمیں ایسی وارداتوں کی ذمہ داری قبول کرکے دشمن کے پھیلائے گئے تاثر کو مزید مضبوط کردیتی ہیں ۔
حالیہ دہشت گردی کے ذریعے بھی دشمن نے یہی کچھ کیا ہے ۔ پہلے ہزارہ برادری کو ہدف بنا کے فرقہ وارانہ منافرت کی آگ پہ تیل چھڑکا اور اب پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کو ہدف بنا کے لسانی تعصب کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی ۔ پاکستان کے وجود پہ فرقہ وارنہ اور لسانی تعصب کے ہتھیار سے وار کرنے کی تاریخ  بھارت سے شروع ہو کے بھارت پر ہی ختم ہوتی  ہے۔ مشرقی پاکستان  کی علیحدگی کے بعد اسی اور نوے کی دہائی میں سندھ کے طول و عرض میں لسانی تعصب کی آگ نے ہزاروں گھروں کو راکھ کیا۔  ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بنگلہ دیش ، سندھو دیش ، پشتونوں کی نام نہاد تحاریک   اور مہاجر  حقوق کے نام پر لسانی تعصب کی آگ بھڑکانے والے جعلی قائدین کے پشت پہ بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ تھا ۔
کھل بھوشن یادو اقرار کر چکا ہے کہ لسانی اور فرقہ ورارنہ تشدد کے پیچھے را کا ہاتھ کارفرما رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان اعترافات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا سبق سیکھا ؟  دہشت گردوں کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ سر عام مسافروں کو بسوں سے اتار کے گولیوں سے بھون دیا ؟ کیا اب شاہراہوں اور گلی محلوں میں فوج کو تعینات کیا جائے؟ جن عہدیداروں کی کوتاہی کی بدولت دہشت گرد بار بار وار کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ان کے خلاف ٹھوس انضباطی کاروائی کی جانی چاہیے۔ دشمن ہمیں زبان ، رنگ ، مسلک اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتا ہے  ۔ دہشت گرد حملوں کے فوراً بعد مخصوص رجحانات کے حامل لبرل فاشسٹ سوشل میڈیا پر پاکستان کے بارے میں مغلظات بکنا شروع کر دیتے ہیں ۔ بھارت ، امریکہ اور افغانستان کی پاک دشمن حرکات پر انہیں سانپ سونگھ جا تا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا تذکرہ ان پر حرام ہے ۔ یہ ہر اُس موضوع پہ بھونکتے ہیں جس پہ مغربی قوتیں واویلا مچانے کا اشارہ کر دیں ۔ عساکر پاکستان کی بھارتی افواج پر حالیہ برتری ان سے ہضم نہیں ہو پارہی ۔
 لبرل فاشسٹ طبقے میں پاکستانی فوج پر کیچڑ اچھالنے کا فیشن دانشوری کی علامت بن چکا ہے۔ دہشت گرد تو موقع دیکھ کے وار کرتے ہیں ۔ البتہ سوشل میڈیائی دہشت گرد صبح و شام فکری انتشار اور لسانی نفرت کا زہر پھیلانے میں مصروف ہیں ۔ ان کی خاص نشانی یہ ہے کہ ان کی زبان پہ کبھی بھی بھارتی دہشت گردی کا تذکرہ نہیں آتا اور اگر کسی صحافتی مجبوری کی وجہ سے ہلکا پھلکا تذکرہ کرنا بھی پڑ جائے تویہ بدترین صحافتی بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو بھی  بھارت کی طرح دہشت گردی کا سر پرست ثابت کرنے کے لیے بال نوچ نوچ کے وایلا مچانا شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ ہزارگنجی دھماکے اور کوسٹل ہائی وے پر کی جانے والی حالیہ دہشت گردی کے بعد سوشل میڈیا پر زہر اگلنے والے فاشسٹوں پر نگاہ ڈال لیں ۔ یہ شہداء سے ہمدردی کے بجائے پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلتے دکھائی دیں گے۔ یہ دہشت گرد بھارت کے بجائے دہشت گردی کا ہدف بننے والے پاکستان کو گالیاں دیتے دکھائی دیں گے ۔      

 

تازہ ترین خبریں