06:04 am
بھارت سےایک اہم کتاب میں چشم کشا حقائق

بھارت سےایک اہم کتاب میں چشم کشا حقائق

06:04 am

سادھوی پرگیا بے قصور نہیں ہے۔بم دھماکے بھگوادہشت گردوں نے کئے ، مسلمان پھنسائے گئے۔ سابق انسپکٹر جنرل پولیس کی  نئی کتاب میں انکشاف
 مہاراشٹر کے سابق
سادھوی پرگیا بے قصور نہیں ہے۔بم دھماکے بھگوادہشت گردوں نے کئے ، مسلمان پھنسائے گئے۔ سابق انسپکٹر جنرل پولیس کی  نئی کتاب میں انکشاف
 مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس ایس ایم۔ مشرف نے اپنی نئی انگریزی کتاب برہمن وادیوں کے بم ، مسلمانوں کو پھانسی (Brahminists Bombed, Muslims Hanged) میں ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ 2002سے ہونے والے بم دھماکے بھگوا دہشت گردوں نے کئے لیکن ایجنسیوں کی ملی بھگت سے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے خلاف جعلی کیس بنائے گئے اور ان کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ مشرف نے اس نے 299 صفحات پر مشتمل کتاب میں بتایا ہے کہ آر ۔ایس۔ ایس، ابھینو بھارت، بجرنگ دل اورجے وندے ماترم جیسی تنظیموں نے یہ دہشت گردانہ واقعات انجام دئے لیکن انٹیلی جنس بیورو ، این آئی اے اور اے ٹی ایس جیسی سرکاری تنظیموں نے حکومت اور میڈیا میں موجود بھگوا عناصرکی مدد سے جان بوجھ کر ثبوتوں کو مٹایا اور بے گناہ مسلمانوں کو ان کیسوں میں پھنسادیا ۔میڈیا کا پروپیگنڈا اور سرکاری وکیل اکثر ججوں کو بھی دھوکا دینے میں کامیاب رہے۔
 ایس ایم مشرف اس سے قبل کرکرے کے قاتل کون؟ (Who Killed Karkare?) اور 26/11جانچ: عدالتیں بھی کیوں ناکام رہیں (26/11 Probe: Why Judiciary Also Failed) جیسی معرکتہ الآرا کتابیں  لکھ کر دہشت گردی کے نام پر اس ملک میں چلائے جانے والے افسانے کا پردہ چاک کرچکے ہیں۔ حکومت اور ایجنسیوں نے ان کتابوں میں پیش کردہ حقائق کے سامنے صرف خاموشی کی راہ اپنائی ہے۔
ایس ایم مشرف نے اپنی اس نئی کتاب میں مطالبہ کیا ہے کہ ایک اعلی عدالتی کمیٹی بنائی جائے جو آزاد انہ طور سے ان تمام دہشت گردانہ کارروائیوں کی جانچ کرے۔ان کو یقین ہے کہ اس طرح کی آزادانہ جانچ سے واضح ہوجائے گا کہ دراصل بھگوا دہشت گردوں نے بم دھماکے کئے اور بے گناہ مسلمانوں کو پھنسا کرانھیں جیلوں میں ٹھونس دیا گیا جہاں وہ اب بھی سڑ رہے ہیں اور ان کو 20،25سال جیل میں گذارنے کے بعد بھی ضمانت نہیں ملتی ہے۔
مشرف نے اپنی اس نئی کتاب میں دکھایا ہے کہ بھگوا دہشت گردوں نے مسلمانوں کو پھنسانے اور حاشیے پر ڈالنے کے لئے 2002سے دھماکے شروع کئے اور میڈیا اور ایجنسیوں میں اپنے دوستوں کے ذریعے مشہور کیا کہ یہ بابری مسجد کے انہدام اور گجرات 2002کا  مسلم رد عمل ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ اس سارے معاملے میں اصل ملزم انٹیلی جنس بیورو ہے جو اپنے مسلم دشمن ایجنڈے کے لئے معروف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں یہ بھی دکھایا ہے کہ ایجنسیوں نے اہم شواہد کو چھپایا ، ان کی تحقیق نہیں کی اور اہم گواہوں کو عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کیا۔ ان بہت سے معاملات میں سالہا سال جیلوں میں سڑنے کے بعد عدالتوں نے کچھ مسلمانوں کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا لیکن نہ ان کو معاوضہ ملا اور نہ ہی ان کو پھنسانے والوں کو کوئی سزا ہوئی۔
 اس کتاب میں مشرف نے کچھ بم دھماکوں کا بالخصوص مطالعہ کیا ہے جیسے جولائی 2006میں بمبئی ٹرینوں میں ہونے والے دھماکے، جرمن بیکری، اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس، حیدرآباد کے دل سکھ نگر میں دھماکہ، محمدیہ مسجد پر بھنی دھماکہ اور مکہ مسجد دھماکہ وغیرہ۔ یہ انگریزی کتاب ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے معروف اشاعتی ادارے فاروس میڈیا نے شائع کی ہے جو اس موضوع پر متعدد مستند کتابیں شائع کرکے دہشت گردی کے افسانے کا پردہ چاک کرچکا ہے۔ یہ کتاب جلد ہی اردو اور ہندی 157 میں بھی دستیاب ہوگی۔
واضح رہے کہ اس سلسلے کی پہلی اہم کڑی کرکرے کے قاتل کون؟ ملک کی آٹھ زبانوں میں دستیاب ہے۔ ان کتابوں نے پہلی دفعہ مظلوموں کو حوصلہ دیاکہ باہر نکل کر اپنی مظلومیت کی بات کرسکیں۔ فاروس میڈیا بہت جلد ہجومی دہشت گردی (ماب لنچنگ ) پر ایک دستاویزی مطالعہ انگریزی زبان میں شائع کرنے والا ہے جس میں مودی سرکار کے زمانے میں ہونے والے تقریبا  ہجومی تشدد کے واقعات کی دستاویزی تفصیلات اور ان پر سیر حاصل جائزہ شامل ہوگا۔

 

تازہ ترین خبریں