06:05 am
ایران سے برادرانہ تعلقات‘سوالات ہی سوالات

ایران سے برادرانہ تعلقات‘سوالات ہی سوالات

06:05 am

اپریل کو سرحد پار کرکے 15دہشت گردفرنیٹرر کور کی وردی میں  پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں داخل ہوئے‘ جہاں انہوں نے بسوں کو روکا اور شناخت کرکے 14پاکستانیوں کو شہید کر دیا‘
18اپریل کو سرحد پار کرکے 15دہشت گردفرنیٹرر کور کی وردی میں  پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں داخل ہوئے‘ جہاں انہوں نے بسوں کو روکا اور شناخت کرکے 14پاکستانیوں کو شہید کر دیا‘ ان 14شہداء میں 10جوانوں کا تعلق پاک نیوی‘3کا فضائیہ اور ایک کا کوسٹل گارڈز سے تھا‘ دہشت گردی کی اس خونی واردات کے حوالے سے  ہفتے کے روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ پاکستان نے بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں دہشت گردی کے نتیجے میں 14 سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے‘ وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں موجود ایرانی سفارت خانے کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لئے پہلے بھی کئی مرتبہ مطالبہ کیا جاچکا ہے‘ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ واقعہ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی کارستانی ہے... دہشت گردوں کے نئے الائنس پی آر اے کے تربیتی  اور لاجسٹکل کیمپ ایران کی سرحد کے اندر ہیں‘ اس الائنس میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں اور انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے۔
وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ایران ان واقعات کی روک تھام کے لئے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے‘ ہم نے ایکشن ایبل انٹیلی جنس ایرانی حکام سے شیئر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بھی دورہ تہران کے موقع پر ایرانی حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں گے‘ وزیر خارجہ قریشی  نے کہا کہ ہم  اب تک خاموش اس لئے تھے کیونکہ ہم بھارت کی طرح بغیر کسی تحقیقات کے الزام تراشی نہیں کرنا چاہتے تھے‘ لیکن اب ہمارے پاس ٹھوس شواہد  موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گا۔
 یادش بخیر! زیادہ دن نہیں گزرے کہ جب ایرانی پاسداران کے ایک جرنیل نے پاکستان کو دھمکی کی زبان میں للکارا تھا‘ ایرانی پاسداران انقلاب پر خودکش حملہ ہوا تو ایرانی پاسداران کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے اس حملے کی ذمہ داران کی پشت پناہی کا الزام پاکستان کے سیکورٹی اداروں پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ایران جانتا ہے کہ یہ حملہ آور کہاں سے آتے ہیں اگر پاکستان  اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو ایران کو حق حاصل ہے کہ وہ جوابی کارروائی کرے؟ سوال اٹھانا ہر پاکستان کا حق ہے کہ 18 اپریل کو اورماڑہ میں 14سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت اسی دھمکی کا نتیجہ تو نہیں  ہے؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ پر اہم ہے کہ جن بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں ایرانی سرحد کے اندر واقع ہیں کیا تہران اس سے لاعلم ہے؟ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائی ہوئی تو اسلام آباد میں موجودہ مدرسہ بھگوڑے دانش فروشوں سے لے کر این جی او مارکہ خرکاروں تک دہشت گردی کی اس کارروائی کے حوالے سے پاکستان کے سیکورٹی اداروں پر اس طرح سے چڑھ دورے کہ جیسے اس کارروائی میں وہ ملوث ہوں‘ لیکن اسی بلوچستان کے علاقے اوماڑہ میں 14 سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت میں جب ایران کا نام آیا تو ان دانش فروشوں کی زبانیں گنگ ہو کر رہ گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہزارہ برادری کے ساتھ دہشت گردی ہو یا اوماڑہ میں سیکورٹی اہلکاروں کو چن چن کر شہید کیا جائے...مر پاکستانی ہی رہے ہیں‘ نقصان پاکستان کا ہی ہو رہا ہے۔
دہشت گردی کا نشانہ پاکستانی بنتے ہیں‘ لیکن این جی او مارکہ دانش فروش ٹی وی چینلز پر انہیں شیعہ یا سنی پنجابی یا بلوچی‘ سندھی یا مہاجر کے خانوں میں تقسیم کرکے جان بوجھ کر پاک فوج کو ان معاملات میں گھسیٹنے کی کوششیں کرتے ہیں‘ کچھ شک نہیں کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے‘ پاکستان کی حکومتوں‘ سیاست دانوں اور میڈیا نے حق ہمسائیگی سے بھی کئی قدم آگے بڑھ کر ایران سے محبتوں کا ایسا حق ادا کر دیا کہ ان پر ایران نوازی کے الزامات بھی لگے۔
 ابھی اورماڑہ میں ہونے والی حالیہ  دہشت گردی کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ کے ردعمل کو ہی دیکھ لیجئے کہ 14سیکورٹی اہلکاروں کی ظالمانہ شہادت کے باوجود ان کے لہجے میں نہ تو ایران کے خلاف نفرت تھی اور نہ ہی کسی قسم کی منفی جذباتیت...ہاں البتہ دکھ اور شکوہ ضرور رہا تھا۔ ایرانی پاسداران کے جرنل جعفری کی طرح وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شواہد کی موجودگی کے باوجود نہ تو ایران کو دھمکی دی  اور نہ ہی ایران کے اندر گھس کر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر حملہ آور ہونے کا عندیہ دیا بلکہ ایک پرامن اور ذمہ دار ملک کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بڑے محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ایران اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کریگا‘ ایران میں ہونے والے کسی بھی واقعے کے بعد پاکستان نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا‘ ان کے لاپتہ 9گارڈز کو پاکستان نے بازیاب کروایا ہمیں بھی ایران سے ایسے ہی ردعمل کی توقع ہے۔
دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد‘ شدت پسند اور ان کے سپانسرز دونوں مسلم ممالک کے درمیان قریبی تعلقات سے خوفزدہ ہیں...دہشت گرد حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان کے وزیراعظم ایران کے دورے پر آرہے ہیں‘ ایران پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ایران‘ پاکستان کا برادر ملک ہے اور اس کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات بھی ہیں...یہ کہنا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا! یہ کیسے برادرانہ تعلقات ہیں کہ جن برادرانہ تعلقات کے نتائج میں چودہ‘ چودہ لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں۔
22مارچ کے دن کراچی میں نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی پر کیا جانے والا قاتلانہ حملہ اور حملے  ملزموں کی گرفتاری بھی ایران کے برادرانہ تعلقات پر سوالیہ نشان ہیں‘ ہم پاکستانی کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایران کی سرزمین پر کسی ایرانی بھائی کی لاش گرئے یا خون بہے‘ کیا ایرانی حکومت بھی پاکستانی قوم کو یہ یقین دہانی کروانے کے لئے تیار ہے کہ پاکستانی علاقوں میں گھس کر بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کرنے والے دہشت گردوں کو ایران کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؟

 

تازہ ترین خبریں