06:07 am
تبدیلی کے مخالف‘ باہر بھی اندر بھی

تبدیلی کے مخالف‘ باہر بھی اندر بھی

06:07 am

مجھے مکمل یقین ہے کہ سخت ترین مشکلات کے باوجود عمران خان کامیاب وکامران رہیں گے۔ میرے یقین کی وجہ عمران خان کی نیک نیتی اور خلوص ہے۔ پاکستان کے پیچیدہ مسائل کا حل راتوں رات ممکن نہیں ہے لیکن خان
مجھے مکمل یقین ہے کہ سخت ترین مشکلات کے باوجود عمران خان کامیاب وکامران رہیں گے۔ میرے یقین کی وجہ عمران خان کی نیک نیتی اور خلوص ہے۔ پاکستان کے پیچیدہ مسائل کا حل راتوں رات ممکن نہیں ہے لیکن خان صاحب نے مکمل عزم کیساتھ اپنا رختِ سفر باندھا ہے چنانچہ وہ دن دور نہیں جب بتدریج ہر شے درست ہو جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے پیش رو حکمرانوں کے درمیان بنیادی فرق کو ملحوظ رکھنے سے ایک بات سمجھنے میں مدد ملے گی۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف کا طرزِ حکمرانی تھوڑے بہت فرق کیساتھ ایک جیسا تھا۔ دونوں اس فن میں یکتا رہے کہ اپنا وقت کیسا گزارنا ہے۔ آصف علی زرداری بعض محاذوں پر ناکام رہے لیکن انہوں نے قرضے لینے اور نوٹ چھاپنے کی جو روش اپنائی اسے نواز شریف نے اپنے عہد میں جاری رکھا۔ معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر کھڑا کرنے کی دونوں نے کوشش نہ کی۔ مصنوعی طور پر معیشت کو سہارا دیا جاتا رہا جبکہ معیشت جن خرابیوں کی وجہ سے برباد ہوئی ان کو ٹھیک کرنے کی طرف توجہ نہ دی گئی۔
منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاونٹس کا نظام دونوں ادوار میں قائم ودائم رہا۔ ایف بی آر کی اصلاح کی گئی اور نہ اس جانب توجہ دی گئی کہ ٹریڈ خسارے کو کم کرنے کیلئے ایکسپورٹ کو کیسے بڑھانا ہے۔ آج جبکہ بلیک اکانومی پر حکومت کا ہاتھ سخت پڑا ہے تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال بتدریج بہتر ہوتی چلی جائے گی۔ منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاونٹس کا دروازہ جب تک بند نہیںکیا جاتا وطن عزیز معاشی بحرانوںکا سامنا کرتا رہے گا۔نان ڈاکومنٹڈ اکانومی اورکرپشن پاکستان کے بڑے مسائل ہیں۔ لہٰذا ان سے جان چھڑائے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔
پاکستان کا کاروباری طبقہ خاص طور پر ٹریڈرز ٹیکس ادا نہیں کرتے اور دوسری جانب ایف بی آر میں کرپشن ہے پاکستان کی معیشت ٹھیک کیسے ہوگی۔ اب یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایمنسٹی سکیم دیں تاکہ تاجروںکو اور دیگر کاروباری افراد کو ٹیکس نیٹ میں آنے کی سپیس مل سکے۔ پاکستان میں آج تک کوئی ایمنسٹی سکیم کامیاب نہیں ہوئی ہے تو نئی سکیم کیسے کامیاب ہوگی؟ وفاقی کابینہ میں بھی یہ سوال اٹھا اس لئے15اپریل کو ایمنسٹی سکیم کا اعلان نہ ہو سکا۔ وزیراعظم عمران خان نے ماضی میں خود بھی ایمنسٹی اسکیم کی مخالفت کی تھی۔ ان کی مخالفت کی وجہ تھی کہ چوروں اور ڈاکووں کو محفوظ راستہ نہیں ملنا چاہئے۔ اگر پبلک آفس ہولڈرز کو الگ کرتے ہوئے یہ سکیم صرف تاجروں کیلئے ہے جو ٹیکس نیٹ میں آنے کے سپیس چاہتے ہیں تو بہتر یہ ہوگا کہ ایمنسٹی اسکیم سے قبل تاجروں کی تمام تنظیموں کا اعتماد حاصل کیا جائے۔ ہر ضلع کی تاجر تنظیمیں اس بات پر اتفاق کریں کہ ایمنسٹی سکیم کے بعد ایف بی آر کے گرینڈ آپریشن کا وہ ساتھ دیں گی۔ اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنے اور ٹیکس نیٹ میں آنے کا موقع اگر کاروباری افراد کو ملتا ہے اور وہ اس کا فائدہ نہیں اٹھاتے تو بعد ازاں وہ کسی رعایت کے مستحق کیونکر ہو سکتے ہیں؟
ایف بی آر میں ریفارمز لانے میں نجانے کیوں تاخیر ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان بخوبی جانتے ہیں کہ موجودہ ایف بی آر کی وجہ سے آٹھ نو سو ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے لیکن ابھی تک ایف بی آر کو ٹھیک کرنے کا کام تاخیر کا شکار ہے۔ ایف بی آر کی خرابیوں میں سے ایک خرابی آڈیٹرز اور سینئر آڈیٹرز کی پروموشن نہ ہونا ہے۔ ایک عرصے سے یہ لو گ اپنی پروموشن کے منتظر ہیں لیکن اس انتہائی اہم مسئلے کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی ہے جس کا نتیجہ ناقص کارکردگی کی صورت میں نکل رہا ہے۔ ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ کرتے وقت اس ایشو کو بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ ایف بی آر کے لوگ تبدیلی نہیں چاہتے۔ صاف ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ کرپشن میں ملوث ہیں وہ کیوں تبدیلی کے طلبگار ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر عمران خان کو تبدیلی مسلط کرنی پڑے گی۔ ہر شعبے میں وہ لوگ جو برسوں سے جاری مکروہ نظام کے بینی فشری ہیں وہ یقینی طور پر تبدیلی کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے۔
خود تحریک انصاف کی صفوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اس کو سست روی کا شکار بنا رہے ہیں۔ عمران خان نے اب تک بڑی عاجزی دکھائی ہے لیکن لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ ہر نقش کہن کو مٹانے کیلئے فوری طور پر تدابیر کریں بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوتے جائیں گے۔ تبدیلی کے مخالف تحریک انصاف کی حکومت کو ناکام بنانے کیلئے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ابھی ان کا بس نہیں چل رہا مگر وہ عمران خان کو ناکام کرنے کیلئے ہر حربہ آزمائیں گے۔
 وزیراعظم خود بھی تبدیلی کے عمل میں سست روی کا نوٹس لیں خاص طور پر پنجاب کے اندر جہاں معاملات جوں کے توں ہیں۔ عمران خان کے ویژن کے مطابق خیبر پختونخوا میں جن ٹھوس بنیادوں پر تبدیلی کا عمل شروع ہوا تھا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب کو فوکس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

تازہ ترین خبریں