06:07 am
وزیراعلیٰ پنجاب ،شکایات سیل اور شاہد قادر

وزیراعلیٰ پنجاب ،شکایات سیل اور شاہد قادر

06:07 am

بدصورت چہرہ منفی سوچ سے بہتر ہوتا ہے اور خوبصورت لب و رُخسار خوبصورت خیال سے زیادہ حسین نہیں ہو سکتے۔ ادھورے معاشرے میں زیر مطالعہ زیست کی کتابوں کے متن جب ظلم و استبداد کے حرفوں کا لبادہ پہن لیں
بدصورت چہرہ منفی سوچ سے بہتر ہوتا ہے اور خوبصورت لب و رُخسار خوبصورت خیال سے زیادہ حسین نہیں ہو سکتے۔ ادھورے معاشرے میں زیر مطالعہ زیست کی کتابوں کے متن جب ظلم و استبداد کے حرفوں کا لبادہ پہن لیں تو پھر سرورق خون آلود ہو جاتا ہے۔ ایسے میں کتابیں کافر، لفظ حرام اور باتیں مشرک قرار دے دی جاتی ہیں۔ ویران بستیوں کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں عدل کا نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔ کہاوتیں، کہانیاں، روائتیں اور اقدار دم توڑ جاتی ہیں۔ اقتدار کا سورج روشنی کے بجائے اندھیرے طلوع کرتا ہے اور نقرئی صبحوں کو شامیں نگل جاتی ہیں، بدقسمتی سے میں بھی اُس خوشی قسمت معاشرے کا فرد ہوں جہاں حق بات کہنا قابل تعزیر جُرم قرار دیا جاتا ہے۔ بابِ شعور پر جہالت کا قُفل ہے۔ اور زندگی کا ہر ایک دروازہ سانس سانس پر بند ہوتا ہوا دِکھائی دیتا ہے۔ تجسس گناہ عظیم قرار دے دیا گیاہے۔ اور خوشبو لگا کے پھرنا شبِ سیاہ کے دستور کے منافی گردانا جانے لگا ہے۔ ایسے میں جرأتِ اظہار کے لئے قرطاس ابیض کے سینے پر حقیقت رقم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ٹھہرتا ہے۔ جب بھیڑوں کی رکھوالی پر بھیڑیئے متعین کر دیئے جائیں تو پھر جنگلوںکے قانون نافذ العمل ہو جاتے ہیں اور گلستانوں کے اشجارِ رنجیدہ کی شاخوں پر اُلووّں کا بسیرا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے جس معاشرے میں آٹا مہنگا کر کے سستی روٹی بیچنے کے فلسفے کو فروغ دیا جائے اُس معاشرے میں آنکھیں چھین کر چراغ بانٹنے والے لوگ سخی قرار پاتے ہیں۔ پائوں تلے سے زمین چھین کر جب چھت فراہم کرنے کے دلفریب وعدوں کو طشت ازبام کیا جانے لگے تو ایسے معاشرے میں کوئی چارہ دِکھائی نہیں دیتا حتیٰ کہ چارہ گر بھی دِکھائی نہیں دیتا۔
میں اِسی بے بسی کے عالم میں سرگرداں، بے چارہ گروں کی بستی میں لاچاروں کے دُکھ درد سنتا سنتا ایک چارہ گر تک جا پہنچا۔ وہ مسیحا نفس اپنی ذات میں ایک محوِ خرام انجمن ہے۔ ایک انجمن بہبودِ انسانیت …اُس کے والدین نے اُس کی تربیت ہی ایسے انداز میں کی ہے کہ وہ اپنے قلب حزیں میں اِنسانیت کے دُکھوں اور دردوں کا مداوا کرنے کے لئے ایک بحرِ بیکراں کو کوزہ میں بند کر کے لئے پھرتا ہے۔ واقعی نیک اولاد جنت کا پھول قرار پاتی ہے۔ پانچ وقت نمازیں پڑھنا اور دیگر عبادات بجا لانا بلا شبہ اپنی جگہ پر ایک عظیم عمل قرار پاتا ہے۔ مگر اِس سے بھی زیادہ یہ بات قابل ستائش قرار پاتی ہے کہ معاشرے میں اُن لوگوں کی خدمت کی جائے جن کی خدمت کرنے کے لئے ارباب اختیار اپنی عار محسوس کرتے ہیں۔ عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ جو لوگ خلقِ خدا کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں وہ اِس خدمت کی آڑ میں اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کام کرنے والی بڑی بڑی فلاحی تنظیمیں اور این جی اوز اِس دھندے میں مصروف ہیں۔ خدمتِ انسانیت کا بورڈ آویزاں کر کے لوگوں کے سپنوں پر اپنے محل تعمیر کرلیتے ہیں۔ ایسے ہنر مندوں کی عجیب و غریب داستانیں ہیں۔ کوئی شعور کے نام پر بے شعوری کو فروغ دے رہا ہے تو کوئی مذہب کے نام پر خدا کو فروخت کر رہا ہے۔ کوئی خدمت کے نام پر ظلم کو پروان چڑھا رہا ہے تو کوئی محبت کے نام پر نفرت کے الائو جلا رہا ہے۔ کوئی سچ کے نام پر جھوٹ کو طشت ازبام کئے ہوئے ہے تو کوئی خبر کے نام پر پورے معاشرے کو بے خبر رکھے ہوئے ہے۔ کوئی علم بیچ رہا ہے تو کوئی الم کی دکان سجائے بیٹھا ہے۔
 یہ خدمتِ اِنسانیت ایک کاروبار اور دھندے کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، مگر ایک خدمتِ انسانیت وہ ہے جو وہ فرشتہ صفت شخص سرانجام دے رہا ہے۔ وہ حکومت پنجاب کا ایک نیک دِل آفیسر ہے اُس نے کوئی این جی او کوئی فلاحی تنظیم، کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں کر رکھا جو بظاہر خدمتِ اِنسانیت کا نعرہ لگا کر اپنے مفادات کی زنبیل بھرے۔ اُس نے کبھی اپنی ذات کا پرچار بھی نہیں کیا۔ مگر بدقسمتی دیکھئے کہ ہمارے ہُنر مندانِ آئین و سیاست اور خداوندانِ ایوانِ عقائد ایسے لوگوں پر یہ فردِ جرم عائد کر دیتے ہیں کہ وہ متعفن معاشروں میں خوشبو لگا کر کیوں پھر رہے ہیں؟ میں لکھنا نہیں چاہتا تھا مگر اپنے دِل کے ہاتھوں مجبور ہو کر لکھ رہا ہوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب   عثمان بزدار کے دفتر میںایک وزیراعلیٰ شکایات سیل کا شعبہ بھی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے، چند روز قبل تک یہ فرشتہ صفت شخص ڈائریکٹر شکایات سیل کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھا۔ یقین جانئے کہ پنجاب کے بڑے چھوٹے اور دور دراز کے شہروں سے مختلف محکموں اور جاگیرداروں، سرمایہ داروں کے ستائے ہوئے لوگ جب وزیراعلیٰ شکایات سیل میں پہنچتے تھے تو یہ  شخص اُن کے دُکھوں کا درماں بن جاتا تھا۔ سب سے بڑی آبادی والے صوبہ میں سب سے زیادہ درد بھی اِسی صوبہ کے حصہ میں آئے ہیں۔ چارہ گروںکی بستی میں یہ واحد چارہ گر تھا جو حکومت اور رعایا کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر رہا تھا وہ ہر دُکھی دِل کی ڈھارس بن جاتا، ہر مجبور کی مجبوری دور کرنے کے لئے اپنے سارے وسائل بروئے کارلاتا۔ یہاں تک کہ لوگ اُس محنت اور خدمتِ اِنسانیت پر حکومت کو دُعائیں دیتے مگر پھر کیا ہوا؟ وہی سانحہ؟ وہی المیہ؟ وہی جرم؟ اُس سے مسیحائی کا قلم دان چھین لیا گیا۔ سازشی ٹولے نے سازش تیار کی۔ کان بھرنے والوں نے کان بھرے… سحر پھونکنے والوں نے سحر پھونکا؟ فسوں کاری کی گئی، سادہ لوح وزیراعلیٰ کے دِل میں وسوسے ڈالے گئے۔ اور اُس مسیحا نفس کو اِس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔خیر! آج وہ اپنی سیٹ پر موجود نہیں ہے۔ مگر اُس کا مشن اُسی طرح جاری و ساری ہے۔ وہ آج بھی جب بیدار ہوتا ہے تو وہ اِس وطن کے مجبوروں اور مظلوموں کی مدد کرتے کرتے اپنے اوپر شام کر لیتا ہے۔ یہ اُس کی زندگی کا مشن ہے۔ ایک مشن جس کے سرانجام دینے کے لئے اُسے کسی عہدے کی ضرورت نہیں۔ کسی فلاحی تنظیم کے رجسٹرڈ کروانے کی طلب نہیں۔ اُسے اِن مجبور اِنسانوں سے کوئی لالچ نہیں۔ اُسے کوئی فائدہ درکار نہیں۔ اُسے کوئی محل تعمیر نہیں کرنا۔ کوئی کوٹھی کوئی بنگلہ نہیں بنانا بینک بیلنس میں اضافہ نہیں کرنا۔ کوئی ایوارڈ نہیں چاہئے۔ اُسے کسی تمغے کی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ تو اپنے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نثار ہے۔ وہ تو خدمت اِنسانیت کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر سرانجام دے رہا ہے۔ مگر اے میرے سادہ لوح وزیراعلیٰ پنجاب مجھے آپ سے ایک شکوہ ہے۔ میرا دِل رنجیدہ ہے۔ اورمیں تپیدہ جذبات کے ساتھ آپ سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوںکہ آپ ازراہ کرم اپنی بصیرت، شرافت اور دیانت سے کام لیتے ہوئے، اِس مسیحا نفس کی خدمات سے فائدہ اُٹھائیں۔اسے وزیراعلیٰ شکایات سیل کے انچارج کے عہدے پر دوبارہ بحال کیجئے۔ اِس سے کام لیجئے نہ جانے آپ کے اور آپ کی حکومت کے حق میں کتنی دُعائیں اِس شخص کی تعیناتی سے وابستہ ہیں۔ یہ غم زدہ لوگوںکا غمخوار جب دور دراز سے آئے ہوئے مجبوروں اور لاچاروںکے کام حکومت وقت کے ایما پر کرے گا تو ہر دُکھی دِل کشکول بن کر آپ کے لئے بارگاہِ ایزدی میں سراپا دُعا بن جائے گا۔

 

تازہ ترین خبریں