09:17 am
ہمارے بھی ہیں مہرباں

ہمارے بھی ہیں مہرباں

09:17 am

مملکت خداداد پاکستان آج کل سیاسی بحران کاشکار ہے موجودہ محکوم حکمران کوخود پتہ نہیں ہوتاکہ اس کااکلا قدم کیاہوگا مثلاً حکومت کے اوپننگ بیٹسمین اسد عمر کامعاملہ جن کے بارے میں بقول خود اسد عمر رات گیارہ بجے تک عمران خان نے ان سے ملاقات میں کوئی ایسی بات نہیں کی تھی پھراچانک اسی رات کوہی اسد عمرسے استعفیٰ مانگ لیاگیا یا انھوں نے خود دیا دراصل جواور جیسا نظرآرہاہے وہ ویسا ہے نہیں نادیدہ حکمران کہیں دور بیٹھے کنٹرول کررہے ہیں۔ ان کی نظر ایک ایک فرد پر ان کی ایک ایک حرکت پر داخلی وخارجی معاملات پر ہے بظاہر حکمران وقت بیچارہ جوش خطابت میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ تو صرف ایک شاہی ہرکارہ ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اسے باربار یوٹرن کاطعنہ سننا پڑ رہاہے کیونکہ انھیں خود یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کااگلا قدم کیا ہوناچاہے اگر وہ اپنی مرضی سے کوئی قدم اٹھا لیتے ہیں تو پھرمجبوراً  انھیں وہ قدم واپس لیناپڑتاہے اس لیے ان کے مخالفین انہیں مسٹر یو ٹرن کہنے سے باز نہیں آتے۔


وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں جو طوفانی تبدیلی کی ہے اس سے بھی اندازہ لگانے والوں کوپتہ لگ گیاکہ تبدیلی کہاںسے آئی ہے کیونکہ نئے آنے والے تقریباً سب کے سب غیر منتخب اورمخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔  ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ بدنام جوہونگے توکیانام نہ ہوگا۔ کپتان کواگر پہلے ہی اچھی ٹیم مل جاتی تو آج جودن دیکھنا پڑرہاہے وہ نہ دیکھناپڑتا کپتان نے زندگی کابڑاحصہ کرکٹ کھیلتے گذارا ہے  وہ اس کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ مملکت کوبھی اس ہی میعار اور طریقے سے چلاناچاہ رہے ہیں ۔
کرکٹ بورڑ کاسربراہ ٹیم سلیکٹر کے ساتھ مل کے ٹیم سلیکٹ کرتا ہے کپتان سے بھی مشورہ کیاجاتا ہے لیکن حتمی فیصلہ سلیکٹر اور بورڈ کے سربراہ کاہی ہوتاہے ایساہی عمل شاید نادیدہ یا خلائی سلیکٹڈ بورڈ نے سیاسی ٹیم کپتان کے حوالے کی تھی۔  یاہے اور کپتان اپنی ٹیم کو کھلانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہورہے  ہیں  یاشاید اس لئے کہ کپتان کو کھیل کے کھیلنے یاکھلانے کا پورا اختیار نہیں ہے کیونکہ کھیل کی ڈورریں کہیں اور سے ہلائی جاتی ہیں۔ کپتان یاتو آگے نکل جاتاہے یاپھر پیچھے رہ جاتاہے۔
 کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ کپتان اقتدار ملنے پر اتنے مست ہیں کہ انہیں بدنامی کاکچھ ہوش نہیں رہا اب وہ تو صرف آلہ کار کے طور پر حکومتی کام سرانجام دے رہے ہیں۔ تمام خرابیوں برائیوں کے ان کی وزیراعظم بننے کی خواہش یاخواب کوتعبیر تومل گئی ہے‘  اب چاہے وہ حکمران رہتے ہیں یا نہیں رہتے مگرزندگی بھر کیلئے ان کے نام کے ساتھ وزیراعظم کا  سابقہ لگارہے گا چاہے وہ موجودہ ہویاسابقہ  ہووہ وزیراعظم تورہیں گے جیسے آج بھی نوزشریف کووزیراعظم لکھااور کہا جاتا ہے وہ سابقہ ہویاموجودہ اسے کیافرق پڑے گا۔
کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سیاست کی موجودہ بساط بچھانے والوں نے بہت سوچ سمجھ کر بساط بچھائی ہے صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ موجودہ سیاسی شطرنج کے کھلاڑی پہلے سے پاکستان میں موجود تمام سیاسی کاریگرکھلاڑیوں کونیب اور عدلیہ کے توسط سے ایک ایک کرکے آئوٹ کررہے ہیں پھر جب میدان صاف ہوجاے گا تو اورموجودہ حکومت جواس وقت تک اپنی ساکھ تمام کرچکی ہوگی۔ عوام بے چارے مہنگائی،بیروگاری ،غربت سے تنگ آچکے ہونگے پھر قوم کے وسیع ترمفاد میں ملک کوبیرونی اندرونی تباہی سے بچانے کیلے حقیقی حکمران مسند نشین ہونے کومجبوراً تشریف لے آنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ یوں طویل سیاسی ڈرامے کاڈراپ سین ہوجائے گا‘ نہ رہے گی سیاست نہ  رہیں گے سیاست دان۔ عوام مٹھائیاں بانٹتے ہوئے آنے والوں کاہمیشہ کی طرح استقبال کرے گے اورراوی ہرطر ف چین ہی چین لکھے گا۔ ریاست سیاست اوربوٹ ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے۔
 نہ کوئی سیاست رہے گی نہ کوئی سیاست نواز
حیرت کی بات ہے کہ تبدیلی کی بات کرنے والوں میں فی الحال تو اپنے اندر ہی تبدیلی آئی ہے۔ بولتوں کی زبانوں پر تالے پڑگئے ہیں۔ سیاست میں ہرطرف خوف کی فضاطاری ہے نوکرشاہی ہو یاسیاست دان وزیراعلیٰ ہو کہ وزیر سب پریشانی کاشکار ہیں۔ جانے کل کیا ہوخوف کے عالم میں کسی کاکسی کام کرنے کی  ہمت نہیں ہورہی۔
ہلچل مچی ہوئی ہے۔ جانے کب کیاہوجائے؟ حکمران تو حکمران حزب اختلاف بھی سانس روکے بیٹھی ہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے جیسے بقراعید کے موقع پر بیچارے بکرے کوہرطرف چھریاں ہی چھریاں نظر آرہی ہوتی ہیں ایسے ہر سیاسی کھلاڑی کو اپنے اردگرد نیب ہی نیب نظر آرہی ہے۔ سیاستدان اپنی جگہ نوکرشاہی اپنی جگہ اور حکمران اپنی جگہ خوف  کاشکار ہیں۔ آنے والا کل اپنے ساتھ کیالائے گا‘ کسی کو کچھ پتہ نہیں۔اللہ ملک وقوم کی حفاظت فرمائے۔



 

تازہ ترین خبریں