09:19 am
فتنۂ دجال کی حقیقت

فتنۂ دجال کی حقیقت

09:19 am

سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف جڑواں سورتیں ہیں۔ دونوں قرآن حکیم کے بالکل وسط میں ہیں اورحکمت قرآن کا عظیم خزانہ ہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرلے وہ دجالی فتنے کے اثر سے محفوظ رہے گا۔بعض روایات میں آخری دس آیات کا تذکرہ ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دجالی فتنہ ہے کیا؟احادیث میں دجالی فتنے کے خدوخال ملتے ہیں جن کے ذریعے ہم دجالی فتنے کی حقیقت اور اس کا سورہ کہف کے مضامین سے تعلق سمجھ سکتے ہیں۔دراصل دجال ایک شخصیت کا نام بھی ہے جو قیامت سے قبل ظاہر ہوگا لیکن ایک دجالی فتنہ ہے جس کی کچھ علامات ہیں جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔مثلاً دجال کی ایک خصوصیت تیز رفتار ی بھی ہے کہ وہ پورے کرئہ ارضی کا چکر چالیس دنوں میں مکمل کرلے گا۔اس کی سواری کا قدم اتنا بڑا ہوگا جتنا فاصلہ مدینہ اور شام کا ہے۔موجودہ دور میں ہوائی جہاز نے جس طرح فاصلوں کو معدوم کردیا ہے اس سے اس کی تیزرفتار ی کا معاملہ بآسانی سمجھ میں آتا ہے۔اس کے علاوہ دجال کے بارے میں آتا ہے کہ اس کی آواز کے لوگ بیک وقت سن سکیں گے۔

ریڈیو ، ٹی وی کی ایجاد سے آج یہ بات ممکن دکھائی دیتی ہے ۔جیسے واشنگٹن میں ہونے والی صدر کی تقریر کو پوری دنیا میں لوگ قریہ قریہ سنتے ہیں۔اسی طرح مسیح الدجال کی بہت سے امراض کے علاج قدرت بھی حاصل ہوگی ۔آج کی دنیا میں ہم اپنے الفاظ میں کہیں تو گویا میڈیکل کے شعبے میں اسے خوب کمال حاصل ہوگایہاں تک کہ وہ ایک شخص کو چیرے گا اور پھر اس کے دونوں حصوں کو جوڑ دے گا۔آج کے دور میں کٹے ہوئے اعضاء کو سرجری کے ذریعے جوڑا جارہا ہے۔پھر یہ کہ مظاہر فطرت پر اسے زبردست قدرت حاصل ہوگی۔ وہ آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسائے گا۔زمین کو حکم دے گاتو وہ نباتات اگائے گی۔ایک ہے اللہ کا بارشوں اور زراعت کا فطری نظام۔لیکن آج کے دور میں سائنسی ترقی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بادلوں پر اسپرے کرکے بارش برسائی جاسکتی ہے جبکہ مصنوعی ماحول پیدا کرکے صحر ا میں بے موسمی فصلیں اور سبزہ اگایا جارہا ہے۔اسی طریقے سے دجال معدنی ذخائر کو بھی دریافت کرے گا۔آج بایولوجی کے علم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ایک ایک انچ کے بارے میں ماہرین ارضیات بتاسکتے ہیں کہ یہا ں کون کون سی معدنیات اور ذخائر موجود ہیں۔احادیث کے مطابق ان پر اسے کنٹرول حاصل ہوگا۔بہرحال یہ تو وہ معاملات ہیں جنہیں دور صحابہ ؓ  میںدجال کے معجزات یا شعبدہ بازیاں سمجھا جاتا تھا لیکن آج کی سائنسی ترقی نے ان معاملات کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔سائنسی ترقی کے بارے میں یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ کہ قوانین فطرت کو انسان نے ایجاد نہیں کیا یعنی اسے مظاہر فطرت پر کنٹرول حاصل نہیں ہوگیا ہے بلکہ انہیں دریافت کیا ہے۔بس سائنسی ترقی یہیں تک ہے۔
اس کے علاوہ احادیث میں ہے کہ دجال کی پیشانی پر ’’ک ف ر‘‘ یعنی کفر لکھا ہوگا۔ہر صاحب ایمان شخص اس کو پڑھ لے گا خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔اس سے مراد یہ ہے کہ جب یہ دور آئے گا اور ان صفات پر مشمل جو تہذیب ہوگی اس پر کفر کی چھاپ اتنی واضح ہوگی کہ ہر صاحب ایمان جان لے گا کہ یہ ملحدانہ تہذیب ہے اوراللہ سے نفرت اس کی جڑوں میں رچی بسی ہے۔ان شعبدہ بازیوں کے ساتھ یہ شے ہوگی جو اسے فتنہ بنائے گی۔اب ان چیزوں کا موازنہ موجود ہ تہذیب سے کرلیجئے ۔معلوم ہوگا کہ یہ تہذیب اللہ کی حاکمیت کے مقابلے میں طاغوت بن کر کھڑی ہے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ ہم نہیں جانتے اللہ کا کیا حکم ہے۔نظام ہمارا چلے گا۔نیو ورلڈ آرڈر ہمارا ہوگا۔ ہم جس کو چاہیں حرام کریں ، جسے چاہیں حلال کریں۔ہمیں کسی آسمانی رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے۔یہ چیز ہر مومن پہچانتا ہے چاہے وہ لکھا پڑھا ہو یا ان پڑھ کہ اس تہذیب پر کفر کی چھاپ ہے۔
دجال کے بارے میں ایک اور حدیث میں ہے ’’جب دجال نکلے گاتو اس کے ساتھ ٹھنڈا پانی ہوگا اور آگ بھی۔جس چیزکو لوگ نگاہوں سے دیکھ کر سمجھیں کہ ٹھنڈا پانی ہے وہ درحقیقت آگ ہوگی۔ جس چیز کو لوگ آگ سمجھیں گے ، اصل میں وہ ٹھنڈا پانی ہوگا‘‘۔یہ ہے دجل جس کا مطلب ہے فریب دھوکہ۔ دجالی تہذیب کیا ہے؟ دھوکہ اور فریب ہے۔ اس تہذیب کا فریب یہ ہے کہ انسان کی نگاہیںظواہر میں الجھ کر رہ جائیں گی۔ان کے پیچھے وہ اصل حقیقت تک نہیں پہنچ پائے گا یعنی ظاہریں چیزیں اس کی نگاہوں کو اس طرح خیرہ کردیں گی کہ اسباب سے آگے بڑھ کر مسبب الاسباب تک نظر پہنچنا دشوار بنا دیاجائے گا۔اس دور جو چیز ظاہراً رحمت نظر آئے گی ، وہ اصلاً عذاب ہوگا اور بظاہر جو عذاب ہوگا اس میں حقیقی آسانی ہوگی۔اسی معنی میں یہ دجل ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ’’دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہی تو ہے‘‘۔
یہ ظاہری اسباب کا سلسلہ انسان کو دھوکے میں مبتلا کردیتا ہے۔مثلاً آج کا انسان سمجھتا ہے کہ پیسوں سے میر ے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔پیسوں سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے ۔علامہ اقبال نے تو کہا تھا۔     
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
لیکن آج کے سپاہی کہہ رہے ہیں کہ یہ اقبال کی رومانیت ہوگی جو اس نے یہ کہہ دیا ۔اللہ اور رسول ﷺ کا دین جو کچھ کہتا رہے ،ہم تو زمینی حقائق دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔دنیا کے اسباب آڑ بن جاتے ہیں اور مسبب الاسباب نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔یہ دھوکہ ہے جس میں انسان مبتلا ہوجاتا ہے۔تما م انبیاء ورسل اور کتابیں یہی بتاتی ہیں کہ دنیا عارضی ہے۔یہ دارالامتحان ہے۔یہ اصل زندگی نہیں ہے بلکہ اصل زندگی موت کے بعد ہے۔کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ وہاں ہونا ہے۔یہاں جو سختی آرہی ہے یا فراوانی ہے یہ سب آزمائش کی صورتیں ہیں۔یہ ساری باتیں ہم سنتے ہیں۔ لیکن عملاً اسباب و وسائل کے چکر میں پھنس کر دنیا کے پجاری بن جاتے ہیں۔یہ دنیا کا دجل یعنی دھوکہ ہے جو دجالی فتنے کے ظہور کے وقت اپنے کلائمکس پر ہوگا۔
دجالی فتنے کے جو بھی خد و خال ہیں یعنی جہاں تک ان شعبدہ بازیوں کا تعلق ہے ، وہ سب سائنسی ترقی کا کمال ہے۔یہ تہذیب تو دین دشمن، خدا دشمن تہذیب ہے۔لیکن سائنسی ترقی اور کمالات فی نفسہٖ کفر نہیں ہیں۔قرآن مجید تو خود دعوت دیتا ہے کہ کائنات پر غور وفکر کرو۔دنیا آج سائنسی علوم میں جہاں تک پہنچ چکی ہے ، اس سفر کے ابتدا کرنے والے درحقیقت مسلمان ہیں۔اس وقت کوئی مسلمان یہ نہیں سمجھتا تھا کہ سائنس، قرآن اور دین میں کوئی فرق و تفاوت ہوسکتاہے۔چونکہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور یہ کائنات اللہ کا فعل ہے، لہٰذا ان دونوں میں تضاد ممکن نہیں۔
آج کے انسان کی مذہب سے دوری کا سبب ابنیت مسیح کے بے سروپا عقیدے پر مشتمل پاپائیت کا وہ نظام ہے جسے مذہب کے نام پر یورپ میں مسلط کیا گیا۔لیکن اہل یورپ نے جب اسپین کی یونیوسٹیوں  سے علم حاصل کیا تو انہوں نے نام نہاد پاپائیت کے خلاف بغاوت کردی‘تاہم اس کے بعد وہاں جو تہذیب پروان چڑھی اس کے رگ و ریشے میں مذہب سے دشمنی اور نفرت رچ بس گئی۔گویا کہ وہ یک چشمی تہذیب ہے جس نے اللہ اور مذہب کی طرف سے ایک آنکھ بند کررکھی ہے۔آسمانی رہنمائی سے اعراض ہی کا نتیجہ ہے کہ آج انسانی سوچ زمینی حقائق اور دنیا کے اسباب سے الجھ کر رہ گئی ہے اور مسبب الاسباب اس کی نظر سے اوجھل ہوگیا ہے۔یہی دجالیت ہے۔چنانچہ آج ہمارا یہ امتحان ہے کہ کون مادی وسائل پر بھروسہ کرتا ہے اور کس کا توکل اللہ کی ذات پر ہے۔احادیث نبوی کی رو سے قیامت سے قبل حق وباطل کا ایک بہت بڑا معرکہ ہوگاجس کے آغاز میں اگرچہ اہل حق کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا لیکن بالآخر فتح ان اہل ایمان ہی کو حاصل ہوگاجو اللہ پر توکل کرتے ہیں اور انہیں اس کے فاعل حقیقی ہونے کا یقین ہے۔




 

تازہ ترین خبریں