09:20 am
 دنیا کو بھارت کا کھلا چیلنج

دنیا کو بھارت کا کھلا چیلنج

09:20 am

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کو دنیا سے ملانے والی سرینگر جموں شاہراہ کی ہفتہ میں دودن بندش کو کشمیریوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس شاہراہ پر ایک کشمیری نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی مگر بھارتی اہلکاروں نے ایمبولنس کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہ دی۔ سرینگر سے ڈوڈہ تک فورسز نے کم از کم 50مقامات پر ایمبولنس کو روک دیا۔ جس کی وجہ سے سرینگر کے انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ ہسپتال سے ایمبولنس پر محو سفر کینسر کے مریض عبدالقیوم بانڈے نے بیٹے کے بازئو ں پر تڑپتے ہوئے جان دی مگر سی آر پی ایف اہلکاروں نے آکسیجن پر زندہ اس کشمیری پر کوئی ترس نہ کھایا۔بانہال کے آگے بٹوت کے مقام پر اس کی روح پرواز کر گئی۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے بھی بھارتی حکومت سے ہائی وے کو ہفتہ میں دو دن عوام کے لئے بند رکھنے کا جواب طلب کیا ہے۔  مگر یہ جواب طلبی بھی دیگر عدالتی فیصلوں اور ہدایات کی طرح نام نہاد اور خانہ پری کے برابر ہو گی۔


بھارتی حکومت کی جانب سے ہفتے میں دو دن کیلئے شاہراہ بند کرنے کے منفی اور نقصان دہ نتائج تواتر کے ساتھ سامنے آرہے ہیں، جس سے یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ اس بھارتی خاصبانہ  فیصلے سے انتظامی اور سماجی ڈھانچے پر نمایاں طور پر منفی اثرات ثبت ہو رہے ہیں۔ شاہراہ پر کینسر کے مریض کو کئی گھنٹوں تک روکے رکھنے کے  بعد اس کی 1موت واقع ہوگئی، اس پر سماجی حلقوں سے لیکر سیاسی جماعتوں تک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ۔ ابھی اس برہمی کا سلسلہ جاری تھا کہ جنوبی کشمیر میں ڈورو شاہ آباد کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کو بھارتی فورسز کی طرف سے اس شاہراہ پر ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران روکنے اور مزاحمت پر  مارپیٹ کرنے کے واقعہ نے سبھی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے مطالبے کے ردعمل میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے کیس درج کرکے تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔لیکن اس  معاملے کو سنجیدہ نوعیت کا تصور نہیں کیا جا رہا ہے۔  حقائق کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ ملوثین کے خلاف قانونی کاوررائی کرنے میں کوئی پس پیش کی  جا رہی ہے۔ زیادتی کے کسی بھی معاملے پر آنکھیں موند لینے کا نتیجہ یہی ظاہرکرتا ہے کہ آئندہ زیادہ سنگین معاملات پیش آسکتے ہیں۔
ہفتہ میں دو ایام  اتوار اور بدھ کو شاہراہ پر قدغن کی وجہ سے عوام الناس پہلے ہی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جن کا ازالہ کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے بارے میں پلوامہ فدائین حملے اور بانہال میں سی آر پی ایف کانوائے کے قریب پُراسرا دھماکے کو بطور دلیل پیش کیا جارہا ہے، تاکہ بھارتی  فورسز کو آمد ورفت کے محفوظ مواقع میسر آسکیں۔مقبوضہ کشمیر کی  سیاسی قیادت خاص طور پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی حکومت سے یہ سوال کیا کہ، کیا اتوار اور بدھ کے علاوہ ہفتے کے باقی پانچ دنوں میںحفاظتی انتظامات کی ضرورت نہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس نے یقینی طور پر  بھارتی حکومت کو لاجواب کردیا ہو گا۔ اگرچہ سیاسی و سماجی حلقوں کے مجموعی ردعمل کے نتیجے میں بھارتی حکومت نے ضرورت مند عام کشمیریوںکے عبور و مرور کے لئے مجسٹریٹوں اور پولیس افسران کی تعیناتی عمل میں لائی اور یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ میڈیکل ایمرجنسیوں اور دیگر کئی ضروری معاملات پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے۔
کینسر کے مریض کی ایمبولنس کو پچاس مقامات پر نہ صرف روکا گیا بلکہ اجازات نامہ دکھانے کے باوجود فورسز نے ایمبولنس کو گھنٹوں روکے رکھا ۔ جس کی وجہ سے مریض کی جان چلی گئی۔ یہ قتل بھارتی حکومت نے شعوری طور پر کیا ہے۔ ایسے لاتعداد سانحات ایسے ہوں گے جو منظر عام پر نہیں آ رہے ہیں۔ جابرانہ فیصلے سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو عبورو مرور کی مشکلات درپیش ہیں۔ خاص کر ملازم طبقہ، جنہیں وقت کی پابندی کیساتھ نوکریوں پر حاضر ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تجارت پیشہ لوگوں کو زبردست مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس پابندی سے روزانہ کروڑوں روپے نقصان ہو رہاہے، جو پہلے ہی مقبوضہ وادی کی بگڑی ہوئی معیشت کے لئے مزید بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ دوسری انتہائی اہم بات یہ ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کی حالت انتہائی خراب ہے اور موسم کی معمولی خرابی کی وجہ سے کئی کئی دونوں تک شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت بند ہونا ایک معمول بن گیا ہے، جو پہلے ہی معیشت کی تباہی کا وجہ بنا ہوا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے رواں برس وادی سے فروٹ باہر بھیجنے میں رکاوٹیں بھی اس طبقہ سے وابستہ تاجروں اور باغبانی کے شعبے سے وابستہ لوگوں کے لئے نقصان کا باعث بن چکی ہیں۔ ایسے حالات میں آمدرفت کے متبادل ذرائع کو موثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت تھی اور اس کے لئے مطالبات بھی کئے جارہے تھے مگر اس کے  برعکس میسر ذرائع کو بھی محدود کر دیاگیا ہے۔ بھارت کا یہ  ایک ایسا طرز عمل ہے جس پرعوام کے شدید اعتراضات کو کسی بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نظریاتی صف بندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی کم و بیش سبھی سیاسی جماعتوں، جن میں ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں، جو دہلی میں برسراقتدار بی جے پی اتحاد کی حامی ہیں، نے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ اور غیر عوامی قرار دیکر اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انتخابی بخار میں اس فیصلے کے خلاف ردعمل نے ایک سیاسی نعرے کی حیثیت اختیار کی ۔ جو مسئلہ سبھی حلقوں کی جانب سے اُبھارا جائے، اسے حل نہیں کیا جا رہا ہے کیوں کہ بھارت کشمیریوں کے لئے مسائل پیدا کرنے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
مسائل حل کرنے سے کنی کترانا انصاف کے تقاضوں سے کھلا انحراف ہے اور کسی بھی جمہوری نظام میں اسکی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی اجازت ہوسکتی ہے۔مگر بھارت میں جمہوریت کشمیریوں کے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے جنگل راج ہے اور جمہوریت کے بجائے جارحیت سے کام لیا جا رہا ہے۔ایسے میں امن پسند دنیا اور انسانی حقوق کے عالمی اداروںکو خاموشی توڑ کر مظلوم کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لئے سامنے آنا چاہیئے۔ کیوں کہ بھارت کشمیریوں کے تمام بنیاد حقوق کو اعلانیہ طور پر دنیا کو چیلنج کرتے ہوئے پامال کر رہا ہے۔




 

تازہ ترین خبریں