09:22 am
تخت کراچی کے بادشاہ کی توجہ کیلئے!

تخت کراچی کے بادشاہ کی توجہ کیلئے!

09:22 am

تخت کراچی کے بادشاہ بلاول زرادری کی ٹرین مارچ کے دوران مختلف اسٹیشنوں پر کی جانے والی تقریریں سن کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے بلاول کراچی اور سندھ کے عوام کی قسمت کو تو سنوار چکے ہیں۔ کراچی کی ترقی تو آسمانوں کو چھو رہی ہے...ہاں البتہ کہیں اگر گڑ بڑہے  تو اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔


ہمیشہ کی طرح کراچی آنے کے بعد ایک بار پھراندازہ ہوا کہ یہاں تو کچھ بھی نہیں بدلا‘ کراچی کے اکثر علاقے آج بھی کچرا کنڈی کے مناظر پیش کر رہے ہیں‘ سخت گرمی میں بجلی آج بھی کئی کئی گھنٹے غائب رہتی ہے‘ جن علاقوں میں پانی نہیں تھا کراچی کے وہ علاقے آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں... بلاول زرداری اپنی  پھٹے توڑ قسم کی تقریروں میں سندھ کے ہسپتالوں میں ہونے والی ترقی اور غریب مریضوں کے لئے علاج کی بہترین سہولتوں کا ذکر کرتے ہیں توسندھ سے باہر رہنے والے لوگ یہ دعا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ’’الٰہی‘‘ اول تو بیمار ہی نہ کرنا‘ لیکن اگر بیمار بھی کرنا ہو تو سندھ دھرتی پرکرنا‘ تاکہ بلاول زرداری نے ہسپتالوں میں جو صحت انقلاب پیدا کر رکھا ہے اس سے ہم بھی مستفید ہو سکیں۔
کراچی صرف سندھ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لئے معاشی حب کی حیثیت رکھتا ہے‘ میں کراچی کے سارے ہسپتالوں کی تو نہیں البتہ دو ہسپتالوں کی بات ضرور کرونگا تاکہ آپ اندازہ کر سکیں کہ یہاں آنے والا صحت انقلاب کس قسم کا ہے‘9ماہ کی نشوہ نامی بچی کا مشہور زمانہ کیس کہ جسے ہسپتال کے اندر غلط انجکشن لگا موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا...بچی کے والدین عزیز واقارب اور علاقے کے عوام تو ’’دارالصحت ہسپتال‘‘ میں ہونے والی اس خوفناک ڈاکٹر گردی کی وجہ سے ذہنی اذیت سے دوچار ہیں‘ لیکن ’’نشوہ‘‘ کو غلط انجکشن لگانے کا مقدمہ درج ہونے‘ ہسپتال پر پابندی لگنے کے باوجود دارالصحت ہسپتال آج بھی چل رہا ہے‘ میں گزشتہ روز گلستان جوہر گیا تو وہاں جگہ جگہ ہسپتال کے خلاف بینر لگے ہوئے تھے عوام کی طرف سے ان بینرز پر تحریر تھا کہ ’’معصوم بچی نشوہ کو انصاف دلائو‘‘ ’’دارالصحت نہیں دارالموت ہسپتال‘‘ کراچی کورنگی نمبر5 میں واقع سندھ گورنمنٹ ہسپتال میں 18اپریل کو ایک 25سالہ خاتون دانت کے درد کی دوائی لینے آئی ...اور پھر تین گھنٹے بعد ہی اس 25سالہ حوا زادی کی لاش اس کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی۔ خبروں کے مطابق اس  حوا زادی کو پڑھے لکھوں نے  زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زہریلا انجکشن لگا کر مار ڈالا‘ تین ملزمان گرفتار کرلئے گئے ہیں جبکہ ایک ڈاکٹر مفرور ہے‘ پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ اس خاتون کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ریپ کرکے مارا جارہا ہے جو معاشرے کے لئے انتہائی غلط بات ہے۔ مسیحا اب قاتل بن چکے ہیں۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بلاول زرداری اگر ’’کالعدم‘کالعدم‘‘ کی تسبیحات کرنے سے فارغ ہو چکے ہوں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ دعوئوں‘ وعدوں اور بڑھکوں کے سمندر سے باہر نکل کر کراچی اور سندھ کے ہسپتالوں میں غریب عوام کے ساتھ ’’ڈاکٹر گردی‘‘ کے واقعات کی روک تھام کرنے کی کوشش کریں۔
بلاول زرداری کے پاس سندھ کی حکمرانی ہے‘ ان سے  یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ پنجاب میں ترقی کیوں نہیں ہوئی؟ یا خیبرپختونخوا  اور بلوچستان کے حالات انہوں نے  کیوں نہ سدھارے‘ لیکن کراچی سمیت پورے سندھ میں بیڈ گورننس کی ذمہ داری براہ راست ان پر عائد ہوتی ہے اور ان سے اس حوالے سے سوال کرنا بھی عوام کا حق ہے۔
ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے پاس عوام علاج کے لئے جاتے ہیں‘ لیکن وہاں اگر ڈاکٹر اور ہسپتالوں کا دیگر عملہ ہی بدمعاش اور لٹیرا گردی پر تل جائے تو یہ مریض کہاں جائیں؟
جس دارالصحت ہسپتال میں 9ماہ کی نشوہ کو غلط انجکشن لگایا گیا اس ہسپتال کو فوری طور پر سیل کر دیا جانا چاہیے تھا‘ جس سرکاری ہسپتال میں بھی مریض عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جائے...ایسے مکروہ عمل کا ارتکاب کرنے والے بدمعاش درندوں کو نمونہ عبرت بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟
نجانے درندے اور ہوس کے پجاری ’’ڈاکٹر‘‘ کیسے بن گئے؟ ان بدمعاشوں کو اگر نمونہ عبرت نہ بنایا گیا تو معاشرہ ایسے بدمعاشوں کو سزا دینے کے لئے  قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جائے گا‘ میں یہ نہیں کہتا کہ ہسپتالوں میں سب ڈاکٹر ہی برے ہیں‘ ایسا نہیں ہے‘ یقینا اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔
ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے میں مریضوں سے ہمدردی رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں‘ لیکن درندہ نما لوگوں کی وجہ سے ڈاکٹری پیشہ بھی انتہائی بدنام ہوچکا ہے‘ بلاول آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہیں‘ انہیں چاہیے تھا کہ وہ سیاست میں آنے کے بعد سب سے پہلے شہر کراچی کو سنوارنے کی کوشش کرتے‘ پھر اندرون سندھ کے شہروں کی طرف بڑھتے‘ مگر افسوس کہ کراچی ہو یا سندھ کے دیگر شہر ان کی زبوں حالی دیکھی نہیں جاتی‘ کراچی اور سندھ میں میٹرک کے بعد انٹرمیڈیٹ کے امتحانات شروع ہیں‘ امتحانی سینٹرز میں نقل مافیا کی حکمرانی دیکھ کر لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ امتحانی سینٹرز قائم کرنے کا تو محض تکلف ہی کیا گیا۔ وگرنہ سٹوڈنٹس کو اجازت دے دینی چاہیے کہ وہ پرچے گھروں سے ہی حل کرکے جمع کروا دیا کریں‘ مطلب یہ کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔


 

تازہ ترین خبریں