09:22 am
سری لنکا  دھماکے، بھارت سے طویل محاذآرائی کی چشم کشا داستان!

سری لنکا دھماکے، بھارت سے طویل محاذآرائی کی چشم کشا داستان!

09:22 am

٭سری لنکا، چار شہروں میں آٹھ  دھماکے، 290 ہلاک،500 (پانچ پاکستانی) زخمی Oوزیراعظم عمران خا ن ایران پہنچ گئے۔ ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، معاہدے، آج واپسیO جعلی اکائونٹس زرداری خاندان ، نوڈیرو ہائوس کا نگران گرفتار، چار ملزم وعدہ معاف گواہ بن گئے O انجمن تحفظ حقوق سابق وزرائے اعلیٰ، کی تشکیل O عمران کے وزیر ناپختہ ذہن ہیں، میں ٹھیک کروں گا، وزیراعظم ہائوس جایا کروں گا: شیخ رشیدO زرداری، نوازشریف کو سزا دلوا کے چھوڑوں گا:عمران خان O مولا بخش چانڈیو زرداری کا درباری اور سیاسی یتیم ہے: فردوس عاشق اعوان O اشرف غنی کو مزید 5 ماہ کی صدارت مل گئی O وفاقی محکموں کے بارے محتسب اعلیٰ سے شکائت فون نمبر 1055۔

٭سری لنکا کولمبو سمیت چار شہروں میں ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور دو فائیو سٹار ہوٹلوں میں آٹھ دھماکوں سے آخری خبروں تک 290 افراد ہلاک (6 بھارتی) اورپانچ پاکستانیوں سمیت 500 سے زیادہ زخمی! اس انتہائی الم ناک سانحہ کی تفصیل خبروں کے صفحات میں موجود ہے۔ سری لنکا کے حکام نے 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقات شروع ہیں میرا ایک اہم بات کی طرف ذہن جا رہا ہے، یہ کہ سری لنکا نے لاشوں کی شناخت کے لئے بھارت کی بجائے پاکستان سے فرانزک تحقیقات کی مدد مانگی ہے اس پر پاکستان کے تین ماہرڈاکٹروں کی ٹیم سری لنکا پہنچ چکی ہے۔ یہ مدد بھارت سے کیوں نہیں مانگی؟ اس بارے میں بھارت اور سری لنکا میں صدیوں پرانی کش مکش اورفوجی محاذ آرائی کا پس منظر ایک بار پھر اُبھر آیا ہے۔ بھارت وزارت خارجہ نے کسی تحقیقات کے آغاز سے پہلے ہی ان دھماکوں کی ذمہ داری مسلمانوں پرڈال دی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس اداروں کا دعویٰ ہے کہ بھارتی صوبہ تامل ناڈو میں سرگرم ’’مسلمانوں کی دہشت گرد تنظیم‘‘ ’وحدت جماعت‘ ان دھماکوںمیں ملوث ہے اوریہ کہ اس تنظیم نے پچھلے برس تامل ناڈو اور سری لنکا میں بدھوں کے مجسموں کو نقصان پہنچایا تھا۔
 سری لنکا اور بھارت میں طویل عرصے سے محاذ آرائی کی اچھی خاصی تاریخ ہے۔ سری لنکا اور بھارت کے صوبہ تامل ناڈو سمندرکے درمیان کی مختصر پٹی موجود ہے اسے کشتیوں کے ذریعے آسانی سے عبور کیا جا سکتا ہے۔ سری لنکا میں 74 فیصد بدھ سنہالی، 13 فیصد ہندو، 10 فیصد مسلمان اور 3 فیصد عیسائی رہتے ہیں۔ ملک کی آبادی میں 17 فیصد تامل افراد شامل ہیں جو تامل ناڈو سے ہجرت کر کے یہاںآباد ہوئے۔ سری لنکا اوربھارت کے ہندو باشندوں میں فوجی محاذ آرائی قدیم زمانہ میں شروع ہوئی جب ہندوئوں کی تاریخی کتاب رامائن کے مطابق سری لنکا کا حکمران راجہ راون ہندو دیوتا رام چندر کی بیوی سیتا کو تامل ناڈو کے ایک جنگل سے مبینہ طور پر اغوا کر کے لے گیا اور ایک عرصے کے بعد رام چندر نے ہندوئوں کی ایک فوج کے ذریعے سری لنکا پر چڑھائی کر دی اور راون سے جنگ کر کے سیتا کو رہا کرایا تھا۔ سری لنکا کے مورخ اس داستان میں راون کے خلاف ہندوئوں کی الزام تراشی کو بالکل غلط قرار دیتے ہیں۔ ان مورخین کی تحقیق بتاتی ہے کہ بھارت کے جنگل میں سیتا راستہ بھول کر پریشان پھر رہی تھی۔ راون اس جنگل میں شکار کھیل رہا تھا۔ وہ نہائت انسان دوست، رحم دل انسان تھا۔ وہ ازراہ ہمدردی سیتا کولنکا لے گیا۔ اپنے محل کے ایک الگ حصے میں عزت و آبرو کے ساتھ رکھا اور ایک عرصے کے بعد اسے رام چندرکے حوالے کر دیا۔ میں نے رامائن کتاب پوری پڑھی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سیتا واپس آئی تو بعض لوگوں نے اس کی پاک دامنی کے بارے میںسوالات اٹھائے۔ اس پر سیتا نے ایک مجمع کے سامنے دُعا مانگی کہ بھگوان! اگر میں پاک دامن تو یہ زمین مجھے اپنے دامن میں پناہ دے دے۔ اس پر وہاں زمین پھٹ گئی۔ سیتا اس میں گر گئی اور زمین کے کنارے پھر آپس میں مل گئے۔ ان واقعات کے نتیجے میں بھارتی ہندوئوں اور سری لنکا کے بدھ باشندوں میں ہمیشہ سخت عداوت رہی ہے۔ سری لنکا میں مہاراجہ راون کی پیدائش کے حوالے سے جشن منایا جاتا ہے جبکہ بھارت میں دوسہرہ کے تہوار میں راون کے بُت کو نذر آتش کیا جاتا ہے۔ اب عصر حاضر کے کچھ حقائق۔ سری لنکا کے بھارت کی طرف واقع کونے میں تامل باشندوں کی اکثریت آباد ہے جو پوری ملکی آبادی کا 17 فیصد بنتی ہے اور بھارت کی حامی ہے۔ 37 برس پہلے بھارت نے اس حصے کو بھارت کا حصہ بنانے کی سازش کی اور سری لنکا میں’’لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام‘‘ (LTTE) کے نام سے ایک باغی تنظیم کھڑی کر دی اس نے سری لنکا سے علیحدگی کی مہم شروع کر دی۔ سری لنکا کی فوج نے اس کے خلاف کارروائی شروع کی تو بھارت نے تامل باشندوں کی ہلاکت کا جواز بنا کر سری لنکا کے اس علاقے میں فوج داخل کر دی اور یہاں کا انتظام سنبھال لیا۔ تقریباً 13 سال کی جدوجہد کے بعد بھارتی فوج کو واپس جانا پڑا۔ اس نے جانے سے پہلے ایل ٹی ٹی تنظیم کو مسلح کر کے بغاوت شروع کرا دی جو 26 سال جاری رہی۔ بالآخر سری لنکا کی درخواست پر پاکستان کی فوج نے وہاں جا کر بغاوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ سری لنکا کی ریاست اس پر ہمیشہ پاکستان کی احسان مند رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے بھارت کی بجائے پاکستان سے لاشوں کی شناخت کے لئے ماہرین کی مدد مانگی ہے۔سری لنکا کی داستان زیادہ وقت لے گئی اب کچھ دوسری باتیں:
٭شیخ رشید نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ عمران خان کی کابینہ کے کچھ لوگ ’’میچور‘‘ (بالغ ذہن) نہیں ہیں، انہیں عقل اور شعورکی تربیت دینے کے لئے میں اب اکثر وزیراعظم ہائوں جایا کروں گا۔ ظاہر ہے شیخ رشید کو عصر حاضرکا عظیم ترین دانش مند (چرچل!) ہونے کا دعویٰ ہے۔ موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وزیراعظم سے اس کارخیر کی اجازت حاصل کر لی ہے بلکہ یہ کہ کیا وہ وزیراعظم کو بھی عقل و دانش کی تربیت دیںگے؟ مزید یہ کہ یہ تربیتی کلاس کیسی ہوگی؟ کسی کمرے میں وزیروں کو بنچوں پر بٹھا کر عقل سکھائی جائے گی؟ ہاتھ میں چھڑی بھی ہو گی؟
٭دلچسپ خبر! سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظوروٹوایک عرصے سے فارغ ہیں۔انہوں نے فراغت کا ایک  دلچسپ مشغلہ تلاش کر لیا ہے کہ چاروں صوبوںکے سابق وزرائے اعلیٰ کے حقوق کے تحفظ کی ایک یونین قائم کر لی ہے اس کا گزشتہ روز لاہورکے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اجلاس بھی طلب کرلیا گیا۔ اس اجلاس میں شرکت کیلئے پنجاب سے مصطفی کھر، دوست محمد، شہباز شریف، نواز شریف، پرویز الٰہی، سندھ سے ارباب رحیم، لیاقت جتوئی، سید قائم علی شاہ، خیبر پختونخوا سے اکرم درانی، آفتاب شیرپائو، صابر شاہ، بلوچستان سے اسلم رئیسانی، ڈاکٹر مالک، اختر مینگل، ثناء اللہ زہری اور وزارت اعلیٰ سے محروم ہونے والے دوسرے افراد کو بلایا گیا۔ اس یونین کا ایجنڈا اور اجلاس کی تفصیل آج اخبارات میں آجائے گی۔ غالباً یہ سارے لوگ سخت بے روزگاری اور تنگ دستی کا شکار ہو چکے ہیں۔ گزارا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ انہیں باقاعدہ تنخواہ دی  جائے سابق سرکاری گاڑیاں واپس کی جائیں۔ ان کے بچوںکی اچھی تعلیم اور ملازمتوں کا انتظام کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ! بے چارے مظلوم لوگ!!
٭زرداری خاندان الجھتا چلا جا رہا ہے۔ اومنی گروپ کے جعلی اکائونٹس کیس میں گرفتارشدہ چار اہم ملزموں نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواستیں دے دی ہیں۔ زرداری خاندان کے کاروبار سے وابستہ اب تک دس گیارہ بڑے نام زیرحراست آ چکے ہیں۔ گزشتہ روز نوڈیرو کے زرداری ہائوس کے نگران ندیم بھٹو کو گرفتار کیا گیا اس نے صاف صاف بیان کیا کہ زرداریوں کے لئے وہ منی لانڈرنگ کیا کرتا تھا۔ حسب معمول زرداری ہائوس کے ترجمان کا بیان آ گیا ہے کہ ندیم بھٹو نام کے کسی شخص کا زرداری خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔


 

تازہ ترین خبریں