08:39 am
اللہ کی کبریائی اور انذار آخرت

اللہ کی کبریائی اور انذار آخرت

08:39 am

آج ہم نے سورۃ المدثر کا مطالعہ کرنا ہے۔اس کی ابتدائی آیات کے بارے میں رائے یہ ہے کہ یہ دوسری وحی ہے ۔نزولِ وحی کی تفصیل اس طرح سے ہے کہ 40 سال کی عمر میں حضرت جبرائیل ؑ آپؐ کے پاس غارِ حرا میں پہلی وحی لے کر آئے ۔چونکہ یہ آپؐ کے لیے پہلا تجربہ تھا تو اس کی وجہ سے آپؐ پر ایک گھبراہٹ سی طاری ہوگئی۔آپؐ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ الکبریٰ k سے کہا کہ مجھے لحاف میں لپیٹ دو۔ اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک دوبارہ وحی نہیں آئی۔یہ فطرتِ وحی کا پہلا دور کہلاتا ہے۔بعض روایات کے مطابق حضور ﷺ کے لیے یہ بہت ہی تکلیف دہ معاملہ تھا کہ وحی کیوں رک گئی۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ جب آپؐ اس حوالے سے بہت زیادہ پریشان ہوتے تھے تو جبرائیل آکر آپؐ کو تسلی دیتے تھے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔

تقریباً تین سال کے بعد دوبارہ وحی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس بارے میں نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک زور کی آواز آئی تو میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا‘عجیب و غریب شکل میں ایک بہت بڑی کرسی کے اوپر بیٹھا ہواتھا۔ اس مشاہدے کی بھی ایک عجیب سی دہشت آپؐ پر طاری ہو گئی۔ آپؐ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہؓ سے کہا کہ مجھے کوئی کمبل اوڑھا دو۔ اس کے فوراً بعدسورۃ المدثر کی ابتدائی سات آیات نازل ہوئیں۔ فرمایا:  ’’اے کمبل میں لپٹ کر لیٹنے والے (ﷺ)!آپؐ اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے۔‘‘
یہ بڑا محبت بھرااور مشفقانہ انداز ہے۔سورۃ المزمل میں یاایھا المزمل کے بعد قیام اللیل کا حکم تھا جو حضور اکرم ﷺ کے کندھوں پر آنے والی بھاری ذمہ داری کی تیاری کے لیے بہت ضروری تھا اور اب یہاں اس ذمہ داری کا ذکر ہے جو آپؐ پر ڈالی گئی ہے کہ کھڑے ہو جائو اور اب انذار شروع کر دو‘لوگوں کو خبر دار کرنا شروع کر دو۔
رسول کے ذمہ ابتدائی طور پر دو کام ہوتے ہیں۔سورۃ النساء‘ آیت165 میں فرمایا: ’’یہ رسول ؑ( بھیجے گئے) بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر۔‘‘زیر مطالعہ آیت میں رسول اللہ ﷺ  کو ابتدائی طور پر انذار کا حکم دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بشارت اور انذار میں سے انذار زیادہ اہم ہے۔ انذار اور ڈرانا اُس بڑی خبر کے بارے میں  ہے جوموت کی سرحد کے پار ہے۔ موت پر خاتمہ نہیں ہے‘بلکہ تم دوبارہ اٹھائے جائو گے اور پھر تمہارا حساب ہو گا۔یہ نہ سمجھو کہ اس دنیا میں بظاہر جو شخص مال و دولت اور اعلیٰ حیثیت کی وجہ سے کامیاب رہاتووہ انجام کے اعتبار سے بھی کامیاب رہے گا۔اگروہ راہِ راست پر نہیں ہے تو وہ انتہائی بد نصیب ہے اور جہنم کا عذاب اس کا منتظر ہے۔آج ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو بھی اس حوالے سے خبر دار کیا جائے کیونکہ آج مسلمانوں کی اکثریت اسی دنیا کی کامیابی کو کامیابی سمجھتی ہے اور آخرت کے بارے میں سوچنا ایک دقیانوسی عمل بن چکا ہے۔
خوشخبری ان کے لیے ہے جن کی آنکھیں کھل جائیںاور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں۔ ایسے لوگوں کے لیے بشارت ہی بشارت ہے کہ اُن کے لیے ابدی راحتیں ہوں گی اور وہ انعامات ہوں گے جن کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اصل بشارت یہ ہے کہ آخرت کی کامیابی کا پروانہ مل جائے۔
اگلی آیت میں نبی اکرمﷺ کے مشن کا تذکرہ ہے‘فرمایا’’اور اپنے رب کو بڑا کرو!‘‘سورۂ بنی اسرائیل کے آخر میں فرمایا: ’’اُس کی تکبیر کرو جیسے کہ تکبیر کرنے کا حق ہے‘‘۔اللہ تو بڑا ہے لیکن اس دنیا میں ہم اسے بڑا نہیں مانتے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سارے جہاں میںاللہ ہی کی حاکمیت ہے اوروہی دعائوں کو سننے اور قبول کرنے والا ہے، وہی مشکل کشا ہے‘وہی حاجت روا ہے ‘ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور کسی کو اس نے اختیار میں کوئی حصہ نہیں دیا۔یہ ہے اللہ کی بڑائی کا اعلان!اس ضمن میںہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ختم نبوت کے بعد لوگوں کو خبردار کرنا(انذار) میری اور آپ کی ذمہ داری ہے اور ساری دنیا میں اللہ کو بڑا کر کے دکھانا یہ ہمارا مشن ہے۔ لیکن ہمیں پتاہی نہیں ہے اورپھر ہمیں بتایا بھی نہیں  جاتا اور اس کو ضرورت ہی نہیں سمجھاجاتا۔ اقبال نے کہا تھا:
وقتِ فرصت ہے کہاں ، کام ابھی باقی ہے
نْورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
 سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا دیا کہ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کام کے لیے منتخب کر لیا ہے جس کام کے لیے اس سے پہلے رسول منتخب کیے جاتے تھے۔لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ یہ رسولوں کا کام ہے۔ نہیں‘ یہ اب میری اور آپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ رب کی کبریائی کا اعلان کریں اور اس دنیا میں رب کو بڑا کر کے دکھائیں۔
 اگلی آیات میں فرمایا جارہا ہے کہ ’’اور اپنے کپڑوں کو صاف رکھنے کا اہتمام کیجئے۔‘‘
نجاست دو طرح کی ہوتی ہے:(1)حسی نجاست‘ اور (2)معنوی نجاست۔ حسی نجاست یہ ہے کہ جسم یا کپڑوں پر کوئی گندگی لگی ہوئی ہو‘اس سے تو بچنا ہی ہے۔ لیکن ایک معنوی نجاست ہے جس کا ذکراگلی آیت میں آ رہا ہے: ’’اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔‘‘
یہاں مراد شرک ہے اس لیے کہ سب سے بڑی گندگی شرک ہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں