08:41 am
  مودی کی نئی ہرزہ سرائی  اور محبوبہ مفتی

مودی کی نئی ہرزہ سرائی اور محبوبہ مفتی

08:41 am

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کی دھمکیوں میں آنے کی پالیسی ترک کرچکا۔راجستھان میں انتخابی ریلی سے خطاب میں مودی نے پاکستان کے خلاف گیدڑ بھبکیاں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کہتا ہے ہمارے پاس نیوکلیئر بٹن ہے۔مودی کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاس بھی نیوکلیئر بٹن ہے اور ہمارا نیوکلیئر بٹن دیوالی کے لیے نہیں ہے۔انیس سو اکہتر میں ہمارے جوانوں نے جنگ جیت لی تھی،لیکن اس کے بعد بھارت کی سرکار نے شملہ میں جا کر وہ سب کچھ گنوا دیا جو کہ ہمارے  جوان جیت کر لائے  تھے۔دنیا بھر سے بھارت پر دباو پڑا اور سرکار ایسی کانپ گئی کہ سرکار نے سب کچھ گنوا دیا، اگر اس وقت مودی ہوتا تو ایسا ہوتا کیا؟سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے  کہ نریندر مودی انتخابات میں کامیابی کیلئے پاکستان پرپھر حملہ کرسکتے ہیں،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ کا کہنا  درست ہے کہ بی جے پی اپنی ڈوبتی کشتی بچان کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اورانتخابات میں کامیابی کیلئے پاکستان پر ایک اور حملہ کرسکتی ہے۔

        بھارتی سرپھرے وزیر اعظم نریندر مودی کوش خطابت میں یہ بات فراموش کرچکے ہیں کہ پاکستان نے اس کی اس ایٹمی قوت کے اظہا رکا جواب ایک دو نہیںاس سے زائد ایٹمی ھماکوں سے جواب دیا تھااگر وہ کسی بھی وقت اپنے حواس کھوکر ایسا کچھ کر بیٹھنے کا سوچتے بھی ہیں تو پاکستان اس کا جواب کسی دیوالی  سے پہلے ہی دیا جاسکتا ہے ۔  
  دوسری طرف سابق کرکٹر اور کانگریس کے رہنما نوجوت سنگھ سدھو نے بھی مودی کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے دو توک الفاظ میں کہا  کہ وزیراعظم نریندرا مودی جھوٹے شخص ہیں اور لمبی لمبی پھینکنے میں نمبر ون ہیں۔یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ  بھارت میں نریندرامودی کی حکومت تمام محاذوں پرناکام ہو چکی ہے اس لیے بھارت عام انتخابات میں ووٹرکواپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے بالا کوٹ جیسا ایک اورحملہ پاکستان پرکرسکتا ہے جب کہ اس سلسلے میں بالخصوص مسلمانوں اوردوسری اقلیتوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے وزیراعظم نریندر مودی کے ہیلنگ ٹچ ریمارکس پر اپنے ردعمل میں اسے کشمیریوں کی تذلیل کے مترادف قرار دیا ۔
یہ حیرت کا مقام ہے کہ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشوں اور شاہراہ پر عام شہریوں کی نقل و حمل پر قدغن کو کس طرح ہیلنگ ٹچ کا نام دیا جائے۔ یہ انتہائی حیرانگی کی بات ہے کہ اہل خانہ کو مسخ شدہ لاشیں بھیجنا ، سرینگر جموں شاہراہ کو عام شہریوں کی نقل و حمل کے لیے بند کردنیا اور کشمیریوں کو گرفتار اور ذلیل کرنا کہاں کا ہیلنگ ٹچ ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک انٹرویومیں کہا تھاکہ ہم کشمیر، جموں اور لداخ کے لوگوں کو ہیلنگ ٹچ جبکہ علیحدگی پسندوں اور ملی ٹینٹوں کو ہٹنگ ٹچ دیں گے۔بھارتی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں مودی نے کہا ہم ہیلنگ ٹچ کے لئے تیار ہیں لیکن کشمیر، جموں اور لداخ کے لوگوں کے لئے ہیلنگ ٹچ جبکہ جنگجوئوں کیلئے ہٹنگ ٹچ ہوگا لیکن کانگریس اور علاقائی جماعتوں کاالٹا فارمولہ ہے وہ بھارتی حکومت کو ہٹنگ ٹچ دینا چاہتے ہیں۔
نریندر مودی کی اپنی اس یاوہ گوئی اور پاکستان کے مخالف ہرزہ سرائی پر بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر ہیں اور ہر روز ان کے بیان پر حزب اختلاف ساری دنیا کو انکے جھوٹ سے آگاہ کرتی ہے خود بھارتی عوام بھی اس دروغ گوئی پر انہیں استہزا کا نشانہ بناتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی سابق خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی  اعتراف کرچکی ہیں کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج چھوٹے بچوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ان کے بقول مقبوضہ کشمیر کا وزیرِ اعلیٰ بننا آسان ہے لیکن اس کے بعد وہاں کے معاملات سنبھالنا بہت مشکل ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی کارروائیاں مسلح حریت پسندوں کے نہیں بلکہ ان چھوٹے بچوں کے خلاف جاری ہیں جو احتجاج کررہے ہیںتاہم جب وہ وزیر اعلیٰ تھیں اور بھارتی حکومت کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہی تھیںتو  اس کے باوجود خاموش رہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال میں اس سے بہتر حکمتِ عملی کیا ہوسکتی تھی، تو جواب میں انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا کہ کوئی بھی حکومت اپنا فرض پورا کرنے کیلئے ان حالات میں اس سے بہتر کارکردگی نہیں دکھاسکتی تھی۔
 یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر یں کوئی بھی حکومت ہو کشمیری مسلمانوں پر عرضہ حیات تنگ ہ رہتا ہے ۔ آج مقبوضہ کشمیر میں ڈائلیسز کیلئے جانے والے کسی بزرگ کو یا کسی حاملہ خاتون کو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوئے بھارتی پولیس یا بھارتی فوجیوں سے خوف آتا ہے۔ محبوبہ مفتی، مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی اتحادی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ اور مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ مفتی محمد سعید مرحوم کی وہ بیٹی ہیں جنہیں کچھ عرصہ پہلے اپنے والد کی وفات کے بعد مقبوضہ کشمیر کا اقتدار تھالی میں سجا کر پیش کیا گیا تھا ۔آج وہ سچ بول رہی ہیں کل نریندر مودی کی باندی کا کردار ادا کررہی تھیں ۔کبھی وہ  مقبوضہ کشمیر میں خراب حالات کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سارا ملبہ پاکستان پر گراتی ہیں اور کبھی وہ لیکن یہ تسلیم کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتیں ہیںسابق بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں مقبوضہ کشمیر کے حالات پرامن تھے اور پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات جاری تھے لیکن 2004 کے انتخابات میں یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس(یو پی اے)کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ عمل رک گیا۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نیا سلسلہ 8 جولائی 2016 کے روز حریت پسند نوجوان برہان وانی کی شہادت کے بعد سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے جس دوران وہاں 90 سے زائد شہری شہید کئے جاچکے ہیں جبکہ پیلٹ گن کی فائرنگ سے معذور ہوجانے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں پہنچ چکی ہے ۔

 

تازہ ترین خبریں