08:42 am
  گنتی اور تول کا فرق !

گنتی اور تول کا فرق !

08:42 am

  مہنگائی میں بتدریج اضافے پر عوام پریشان ہیں ۔ حکومت سے امیدیں زیادہ لگا ئی گئی تھیں ۔ امیدوں کے مقابل اب تک کی  کارکردگی مایوس کُن ہے ۔ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں نے عوام میں حکومت کے متعلق منفی تاثر کو مزید پختہ کیا ہے ۔ خاص طور پر وزیر خزانہ کی عجلت میں رخصتی نے مہنگائی کے دیئے زخموں پر نمک ہی چھڑک ڈالا ہے۔ عوام میں بے چینی کی ایک وجہ کرپشن کے مشہور و معروف مقدمات بھی ہیں ۔ توقعات کے بر عکس نہ تو لوٹ کا مال بر آمد ہو پایا ہے ! نہ مقدمات منطقی انجام کو پہنچے ہیں ! نہ ڈھنگ کی تفتیش ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی  مجرم ثابت ہونے والوں کی سزائوں پر عمل درآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جن عدالتوں کے سرپر سزائیں سنانے کی پاداش میں  ناانصافی کی تہمت دھری گئی تھی آج انہی عدالتوں سے ضمانتوں اور سزائوں کی منسوخی پر فخریہ انداز میں فتح کے شا د یا نے  بجائے جا رہے ہیں ۔ حکمران جماعت کو ووٹ دینے والے عوام بجا طور پر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ البتہ سابق حکمران جماعتوں  پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جانب سے تنقید اور واویلے کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام دیکھنے کے لیے اس قدر بے تاب ہیں کہ کابینہ کی تبدیلیوں اور وزیر خزانہ کی رخصتی کو ہی  حکومت کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں۔

البتہ جمہوریت کی چیمپین جماعتیں یہ بیان کرنے سے قاصر ہیں کہ آئین کی کون سی شق کے تحت آٹھ ماہ کے بعد ہی ایک منتخب حکومت کو چلتا کر دیا جائے اور جیل میں قید سزا یافتہ سابق وزیر اعظم  کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر تا حیات براجمان کر دیا جائے؟  پی پی پی کا معاملہ کہیں زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ سندھ میں نالائقی اور بد عنوانی کے عالمی ریکارڈ قائم کر نے والی جماعت پورے ملک کی سیاسی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ بین البراعظمی بد عنوانی کے داغ ماتھے پر سجائے عوام کی خدمت کے دعوے کرنے کے لیے جس ڈھٹائی کا مظاہرہ پی پی پی کی  قیادت اور ترجمان کر رہے ہیں اُس کی مثال فی زمانہ دنیا بھر میں ملنا ممکن نہیں۔ مانا کہ پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالنے کے لیے تیاری نہیں کی  ! یہ بھی درست ہے کہ پی پی پی اور نون لیگ کے فصلی بٹیروں کے لیے الیکشن کے موسم میں پی ٹی آئی نے اپنے دروازے کھول کے اچھا نہیں کیا ‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان فصلی بٹیروں کی شمولیت کے بغیر الیکشن میں جیت ممکن بھی نہیں تھی۔  یہ پی پی پی ، نون لیگ اور پی ٹی آئی کا جماعتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سیاست کا المیہ ہے۔ فصلی بٹیروں کو ملکی سیاست پر مسلط کرنے کا سہرا پی پی پی اور نون لیگ کے سر ہی بندھے گا ۔
 بلاشبہ عوام کے شکوے شکایتیں بجا ہیں لیکن یہ تلخ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ الیکشن کے دن ذات ،  برادری ، علاقے اور زبان کی بنیاد پر کرپٹ اور بد دیانت امیدواروں کو ووٹ بھی ہم عوام ہی دیتے ہیں ۔ گزشتہ تیس برسوں میں اپنی گناہگار آنکھوں سے الیکشن کے میدان میں بارہا دیانت دار کے مقابل بد دیانت ، سچے کے مقابل جھوٹے ، عزت دار کے مقابل لچے لفنگے ، صاحب علم کے مقابل جاہل اور باکردار کے مقابل بد کرداروں کو فتح یاب ہوتے دیکھا ہے۔ ہم ملک میں بہتری چاہتے ہیں تو خود کو بھی بدلنا ہو گا ۔ الیکشن کے دن جیسے امیدواروں پر مہر لگائی ہے۔ ویسے ہی حکمران آج ملک پر مسلط ہیں ۔ پی ٹی آئی نے گنتی پوری کر لی ہے ۔ تول میں مار کھا گئی ہے ۔ نظام یہی ہے کہ پارلیمان میں منتخب ہو کے آنے والے بزر جمہروں کی گنتی کی جائے گی ۔ انہیں  تولا نہیں جائے گا۔ شاعر مشرق نے جمہوریت کی سبز پری کے اس نقص کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا
 اس راز کو اک مرد  فرنگی  نے  کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
معزز اراکین پارلیمان کو اگر تولا جائے تو کیا کیا پیمانے مقرر کیئے جائیں ؟ کردار کا پیمانہ ! گفتار کا پیمانہ ! دیانت ، امانت اور صداقت کا پیمانہ ۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں دو بڑی جماعتیں ماضی میں  اس بات پر متفق ہوچکی ہیں کہ آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ کی پاسداری ممکن ہی نہیں ۔ ذرا تیز ہوا چلنے پر جن نازک مزاج اراکینِ پارلیمان کا استحقاق مجروح ہو جاتا ہو وہ بد عنوانی کی کالک اور بد دیانتی کی غلاظت سر پر لاد کے عوام کی گردن پر سواری کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ۔ بدعنوانی کی کالک  اس جمہوریت کی سبز پری کا حسن ہے ۔ کمال یہ ہے کہ  وزراء  اور اراکین کی نالائقی کے طعنے حکومت  کو دینے والے نون لیگی چپڑ قناطیے اور پی پی پی کے نام نہاد جیالے اس بات پر ذرا شرم محسوس نہیں کرتے کہ انہیں جماعتوں کا سیاسی کچرا آج ملک کی گاڑی کے کاربوریٹر میں پھنسا ہوا ہے۔ پی پی پی کے شہزادے نے پھبتی کسی ہے کہ ہمارا وزیر خزانہ لے لیا ہے تو اب ہمارا وزیر اعظم بھی لے لو سب مسئلے حل ہو جائیں گے ۔
موصوف سے کوئی یہ پوچھے کہ اس وزیر خزانہ نے پی پی پی کے عہد میں ایسے  کیا تیر مارے تھے کہ جن پر فخر کیا جا سکے؟ موصوف کی واحد صلاحیت یہی ہے کہ وہ کل بھی عالمی مالیاتی اداروں کے ایجنڈے پر عمل درآمد پر مامور ہوئے تھے  اور آج بھی اسی مشن کی تکمیل کے لیے قدم رنجہ فرما چکے ہیں ۔ اپوزیشن کی ایک بات درست ثابت ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کوئی تبدیلی نہیں لا پائے گی ۔ واقعی ابھی تک نہ تو مہنگائی کم ہوئی ہے ۔ نہ گورننس بہتر ہوئی ہے ۔ نہ لوٹ کا مال بر آمد ہوا ہے ۔ نہ پارلیمان چوروں اچکوں سے پاک ہوئی ہے ۔ نہ قرضے لینے کا چلن بدلا ہے ۔ نہ عوام کے حالات بدلے ہیں ۔ ہر برائی بالکل اُسی طرح موجود ہے جیسے نون لیگی حکومت چھوڑ کے گئی تھی ۔ اگر یہی نون لیگ اور پی پی پی کی کامیابی کا پیمانہ ہے تو تُف ہے ایسی سیاست پر ۔ ایک ذرا سی تبدیلی البتہ محسوس کی جاسکتی ہے! وزیر اعظم نے سابقہ ڈھیٹ حکمرانوں کے بر عکس اپنی کابینہ کے ارکین کو آٹھ ماہ میں ہی جھٹکا دے دیا ہے۔ وزیر خزانہ مستعفی ہوا ہے ملک سے بھاگا نہیں ہے ۔ معیشت کی گردن  آئی ایم ایف کے اناکونڈا  کی گرفت میں ہے ۔ جان چھوٹتے چھوٹتے ہی چھوٹے گی۔ نون لیگ اور پی پی پی کے پاس کوئی متبادل منصوبہ ہو تو خوشی سے پیش کریں ۔ تنقید ان کے منہہ سے اس لیے نہیں جچتی کہ قوم کی گردن اناکونڈا کی گرفت میں دینے کا کے جرم میں ان دونوں جماعتوں کا بڑا حصہ ہے۔ قوم کو اپنی سوچ اور طرز عمل بدلنا ہو گا ۔  ووٹ دینے سے پہلے امیدوار کو اچھی طرح تول لیا جائے  تو بعد میں  رونا نہ پڑے!    

 

تازہ ترین خبریں