08:44 am
تاریخی کرسی‘ ریٹائرڈ ملازمین اور ریلوے کی ترقی؟

تاریخی کرسی‘ ریٹائرڈ ملازمین اور ریلوے کی ترقی؟

08:44 am

حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ جب ڈی ایس آفس کراچی سٹی میں ریلوے افسران سے خطاب کرنے کے لئے تشریف لائے تھے تو وہ اس کرسی پر بیٹھے تھے ۔  ہم نے چونک کر اس تاریخی کرسی کی طرف دیکھا تو محمد  جنید اعوان نے ہماری حیرت سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنے دفتر کی چھت سے لٹکے پنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پنکھے بھی تقریباً سو سالہ پرانے ہیں‘ پھر انہوں نے ڈی ایس آفس کراچی سٹی کے فسٹ فلور کے کمرے میں موجود دیگر ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کہ جو کاٹھ کباڑ کے مناظر پیش کررہا تھا کے بارے میں بتایا کہ یہ سارا فرنیچر بھی انگریزوں کے دور سے ہی چلا آرہا ہے۔ قائداعظم ؒ جس کرسی پر تشریف فرما ہوئے تھے اس کرسی کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن باقی کاٹھ کباڑ بنے فرنیچر کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ جیسے پاکستان ریلوے کو بھی ’’چندے‘‘ کی ضرورت ہے جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید تو کروڑوں روپے کمانے کے دعوے کررہے ہیں۔ نئی نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں ‘ آخر یہ سب کیا ہے؟  جنید اعوان یوں گویا ہوئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ریلوے ایک اہم قومی ادارہ اور اس ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ امن ہو یا جنگ‘ آندھی ہو یا طوفان‘ سردی ہو یا گرمی‘ دن ہو یا رات ہر حال میں ریلوے کا ملازم ریل کے پہیے کو رواں رکھنے کے لئے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ ریلوے کے پہیئے کو دن رات‘ سردی‘ گرمی میں رواں رکھنے والے غریب ملازمین کے ساتھ ریلوے افسران کیا حسن سلوک  کرتے ہیں ذرا چند جھلکیاں اس کی بھی ملاحظہ فرمائیں۔ صرف کراچی ڈویژن میں 257 ملازمین ریٹائرڈ ہوئے ہیں ان میں2017 ء میں ریٹائر ہونے والے ملازمین بھی شامل ہیں انہیں ابھی تک چیک جاری نہیں کیے گئے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ ہے کہ 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کو فوراً چیک جاری کیے جائیں۔ اب ریلوے افسران کو سپریم کورٹ کے احکامات کی اس کھلی خلا ف ورزی سے کون روکے؟

ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی گریجویٹی کی مد میں29 کروڑ23 لاکھ18 ہزار  روپے آج بھی واجب الادا ہیں۔ جی پی فنڈ کی مد میں5 کروڑ50 لاکھ 73 ہزار روپے‘ پنشن ریسٹوریشن اور ایئریز کی مد میں ایک کروڑ35 لاکھ52 ہزار روپے‘ دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کی بیوائوں کو ادا کرنے کے لئے 3کروڑ89 لاکھ روپے۔ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ایک ماہ کی بیسک تنخواہ کی رقم کی مد میں2کروڑ86 لاکھ84 ہزار روپے‘ بیوائوں کو ملنے والے بینوولنٹ فنڈ کی مد میں ایک کروڑ دو لاکھ دس ہزار روپے آج بھی واجب الادا ہیں۔ جب ساری زندگی ریلوے کی خدمت کرکے ریٹائر ہونے والے بوڑھے ملازمین‘ دوران ملازمت انتقال کر جانے والے ملازمین کی بیوائیں اور بچے ریلوے افسران سے ان مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں جواب دہشت گردی اور دیگر دفعات کی ایف آئی آرز کی صورت میں ملتا ہے۔
شریک محفل مبین ایوب نے ریٹائر ملازمین اور بیوائوں کے ساتھ کیے جانے والے اس ’’حسن سلوک‘‘ کی تفصیلات  سننے کے بعد بے اختیار ہوکر پوچھا کہ کیا ان سارے معاملات سے  شیخ رشید ناواقف ہیں؟ وہ بولے شیخ رشید ہی نہیں بلکہ خواجہ سعد رفیق جب وزیر ریلوے تھے وہ بھی اس ساری تکلیف دہ صورتحال سے مکمل باخبر تھے لیکن وفاقی وزیروں کی اس ’’خبریت‘‘ کا غریب ملازمین  کی حالت زار پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ محمد جنید اعوان نے سابقہ ن لیگی حکومت کے ایک اور کارنامے سے ہمیں آگاہ کیا کہ تو ہم ن لیگی حکومت کی ’’علم دوستی‘‘ کے دل سے قائل ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ن لیگی حکومت تمام قوانین اور سپریم کورٹ کے احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے2015 ء میں ریلوے بوائز/ گرلز  سیکنڈری سکول کراچی کینٹ کو ایک این جی او‘ ٹی سی ایف کے حوالے کر دیا تھا جس میں تقریباً1500 بچے اور بچیاں زیرتعلیم ہیں۔ فیس کی مد میں تقریباً5 لاکھ روپے ماہانہ این جی او  انتظامیہ وصول کررہی ہے جبکہ نہ صرف سکول کی عمارت ریلوے کی ملکیت ہے بلکہ ٹیچرز کی تنخواہوں سے لے کر بجلی اور پانی کے بلز تک ریلوے ادا کررہی ہے۔
 دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود رمضان شریف میں شہر کراچی میں بڑے بڑے سائن بورڈز اور بینرز لگاکر مسلمانوں سے زکوٰۃ‘ صدقات اور عطیات وصول کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے ‘ رشید تو ہیں کہ وہ ’’شیخ‘‘ بھی ہیں۔ لہٰذا ریٹائرڈ ریلوے ملازمین ‘ بیوگان اور ان کے بچوں کے غصب شدہ حقوق کی ادائیگی کا ان سے مطالبہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن وہ ہمارے مطالبے پر غریب ملازمین کو ان کی غصب شدہ رقم ادا کرنے کے پابند بالکل بھی نہیں ہیں۔ ہاں البتہ انہیں نیب ‘ نیب کھیلنے کا چونکہ شوق ہے اس لئے وہ ریلوے سکول کراچی کینٹ والا کیس نیب اور ایف آئی اے کے سپرد کر دیں تو وہ انکوائری کرکے قوم کو بتائے کہ ٹی سی ایف انتظامیہ کروڑوں روپے زکوٰۃ ‘ عطیات فنڈز کہاں  خرچ کرتی ہے؟اگر ریلوے افسران یا دیگر اپنا موقف دینا چاہیں تو اس خاکسار کا کالم حاضر ہے۔

 

تازہ ترین خبریں