08:44 am
قومی اسمبلی میں  ایک اور بے قابو ہنگامہ!

قومی اسمبلی میں ایک اور بے قابو ہنگامہ!

08:44 am

٭وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران! رسمی مشترکہ اعلامیہ، تعاون کے رسمی معاہدے!O قومی اسمبلی، ایک دوسرے کیلئے ’’شائستگی، خوش کلامی‘‘ کے نئے معیارات O ایران کے تیل پر مزید پابندیاں، عالمی سطح پر مزید  مہنگا، پاکستان میں 5 روپے لٹر اضافہ کا امکان 46Oرکنی کابینہ: 24 وزیر، پانچ وزرائے مملکت، 4 مشیر 13 معاونین خصوصی (17 غیر منتخب ارکان)O سری لنکا کی بندرگاہ چین کے قبضہ میں، بحری فوجی اڈا O وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد کی قرارداد O پاکستان کو آئی ایم ایف کی امداد رکوانے کی بھارتی کوششیں۔

٭وزیراعظم عمران خاں کا تقریباً ڈیڑھ دن کا رسمی دورہ ایران، رسمی استقبال، ملاقاتیں، مشترکہ اعلامیہ! ایران نے اوڑمارہ میں ایرانی دہشت گردوں کے ہاتھوں 14 پاکستانی افراد کی شہادت پر افسوس کا رسمی اظہار بھی نہ کیا۔ اعلامیہ میں 950 کلو میٹر سرحد پر دونوں ممالک کی مشترکہ گشت پر اتفاق رائے! جو پہلے ہی موجود تھا! تہران کے ہوائی اڈے پر پاکستان کے وزیراعظم کا خیر مقدم وزیر صحت نے الوداع وزیر تعلیم نے کیا۔ (سعودی عرب کے ولی عہد کا استقبال وزیراعظم پاکستان نے خود کیا تھا)۔ وزیراعظم پاکستان کے اعزاز میں  ایوان صدر میں گارڈ آف آنر بھی عام بات تھی۔ ایک بات کا پھر اعادہ کیا گیا کہ ایک دوسرے کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ یہ اعلان بار بار ہوتا رہاہے۔ اس پر عمل یوں ہوتا رہا کہ پچھلے دور میں ایران کے صدر کی پاکستان میں آمد سے ایک دن پہلے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں عرصے سے پاکستان کے خلاف سرگرم بھارت کا تخریب کار جاسوس کل بھوشن پاکستان کی سرزمین پر پہنچ کر پکڑا گیا۔ وہ اس سے پہلے بھی بار بارپاکستان آ چکا تھا (ایرانی حکام ہر بار بے خبر تھے؟) اور اب پاکستان کے وزیراعظم کے دورے سے صرف دو دن پہلے ایران کے 14 وردی پوش دہشت گردوں نے پاکستان میں بسیں روک کر پاک افواج کے 14 اہلکار شہید کر دیئے۔ ایران نے کسی مذمت یا افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ پاکستان کے وزیرخارجہ نے فون کیا تو ایرانی وزیرخارجہ نے رسمی افسوس کا اظہار کر دیا۔ سفارتی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ ایران  سے صرف 24 گھنٹے پہلے ایران کے سفیر کو بلا کر سخت مذمت اور غم و غصہ کا مراسلہ دیا گیا! ایران نے کوئی جواب نہیں دیا! پاکستان کے اس دورہ ایران کو سعودی عرب یا عرب امارت نے کوئی اہمیت نہیں دی، کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا۔
٭گزشتہ کالم میں سری لنکا اور بھارت میں سخت کشیدگی کے کچھ تاریخی اسباب بیان کئے تھے۔ آج ایک بڑی وجہ بیان کر رہا ہوں جو دونوں ملکوں میں کشیدگی کی اہم ترین اور مستقل اہمیت اختیار کر گئی ہے۔سادہ الفاظ میں یہ وجہ یوں ہے کہ چین نے بھارت سے صرف چنددرجن کلو میٹر دور سری لنکا کی دوسری سب سے بڑی اور عنقریب جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی (گوادر سے بھی بڑی) بندرگاہ ’’ہمبن ٹوٹا‘‘ (Humban TOTA) پر عملی طور پر قبضہ کر لیا ہے اور اس بندرگاہ کو چینی بحری فوج کے مستقل اڈے کی شکل دی جا رہی ہے۔ یہ بھارت کے سینے پر مونگ دلنے والی بات ہے۔ بھارت اس بندرگاہ کا مکمل انتظام چین کے ہاتھوں میں چلے جانے پر سری لنکا کو بار بار سخت انتباہ کر چکا ہے مگر یہ معاملہ سری لنکا کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اس کہانی کی تفصیل یوں ہے:
٭سری لنکا ایک بڑا جزیرہ ہے (آبادی دو کروڑ 10 لاکھ) چاروں طرف سے خلیج بنگال اور بحیرہ عرب کے سمندر سے گھرا ہوا ہے۔ اس کی سات بندرگاہیں ہیں جن میں کولمبو کے بعد ’ہمبن ٹوٹا‘ دوسری بڑی بندرگاہ ہے۔ سری لنکا کی سنہالی زبان میں ٹوٹا بندرگاہ کو کہتے ہیں۔ ہمبن کا علاقہ بھارت کے صوبہ تامل ناڈو سے چند درجن کلو میٹر دور ہے۔ یہ علاقہ ابتدا سے ہی بالکل بنجر اور ویران تھا۔ اب بھی اس کی کل آبادی محض 10 ہزار ہے اس میں نصف تعداد چینی اور مقامی انجینئروں اور محنت کشوں کی ہے۔ چین کی دور رس نگاہوں نے اس علاقے کو اپنے عسکری استعمال میں لانے کا منصوبہ بنایا اور سری لنکن حکومت کو اس علاقے کی بہتری کے نام پر بھاری سود والی بہت بھاری امداد پیش کی جو حکومت نے قبول کر لی۔ اس امداد کی ایک اہم شق یہ تھی کہ سری لنکا اگر مقررہ مدت میں اس رقم کی  ادائیگی نہ کر سکاتو چین اس بندرگاہ کا مستقل انتظام سنبھال لے گا۔ اور یہی ہوا! لنکا کی حکومت مقررہ مدت میںیہ قرضہ واپس نہ کر سکی اور چین نے اس کا مستقل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔(گوادر!!) اس بندرگاہ کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے نہائت گہرے پانی میںبڑے جنگی جہازوں سمیت بیک وقت 33 بڑے بحری جہاز آ سکتے ہیں۔ چین نے اس مقام پر بہت بڑے بحری فوجی اڈے کی تعمیر بھی شروع کر دی ہے۔ وہ اس علاقے میں ایسٹ انڈیا کمپنی والے طریقے سے آ رہا ہے۔ ایک انگریز ڈاکٹر نے شاہ جہاں کی بیٹی کا علاج کیا اور نقد فیس کی بجائے ہندوستان میں تجارت کے حقوق حاصل کر لئے…بعد کی داستان تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔
٭اسمبلیاں خاص نوعیت کیے ادارے ہیں۔ ان میں آنے کے لئے کسی تعلیم، تجربے، کسی خاص عقل و عانش، حتیٰ کہ کسی تہذیب و شائستگی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی تبصرہ کے بغیر صرف دو باتیں:۔
O ’’مولا بخش چانڈیو زرداری کا درباری اور سیاسی یتیم ہے‘‘ معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان۔
O ’’وزیراعظم کٹھ پتلی، نااہل اور نالائق ہے‘‘ :بلاول زرداری!
 کسی تبصرہ کے بغیر صرف اطلاع کہ بلاول کی عمر30 سال، والد زرداری کی عمر 64 سال اور عمران خان کی عمر 66 سال ہے (بلاول کے باپ کی عمر سے بھی زیادہ)
٭امریکہ نے ایران کے تیل کی خریداری پر پابندی لگا رکھی ہے صرف بھارت، چین، ترکی، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت آٹھ ممالک کو استثنا حاصل تھا، دو مئی سے اسے بھی ختم کر دیا ہے۔ اس سے ایران کے تیل کی برآمد مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔ اس اعلان پر فوری طور پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ بھارت سارا تیل ایران سے خریدتا ہے (پاکستان بالکل نہیں خریدتا) پاکستان میں تیل کی قیمت میں پانچ روپے لٹر تک اضافہ کا امکان ہے۔
٭پاکستان کی تاریخ نے بہت سے دور دیکھے ہیں، غیر ملکی سایہ تلے جمہوریت، آزاد جمہوریت، مارشل لا، فوجی صدارت، کنٹرولڈ جمہوریت، آمرانہ جمہوریت! جمہوری آمریت وغیرہ مگر اس وقت نئی قسم کا نظام سامنے آ رہا ہے۔ 46 رکنی کابینہ میں چار غیر منتخب مشیر اور 13 معاونین خصوصی خاص بات یہ کہ یہ معاونین اور مشیر خزانہ اور اطلاعات جیسی اہم وزارتیں چلا رہے ہیں۔24 منتخب وزراء اور 17 غیر منتخب ’’وزراء‘‘! مزید یہ کہ مشیر کو وزیر کا درجہ دیا جا رہا ہے حالانکہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ مشیر کو وزیر کا عہدہ یا اختیارات نہیں دیئے جا سکتے!
٭وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک بار پھر اپنی پارلیمانی پارٹی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے۔ یہ ضرورت کیوں پیش آئی؟ دوسری طرف گورنر صاحب بھرپور سیاست کر رہے ہیں۔ پہلے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین پر سخت تنقید کی کہ کابینہ کے اجلاس میں کیوںبیٹھتے ہیں۔ اب گورنر چودھری محمد سرور پیچھے پڑ گئے ہیں کہ سارا کام جہانگیر ترین نے ہی کرنا ہے تو کیا ہم نے آلو چنے بیچنے ہیں؟ محترم گورنر صاحب! آئین پڑھ لیجئے! آپ کے لئے واقعی کوئی کام نہیں رکھا گیا!
٭رمضان المبارک کی آمد ہے۔ ہر سال اس موقع پر اس کالم کے ذریعے ایک کمرے میں رہنے والے کچھ نہائت غریب گھرانوں کو رمضان المبارک کے پورے مہینے کے لئے راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ان گھرانوں کا پتہ اور تفصیل میرے فون نمبر 0333-4148962) )کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

تازہ ترین خبریں